Thursday, August 6, 2020  | 15 Zilhaj, 1441
ہوم   > پاکستان

پاکستان اور ایران تعلقات: ایک رنگ بدلتا رشتہ

SAMAA | - Posted: Jan 11, 2020 | Last Updated: 7 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 11, 2020 | Last Updated: 7 months ago

پاسداران انقلاب ایران کی القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی عراقی دارالحکومت بغداد میں ایک امریکی حملے میں موت کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان شدید کشیدگی پائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے پاکستانی حکام کو یہ ڈر ہے کہ ان دونوں ممالک میں ہونیوالی ممکنہ جنگ صرف پاکستان نہیں بلکہ پورے خطے میں پھیل سکتی ہے۔

پاکستانی وزیراعظم عمران خان دو ٹوک انداز میں واضح کرچکے ہیں کہ پاکستان اس خطے میں امن کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے لیکن وہ کبھی بھی کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔ پاکستانی وزیراعظم اپنے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کو ہدایت جاری کرچکے ہیں کہ وہ ایران، سعودی عرب اور امریکا کا دورہ کریں۔ انہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو حکم دیا ہے کہ وہ ان ممالک کے عسکری سربراہان سے رابطہ کرکے واضح کریں کہ پاکستان کسی بھی تنازع کا حصہ نہیں بنے گا۔

پاکستان میں موجود ایران کے حامی شیعہ گروہوں نے جنرل قاسم سلیمانی کی موت کے بعد مختلف شہروں میں احتجاج کیا اور حکومت پاکستان کو پیغام دیا کہ وہ ایران کیخلاف کسی بھی جنگ کا حصہ نہ بنیں۔

اسلام آباد اور تہران کے درمیان تعلقات پاکستان بننے کے فوری بعد استوار ہوگئے تھے لیکن یہ تعلقات ہمیشہ سے اُتار چڑھاؤ کا شکار رہے۔

ایران، پاکستان کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک

ایران ان چند ممالک میں سے ایک تھا جنہوں نے پاکستان کو 1947ء میں ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا، دونوں ممالک کے دوران سفارتی تعلقات 1948ء میں استوار ہوئے۔

ایران کے رضا شاہ پہلوی وہ پہلے غیرملکی سربراہ تھے جنہوں نے 1950ء میں پاکستان کا دورہ کیا۔ پاکستانی سفارتکار عبدالستار نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ شاہ آف ایران کا پاکستان آمد پر پرتپاک استقبال اور شاندار خیر مقدم کیا گیا۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگوں میں ایران کا کردار

پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونیوالی 1965ء اور 1971ء کی دونوں جنگوں میں ایران نے پاکستان کی حمایت کی۔ اسلام آباد میں مقیم پاکستانی ریسرچر عمار علی قریشی اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں کہ 1965ء کی جنگ کے دوران پاکستانی طیارے انڈین حملوں سے بچنے کیلئے ایران میں رُکا کرتے تھے۔

انڈیا اور پاکستان کے درمیان 1965ء کی جنگ کے دوران ایرانی سرکاری ریڈیو نے یہ اعلان کیا تھا کہ اگر ہندوستان نے پاکستان کیخلاف جارحیت جاری رکھی تو ایران کا ردعمل صرف جذبات کے اظہار تک محدود نہیں رہے گا۔

اسی جنگ کے دوران امریکا اور برطانیہ کی جانب سے ترکی اور ایران پر یہ دباؤ ڈالا گیا کہ وہ پاکستان کی حمایت بند کریں، لیکن اس کے باوجود بھی ایران نے پاکستان کی حمایت جاری رکھی اور ایران نے 13 ستمبر کو پاکستان سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کی حکمرانی کے 25 سال پورے ہونے پر منعقدہ تقریبات کو منسوخ کردیا۔

خمینی کا انقلاب

فروری 1979ء میں آیت اللہ خمینی کے انقلاب کے باعث رضا شاہ پہلوی کی بادشاہت ختم ہوئی اور آیت اللہ خمینی ایران کے رہبر اعلیٰ بن گئے، اسی سال سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کردیا، پاکستان اور ایران دونوں نے افغان مجاہدین کی سوویت یونین کیخلاف حمایت کی۔

سن 1980ء میں پاکستان کے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے جنرل ضیاء الحق کے متعارف کردہ زکوٰۃ قوانین کیخلاف اسلام آباد کی طرف مارچ کیا جو کہ ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کی شکل اختیار کرگیا، اس مارچ کی قیادت آیت اللہ خمینی کے نظریات سے متاثر علامہ عارف الحسین الحسینی کررہے تھے۔ اس احتجاج کے باعث پاکستانی حکومت کو شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ان قوانین سے استثنیٰ دینا پڑا۔

 

ایرانی امور اور شیعہ سیاست کے ماہر پروفیسر ولی نثر اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ آیت اللہ خمینی نے 1980ء میں ایک پاکستانی صحافی کو انٹرویو کے دوران جنرل ضیاء الحق کو یہ دھمکی دی تھی کہ اگر ضیاء شیعوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں تو وہ (خمینی) ان کا وہ حال کریں گے جو ایران کے شاہ کا کیا تھا۔

پاکستانی ملٹری ڈکٹیٹر نے ایران کی ان دھمکیوں کو تہران کی جانب سے ایرانی انقلاب کو پاکستان تک پھیلانے کی کوشش کے طور پر دیکھا۔

ایران اور عراق کی جنگ

ستمبر 1980ء میں صدام حسین کی زیرقیادت عراق نے ایران پر حملہ کردیا۔ یہ کہا جاتا ہے کہ صدام حسین کو یہ پریشانی لاحق ہوگئی تھی کہ کہیں ایران میں آنیوالے انقلاب کی وجہ سے عراق میں رہنے والی شیعہ اکثریت ان کی حکومت کیخلاف بغاوت پر نہ اتر آئے۔

پاکستان، ایران اور عراق کے درمیان اس آٹھ سالہ جنگ کے دوران غیر جانبدار رہا۔ ایک انٹرویو کے دوران جنرل ضیاء الحق نے کہا تھا کہ ان دونوں ممالک کے درمیان یہ جنگ بے نتیجہ رہے گی اور انہیں یقین ہے کہ دونوں ممالک کو اس بات کا ادراک ہوجائے گا کہ امن ہی دونوں کیلئے بہتر ہے۔

تصویر: گلف نیوز

اس یقین دہانی کے باوجود کہ پاکستان اس جنگ میں غیرجانبدار رہے گا، امریکا کا یہ ماننا تھا کہ اس جنگ میں پاکستان ایران کی حمایت کررہا ہے۔ نومبر 1987ء میں نیویارک ٹائمز میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی حکام پاکستان کی ایران کی حمایت کو لے کر کافی ناراض تھے۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک سینئر افسر نے پاکستان کی حمایت کو پریشان کن قرار دیا تھا۔ اس افسر کا کہنا تھا کہ یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں تاہم یہ ایک مسئلہ ضرور ہے۔

طالبان حکومت پر ایران کا اعتراض

افغانستان سے سوویت یونین کی 1989ء میں واپسی کے بعد 1996ء میں طالبان کی افغانستان میں حکومت قائم ہوگئی اور پاکستان نے طالبان کی حمایت کی۔ اس حمایت کے نتیجے میں کچھ وقت کیلئے پاکستان اور ایران کے درمیان دوریاں بڑھیں۔

تصویر: رائٹرز

مشرق وسطیٰ اور ایشیاء کے امور پر گہری نظر رکھنے والے ڈاکٹر زاہد شہاب احمد کے مطابق ایران افغانستان میں طالبان مخالف شمالی اتحاد کا حامی تھا جس میں تاجک، ازبک اور ہزارہ جنگجو شامل تھے۔

پاکستان، ایران گیس پائپ لائن

دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے دور میں مستحکم رہے۔ ایرانی صدر نے 2008ء میں پاکستان کا دورہ بھی کیا جس کا مقصد پاکستان اور ایران کے درمیان ایک گیس پائپ لائن کی منصوبہ بندی کرنا تھا۔ اس دورے کے دوران ایرانی صدر نے اس وقت کے پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانے سے بھی ملاقاتیں کیں۔

تصویر: اے ایف پی

سن 2008ء میں دونوں ممالک نے گیس پائپ لائن کیلئے ایک معاہدے پر دستخط کیے، یہ منصوبہ دسمبر 2014ء تک مکمل ہوجانا تھا لیکن تاحال یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہے۔

اگست 2019ء میں پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایران کے دورے کے بعد اس منصوبے کو مکمل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔ تاہم پاکستانی حکام ایران پر لگی امریکی پابندیوں کو اس منصوبے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران اس گیس پائپ لائن کے حوالے سے تقریباً 20 لاکھ امریکی ڈالر خرچ اور اپنے حصے کا کام بھی مکمل کرچکا ہے۔ ایران نے پچھلے سال پاکستان کو یہ دھمکی بھی دی تھی کہ گیس پائپ لائن کے معاہدے کی خلاف ورزی کرنے پر ایران عالمی عدالت سے رجوع کرے گا۔

ایران میں بھارتی خفیہ ایجنسی؟

پاکستان نے مارچ 2016ء میں ایرانی صدر حسن روحانی کی اسلام آباد آمد سے ایک روز قبل یہ اعلان کیا کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی نے بلوچستان میں ایک بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو گرفتار کیا ہے۔ اپنے اعترافی بیان میں کلبھوشن یادیو نے تصدیق کی تھی کہ انہوں نے 2003ء میں اپنا دفتر ایرانی شہر چابہار میں قائم کیا اور بعد میں بھارتی خفیہ ایجنسی راء کیلئے کام کرنے لگے۔ بھارت نے اس بات کی تصدیق تو کی کہ کلبھوشن یادیو بھارتی بحریہ کے سابق افسر ہیں، تاہم اسے جاسوس ماننے سے انکار کردیا۔

تصویر: اے ایف پی

اپریل 2016ء میں پاکستانی حکومت نے اسلام آباد میں موجود ایرانی سفیر کو ایک خط لکھا جس میں بھارتی خفیہ ایجنسی کی ایران میں موجودگی کے حوالے سے معلومات موجود تھیں، صرف یہی نہیں پاکستان نے ایران سے یہ بھی پوچھا کہ کلبھوشن یادیو کی ایران میں کیا سرگرمیاں تھیں۔

جیش العدل

جیش العدل جسے جنداللہ کا ہی ایک گروہ سمجھا جاتا ہے وہ پاکستان اور ایران کے درمیان اچھے تعلقات کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بنا رہا۔ پچھلے چند سالوں میں یہ گروہ درجنوں ایرانی سرحدی محفاظوں کو اغواء یا قتل کرچکا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جیش العدل ایران کے صوبے سیستان، بلوچستان اور پاکستان کے صوبے بلوچستان سے ایران کیخلاف کارروائیاں کرتا ہے۔

اکتوبر 2013ء میں ایک حملے میں 14 ایرانی گارڈز مارے گئے تھے اور اس حملے کی ذمہ داری بھی جیش العدل نے قبول کی تھی۔ فروری 2014ء میں اس گروہ نے 5 ایرانی گارڈز کو اغواء کیا تھا اور اکتوبر 2018ء میں اسی گروہ نے تقریباً 12 گارڈز کو اغواء کیا، جنہیں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے کچھ عرصے بعد بازیاب کراکے ایران کے حوالے کیا تھا۔

ایرانی افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری نے 2017ء میں پاکستان کو کہا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ پاکستانی حکام اپنے بارڈر پر نگرانی بڑھائیں گے اور دہشتگردوں کو گرفتار کرکے ان کے ٹھکانوں کو ختم کریں گے۔ انہوں نے پاکستان کو یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگر جیش العدل کے حملے جاری رہتے ہیں تو وہ خود ان کے ٹھکانوں کو ہر جگہ نشانہ بنائیں گے۔

تصویر: بی بی سی

ایرانی افواج کے سربراہ کے اس بیان پر پاکستان کی جانب سے تنقید کی گئی تھی۔ ایک بیان میں پاکستانی دفتر خارجہ نے ایرانی افواج کے سربراہ کے اس بیان کو برادرانہ تعلقات کی روح کیخلاف قرار دیا تھا۔

فروری 2019ء میں ایک خودکش بمبار نے ایرانی پاسداران انقلاب کو نشانہ بنایا جس میں 27 فوجی مارے گئے۔ ایرانی کے ایک فوجی افسر نے دعویٰ کیا کہ حملہ آور اور اس کا ساتھی پاکستانی شہری ہیں۔

کچھ ہی دنوں بعد پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی نے بھی پاکستان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اپنی ایک تقریر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران کا امتحان نہ لے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے ہمیشہ پاکستان کو اس خطے میں مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا پاکستان کا کوئی ایسا بارڈر رہ گیا ہے جہاں انہوں نے کسی پڑوسی ملک کیلئے سیکیورٹی مسائل پیدا نہ کئے ہوں۔ ایرانی فارس ایجنسی کے مطابق قاسم سلیمانی نے کہا تھا کہ سعودی عرب کا پیسہ پاکستان پر اثر انداز ہورہا ہے اور وہ (سعودی عرب) ایسے اقدامات سے پاکستان کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔

اپریل 2019ء میں اپنے ایک دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان نے اس بات کا اعتراف کیا کہ شدت پسندوں نے پاکستان کی سرزمین ایران کیخلاف استعمال کی اور ایران کو اس دہشتگردی سے نقصان پہنچا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ دونوں ممالک کو اب عزم اور ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا ہوگا کہ دونوں ملکوں کی سرزمین ایک دوسرے کیخلاف دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

سعودی عرب اور ایران کے بیچ پھنسا پاکستان

سعودی عرب اور ایران آیت اللہ خمینی کے انقلاب کے بعد سے ہی ایک دوسری کیخلاف غیراعلانیہ پراکسی وار مشرق وسطیٰ اور دیگر اسلامی ریاستوں میں لڑرہے ہیں۔ دونوں ممالک کے دوران دوریاں مزید اس وقت بڑھیں جب سعودی عرب نے 41 ممالک کی ایک اتحادی فوج دہشتگردی کو روکنے کیلئے قائم کی، پاکستان اس اتحاد کا اہم حصہ ہے تاہم ایران کو اس فوج کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

تصویر: یو پی آئی

مئی 2017ء میں سابق پاکستانی آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف نے اس اتحادی فوج کی کمان سنبھالی، ایران کے پاکستان میں سفیر مہدی ہنردوست نے اعلانیہ طور پر یہ کہا کہ ایران کو راحیل شریف کی تقرری پر اعتراض ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق مہدی ہنردوست کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے مسلم ممالک کے اتحاد پر اثر پڑے گا۔

تصویر: اے ایف پی

سن 2019ء میں وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا کہ وہ ایران اور سعودی عرب کو قریب لانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ یہ اعلان انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر کیا تھا، ٹرمپ یہ چاہتے تھے کہ مشرق وسطیٰ میں موجود کشیدگی اور تناؤ کو کم کیا جائے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
PAKISTAN, IRAN, IRAQ, US, SAUDI ARABIA, QASSEM SULEIMANI, WAR, TERRORISM, IMRAN KHAN, PM
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube