Sunday, August 9, 2020  | 18 Zilhaj, 1441
ہوم   > پاکستان

پرویزمشرف نےخصوصی عدالت کافیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

SAMAA | - Posted: Jan 16, 2020 | Last Updated: 7 months ago
Posted: Jan 16, 2020 | Last Updated: 7 months ago

پرویزمشرف نے خصوصی عدالت کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔

سابق صدر پرویز مشرف کی اپیل 65 صفحات پر مشتمل ہے اور سلمان صفدر کے ذریعے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے۔

جمعرات کو سپریم کورٹ میں دائر کی گئی اپیل میں درخواست گزار نے کہا ہے کہ پاک فوج میں بطور فور اسٹار جنرل کام کیا اور 43 سال فوج میں سروس کی۔

اپیل میں بتایا گیا ہے کہ بطور صدر ملک کی دیوالیہ ہونے کےقریب معیشت کو بحال کیا اور بھارت کیساتھ امن عمل بڑھانے کیلئے اقدامات کئے۔

اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ درخواست گزار نے کوئی کام بھی ملکی مفاد کے خلاف نہیں کیا، پرویز مشرف کا کیس حراست سے بھاگنے کا نہیں،حکومت نے جلد بازی اور بغیر قانونی طریقہ اپنائے کیس تیار کیا۔

سابق صدر پرویز مشرف نے سزائے موت کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا بھی کردی ہے اور کہا ہے کہ اس مقدمے میں فیئر ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا،خصوصی عدالت کی تشکیل بھی غیرآئینی تھی اور غداری کیس مقدمہ کی کابینہ سے منظوری بھی نہیں لی گئی۔

اپیل میں مزید درج ہے کہ خصوصی عدالت نے بیان ریکارڈ کرانے کا موقع نہیں دیا اورغداری کیس کا ٹرائل مکمل کرنے میں آئین کی 6 مرتبہ خلاف ورزی کی گئی۔

اپیل میں بتایا گیا ہے کہ انصاف کا قتل نہ ہو اسی لیے مقررہ قانونی مدت میں درخواست دائر کی، خصوصی عدالت کے 17 دسمبر کے فیصلے سے مطمئن نہیں، جرم اتنا سنگین تھا تو استغاثہ کو ثابت کرنے میں 5 سال کیوں لگے؟ استغاثہ نے 5 سال تک مقدمہ تاخیر کا شکار کیے رکھا۔

اپیل میں مزید بتایا گیا ہے کہ پرویز مشرف کیخلاف سنگین غداری کےکوئی براہ راست یا بلواسطہ شواہد نہیں، خصوصی عدالت نےبدنیتی پرمبنی تحقیقات پرانحصار کیا۔

پرویز مشرف کی جانب سے ایمرجنسی کےنفاذ پراپیل میں بتایا گیا ہے کہ 3 نومبر2007 کےاقدام سے پوری ریاستی مشینری نے فائدہ اٹھایا تاہم حکومت نے صرف ایک شخص کو ملزم بنایا اوراسی کیخلاف تحقیقات کیں۔

یہ بھی درج ہے کہ سنگین غداری کا مقدمہ نوازشریف کے جاری نوٹیفکیشن کی بنیاد پر قائم ہوا، نوازشریف نے پرویز مشرف کیساتھ ذاتی رنجش پر مقدمہ بنایا، خصوصی عدالت نے سہولت کاروں کو ملزم بنانے کی درخواست بھی رد کی۔

اپیل کے مندرجات میں بتایا گیا ہےکہ خصوصی عدالت نے بریت کی درخواست پر بھی کوئی سماعت نہیں کی، پرویز مشرف خصوصی عدالت اور حکومت کی اجازت سے بیرون ملک گئے،علاج کیلئے بیرون ملک گئے ملزم کوعدالت مفرور قرار نہیں دے سکتی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube