ہوم   > پاکستان

پی ٹی اےکی بائيوميٹرک مشينوں کا ڈيٹا خطرے ميں

SAMAA | - Posted: Jan 17, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jan 17, 2020 | Last Updated: 1 month ago

سمزجرائم پیشہ افرادکوفروخت ہوتی ہیں

پی ٹی اے نے ہيکرز اور جعلسازی سے بچنے کيلئے کئی اقدامات کئے لیکن اب پی ٹی اے کی سوا لاکھ سے زائد بائيوميٹرک مشينز کا ڈيٹا خطرے ميں ہے۔ پی ٹی اے حکام نے سينيٹ قائمہ کميٹی برائے آئی ٹی کو بريفنگ میں بتایا ہے کہ صرف سرگودھا سے غير قانونی طريقے سے فعال کی گئیں 74 ہزار سمز بلاک کردی گئی ہیں۔

پی ٹی اے حکام نے سينيٹ قائمہ کميٹی کو بتايا ہے کہ جعلسازوں کا سب سے بڑا گروپ سرگودھا سے آپريٹ ہورہا ہے۔ یہ گروہ عام لوگوں کوچکما دے کر ان کے نام پر کئی سميں رجسٹرڈ کروا ليتا ہے اور کسی کو پتہ تک نہيں چلتا۔

صرف سرگودھا سے ايک سال ميں 74 ہزار ايسی سميں پکڑی گئيں جو پی ٹی اے کے سسٹم ميں غير قانونی طريقے سے رجسٹرڈ کی گئی تھيں۔

اس غير قانونی دھندے کو پيس کا نام ديا جاتا ہے۔ ملزمان اين جی او کے نام پر فراڈ کرتے ہیں اور بار بار انگوٹھا مشين ميں لگانے کا کہہ کر دھوکا دہی سے سميں رجسٹرڈ کرتے ہيں۔

اس کے علاوہ دوسرا طريقہ یہ بھی ہےکہ انگوٹھے کے نشان کوموبائل اسکينرز يا خاص سافٹ وئير کے ذريعے ٹريس پيپر پر اتارا جاتا ہے اور پھر اسٹيمپ بنا کر سميں بائيوميٹرک کے ذريعے فعال کردی جاتی ہیں۔ يہ سميں 1800 روپے سے 4000 روپے ميں جرائم پيشہ افراد کو فروخت کردی جاتی ہے۔

آئی ٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ غير قانونی سميں گيٹ وے ايکسچينجز ميں کام آتی ہیں اور ان کا کوئی ريکارڈ نہيں ہوتا۔ پی ٹی اے کے مطابق پاکستان ميں غيرقانونی طريقے سے ايکٹيو کی گئيں 2 لاکھ سميں بند کی جاچکی ہيں۔ پونے 2لاکھ بائيو ميٹرک مشينوں ميں سے صرف 38 ہزار ہی لائيو ڈيٹيکٹنگ کی صلاحيت رکھتی ہیں۔

پی ٹی اے نے کمپنيوں کو ستمبر2020 تک اپنی تمام ڈيوائسز لائيو کرنے کی ہدايت کردی ہے۔

WhatsApp FaceBook
PTA

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube