ہوم   > پاکستان

پانچ سال سے پورا بجٹ نہیں ملا، سندھ پولیس

SAMAA | - Posted: Jan 16, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jan 16, 2020 | Last Updated: 1 month ago

فنڈ نہ ہونے سے منصوبے ٹھپ

سندھ حکومت کی جانب سے پولیس چیف پر الزامات اور عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ سامنے آنے کے بعد سندھ پولیس نے بھی چارج شیٹ پیش کردی۔

پولیس رپورٹ کے مطابق سندھ حکومت نے 5 سال سے پورا بجٹ نہیں دیا۔ یہاں تک کہ پولیس شہدا کیلئے 300 ایکٹر زمین بھی الاٹ نہیں کی گئی۔ بار بار بجٹ مانگنے پر شنوائی نہیں ہوئی۔ گاڑیوں اور اسلحہ کیلئے رقم جاری نہیں کی گئی۔ بجٹ نہ دینے سے 48 اسکیمیں نامکمل ہیں۔

پولیس کی کارکردگی کے بارے میں لکھاگیا کہ اسٹریٹ کرائمزمیں7 فیصد کمی آئی اور 23 فیصد سے زائد مقدمات درج ہوئے۔ پولیس میں سزاؤں میں 44 فیصد اضافہ ہوا۔ پولیس نے 41 فیصد مفرورملزمان کو بھی گرفتارکیا۔

چارج شیٹ میں یہ بھی لکھاگیا ہے بعض نا اہل اور کرپٹ پولیس افسران کو ہٹانے کیلئے وزیراعلیٰ کو متعدد بار خط لکھے مگر جواب نہ آیا۔

قبل ازیں ڈی آئی جی شکارپور نے آئی جی سندھ کو بھیجے گئے ایک خفیہ رپورٹ میں انکشاف کیا کہ صوبائی وزیر امتیاز شیخ جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امن و امان خراب کرنے کے ذمہ دار سردار اور بااثر سیاسی افراد ہیں۔ صوبائی وزیر امتیاز شیخ سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیے کرمنل ونگ کا استعمال کرتے ہیں اور جرائم پیشہ عناصر کے ذریعے سیاسی مخالف شاہنواز بروہی کے بیٹے کو قتل کرایا۔

پولیس رپورٹ کے مطابق امتیاز شیخ پولیس میں اہم عہدوں پر من پسند افسران تعینات کراتے ہیں جس کی وجہ سے پولیس کے کئی خفیہ آپریشن معلومات لیک ہونے کے باعث ناکام ہوئے۔

شکارپور پولیس نے اپنی رپورٹ میں شواہد کے طور پر امتیاز شیخ کے بھائی مقبول شیخ اور بیٹے فراز شیخ کا جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کا ریکارڈ بھی شامل کیا ہے جبکہ امتیاز شیخ اور جرائم پیشہ عناصر کے درمیان رابطے کا ڈیٹا بھی رپورٹ کا حصہ ہے جس کے مطابق امتیاز شیخ اور ڈکیت اتو شیخ کے درمیان متعدد بار رابطے ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق شکارپور میں پولیو ٹیم کے ساتھ ہونے والی ڈکیتی میں بھی امتیاز شیخ کا کردار سامنے آیا ہے۔ واقعہ میں ملوث جرائم پیشہ عناصر کا امتیاز شیخ اور ان کے قریبی افراد کے ساتھ روابط کے شواہد موجود ہیں۔

دوسری جانب صوبائی وزیر امتیاز شیخ نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ اگر میں جرائم پیشہ ہوتا تو عوام مجھے منتخب نہ کرتے۔ پولیس میں نا اہل اور کرپٹ افسران لگیں گے تو امن و امان کی صورتحال خراب ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ شکار پور پیٹرول کی چوری کے لیے مشہور ہے۔ ہم نے اس کی نشاندہی کی تو برے بن گئے۔ مشاورت کے بعد رپورٹ مرتب کرنے والے افسران کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے اور اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

پولیس کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سياست دان پوليس پر اثرانداز ہو رہے ہيں۔ اگر سندھ حکومت میں ہمت ہے تو امتیاز شیخ کے خلاف آنے والی رپورٹ کی انکوائری کرائی جائے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube