Thursday, August 6, 2020  | 15 Zilhaj, 1441
ہوم   > پاکستان

وفاق یا سندھ؛ ایم کیوایم کا اگلا ٹھکانہ کہاں ہوگا

SAMAA | - Posted: Jan 14, 2020 | Last Updated: 7 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 14, 2020 | Last Updated: 7 months ago

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے وفاقی حکومت سے الگ ہونے کے بعد یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا ایم کیو ایم ’یقین دہانیوں‘ کے بعد دوبارہ وفاقی کابینہ کا حصہ بنے گی یا پھر کسی نئے راستے کا انتخاب کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں پارٹی کے معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد مرکزی رہنما سندھ میں پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد چاہتے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے ایک سنیئر رہنما نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ پارٹی کا ایک مضبوط دھڑا تحریک انصاف کے بجائے پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کا خواہشمند ہے۔

ان میں مرکزی رہنما عامر خان، میئر کراچی وسیم اختر اور کنور نوید جمیل شامل ہیں۔ ذرائع نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ مذکورہ رہنما چاہتے ہیں کہ سندھ کے بلدیاتی انتخابات سے قبل پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا جائے، اس لیے انہوں نے خالد مقبول صدیقی کو وفاقی کابینہ سے استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ محض کابینہ سے الگ ہورہے ہیں مگر وفاقی حکومت کی حمایت جاری رکھیں گے۔ اس سلسلے میں پارٹی ذرائع نے کہا کہ ’طاقت کے مراکز‘ سے اشارہ ملنے کے بعد متحدہ قومی موومنٹ وفاقی حکومت کی حمایت بھی ختم کرسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فروغ نسیم کس کے کوٹے پر وزیر بنے

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دسمبر 2019 میں متحدہ قومی موومنٹ کو پیشکش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد ختم کردے تو سندھ میں ان کو وزارتیں دے سکتے ہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے 12 جنوری کو ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں وفاقی کابینہ سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف نے وعدے پورے نہیں کیے۔ اس پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کی پوری قیادت موجود تھی۔

یاد رہے کہ وفاق میں حکومت بنانے کیلئے کسی بھی پارٹی کو 172 ارکان قومی اسمبلی کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ تحریک انصاف نے متحدہ قومی موومنٹ سمیت متعدد دیگر پارٹیوں سے اتحاد کرکے مرکز میں حکومت قائم کی۔

وزیراعظم عمران خان نے متحدہ قومی موومنٹ کو منانے کے لیے اپنے قابل اعتماد ساتھیوں کو کراچی بھیجا مگر اسد عمر کی قیادت میں وفد ایم کیو ایم کو مطمئن کرنے میں ناکام رہا۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ وہ تحریک انصاف کی حمایت فی الحال جاری رکھیں گے مگر دوبارہ وفاقی کابینہ کا حصہ بننے کا کوئی ارادہ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسد عمر کی کوشش ناکام، خالد مقبول صدیقی استعفیٰ پر قائم

میئر کراچی وسیم اختر نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ پارٹی کے اندر مشاورت جاری ہے۔ اگر وفاقی حکومت نے ہمارے تحفظات دور نہیں کیے تو کوئی بھی فیصلہ کرسکتے ہیں۔

تحریک انصاف کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی کا خیال ہے کہ بلاول کی پیشکش ایک سیاسی چال تھی۔ متحدہ قومی موومنٹ سندھ کابینہ کا حصہ نہیں بنے گی۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف عنقریب شہری علاقوں کیلئے بلدیاتی نظام وضع کرنے کا بل سندھ اسمبلی میں پیش کرنے جارہی ہے اور متحدہ قومی موومنٹ اس بل کی حمایت کرے گی۔

نوٹ: یہ اسٹوری انگلش میں پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube