ہوم   > پاکستان

کراچی کی 81 ہاؤسنگ سوسائٹیزسرمایہ کاری کیلئےمحفوظ ہیں

SAMAA | - Posted: Jan 8, 2020 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 8, 2020 | Last Updated: 3 months ago

کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے نام پر دھوکہ دہی ایک عام سی بات ہے، اس لیے کراچی میں موجود 200 سے زائد سوساٗئٹیز میں پلاٹ خریدتے وقت محتاط رہیں۔

گذشتہ ہفتے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے 81 کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز کی ایک فہرست جاری کی گئی تھی جس کی تصدیق محکمہ ماسٹر پلان اور خود سوسائٹیزکے دفاتر نے کی ہے۔ اس فہرست میں شامل سوسائٹیزمیں پلاٹوں کی خریداری محفوظ ہے جبکہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے بقیہ سوسائٹیز کی حیثیت کی جانچ اور تصدیق کرنے کا عمل جاری ہے۔

کراچی کی کسی بھی کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں پلاٹ خریدنے کے خواہشمند افراد کے لئے کچھ ضابطے ہیں۔ اس عمل میں 3 محکمے شامل ہیں۔

پہلا، نامزد شخص کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے دفتر کا دورہ کرے اور “فارورڈنگ لیٹر” طلب کرے۔

یہ فارورڈنگ لیٹر کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے دفتر سے جاری کی جانے والی ایک مجازدستاویز ہے جو اس بات کی تصدیق ہے کہ پلاٹ اس شخص کا ہے۔

دوسرا مرحلہ متعلقہ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے لے آؤٹ پلان کی تصدیق کے لیے کراچی کے سوک سینٹر کی آٹھویں منزل پرقائم ماسٹر پلان گروپ آف آفس کا دورہ کرنا ہے۔

تیسرا اور آخری اقدام سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے اس پلاٹ پر تعمیر کے لیے منظوری لینا ہے۔ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیزکے لین دین کو آسان بنانے کے لیے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے پاس ایک خودکارسنگل ونڈو سہولت موجود ہے۔ پلاٹ لینے والا سوک سینٹر میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے سہولت مرکز پر جاکر آسانی سے ہاؤسنگ سوسائٹی کی حیثیت کی تصدیق کرسکتا ہے۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے کراچی کی 81 تصدیق شدہ ہاؤسنگ سوسائٹیز کی فہرست درج ذیل ہے۔

ابوذر غفاری سی ایچ ایس (کوآپریٹوہاؤسنگ سوسائٹی)
ال اشرف سی ایچ ایس
علی ٹاؤن سی ایچ ایس
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سی ایچ ایس
آل میمن ویلفیئر سی ایچ ایس
آل پاکستان نیوز پیپر ایمپلائز سی ایچ ایس ، اسکیم 33
انچولی سی ایچ ایس
بلال ہاؤسنگ انٹرپرائزز
بزنس اور پروفیشنل ایگزیکٹو سی ایچ ایس
کالاچی سی ایچ ایس
سینٹرل انفارمیشن سی ایچ ایس
کورنش سی ایچ ایس
دارالسلام سی ایچ ایس
دہلی ریان سی ایچ ایس
ڈائمنڈ سٹی سی ایچ ایس ، سکیم 33
گوالیار سی ایچ ایس
گورنمنٹ ٹیچرز سی ایچ ایس
گلستان سی ایچ ایس
گلستانِ ملیر سی ایچ ایس
گلشنِ اکبر سی ایچ ایس
گلشنِ اقبال سی ایچ ایس ، سکیم 24
گلشنِ ملیر سی ایچ ایس
گلشنِ ملیر سی ایچ ایس
گلشنِ معمار سی ایچ ایس
گلشنِ ملت کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی
ہادی آباد سی ایچ ایس ، کے ڈی اے سکیم 33
ہالاری میمن سی ایچ ایس
ہنسا سی ایچ ایس
ہارون بحریہ پی این سی ایچ ایس
ہاشم آباد سی ایچ ایس
حسین ڈی سلوا سی ایچ ایس ، سکیم 4 سرجانی ٹاؤن
کراچی بار سی ایچ ایس ، سکیم 33
کراچی راجپوت سی ایچ ایس ، سکیم 33
کراچی یونیورسٹی ایمپلائز سی ایچ ایس
کریم بھائی سی ایچ ایس
کے سی ایچ ایس یونین سی ایچ ایس ، بلاک 3، 7 اور 8۔
کے ڈی اے سکیم نمبر 36 سی ایچ ایس
خراسان سی ایچ ایس
کے ایم سی یونائیٹڈ ورکرز سی ایچ ایس ، سکیم 33
کورنگی ٹاؤن شپ سیکٹر32-بی سی ایچ ایس
لے آؤٹ پلان آف سروے نمبرز 217 بی، 217 سی، 217 ڈی، دیہہ ٹاپو ملیر
لے آؤٹ پلان آف سروے نمبر 631 دیہہ جوریجی بِن قاسم ٹاؤن
لے آؤٹ پلان آف سروے نمبرز 289، 290،291،293، 322 تا 330، 474، 475 دیہہ محل
لے آؤٹ پلان آف سروے نمبرز 292،296،297،385،387،490 دیہہ محل
لے آؤٹ پلان آف سروے نمبرز 485، 486 تا 498 اور 499 دیہہ جوریجی
لے آؤٹ پلان آف سروے نمبرز 546اور 547 دیہہ جوریجی بن قاسِم ٹاؤن
لکھنؤ سی ایچ ایس
مدراس سی ایچ ایس
مخدوم بلاول سی ایچ ایس
ملِک سی ایچ ایس
منصورہ کے ڈی اے سکیم 16 (ایف بی ایریا)
مشرقی سی ایچ ایس
میرٹھ سی ایچ ایس
مرچنٹ نیوی آفیسرز سی ایچ ایس
مسلم کچھی کھتری سی ایچ ایس
نیا ناظم آباد
نیو لیاری سی ایچ ایس ، سکیم 33
نیپا سی ایچ ایس
نارتھ کراچی ٹاؤن شپ
نارتھ ناظم آباد سی ایچ ایس ، سکیم 2
نارتھ ٹاؤن سی ایچ ایس
اوک ریذیڈنسی سی ایچ ایس
پی اینڈ ٹی سی ایچ ایس
پاکستان اٹامک انرجی سی ایچ ایس
پٹیل انڈسٹری پارک سی ایچ ایس ، سکیم 45
پِلی بھِٹ سی ایچ ایس
پیر الہٰی بخش کالونی
پنجابی سوداگر ملٹی پرپوز ایچ ایس
قریشی سی ایچ ایس
آر او کے کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی
صدف سی ایچ ایس
شاہ لطیف ٹاؤن سی ایچ ایس ، سکیم 25 اے
شاہنواز سی ایچ ایس
شمسی سی ایچ ایس
سونیکس ہاؤسنگ سی ایچ ایس
سونیکس ہاؤسنگ سی ایچ ایس (فیز 2)
سومرا سی ایچ ایس
اسٹیٹ بینک آف پاکستان سی ایچ ایس ، سکیم 33
سپارکو ایمپلائزسی ایچ ایس
ورکس سی ایچ ایس
زینت آباد سی ایچ ایس

کچھ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز جعلی دستاویزات کے ساتھ تجاوزات والی زمین پر تعمیر کی گئی ہیں۔ ان میں سے بیشتر گلشنِ معمار ، گلزارِ ہجری ، ملیر اور بن قاسم ٹاؤن میں واقع ہیں۔

کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیاں دراصل 50 کی دہائی میں کراچی میں مہاجرین کی رہائش کے لئے قائم کی گئی تھیں۔

سرکاری محکموں سے زمین کی حیثیت کی تصدیق کیے بغیر کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں پلاٹ خریدنے والے افراد دراصل غلطی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خرید و فروخت خرید کے بیشتر معاملات عدالتوں میں زیرِسماعت ہیں۔ لوگ اپنی شکایات قومی احتساب بیورو ، اینٹی کرپشن واسٹیبلشمنٹ اور محتسب کے دفتر میں بھی درج کرواتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

One Comment

  1. Avatar
      لقمان  January 9, 2020 8:54 pm/ Reply

    What about Blue World City located in Rawalpindi/Islamabad

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube