عمران خان نے ڈھاکہ کی ویڈیوز بھارت سے منسوب کردی

SAMAA | - Posted: Jan 4, 2020 | Last Updated: 1 year ago
Posted: Jan 4, 2020 | Last Updated: 1 year ago

وزیراعظم عمران خان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جمعہ کی شام بھارتی اخبار دی ہندو کا ایک کالم شیئر ہوا جس میں کالم نگار نے ریاستی سرپرستی میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت پھیلانے پر بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یہاں تک بات ٹھیک تھی مگر وزیراعظم نے اس کالم کے ساتھ تھریڈ میں چند ویڈیوز بھی شامل کرتے ہوئے لکھا کہ اترپردیش کی پولیس مسلمانوں کے قتل عام کے راستے پر گامزن ہے۔

وزیراعظم کے ٹوئٹ کا اسکرین شاٹ

ان ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کچھ لوگ خون میں لت پت فرش پر پڑے ہیں جبکہ پولیس ان پر تشدد کر رہی ہے اور کچھ لوگ جان بچانے کیلئے افراتفری کے عالم میں ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

وزیراعظم کے اکاؤنٹ سے شیئر ہونے کے بعد سماء ڈیجیٹل کی ٹیم نے ان ویڈیوز کے بارے میں تحقیقات کیں تو معلوم ہوا کہ یہ اترپردیش کی نہیں بلکہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کی ہیں۔

ان ویڈیوز کو غور سے دیکھیں تو پولیس اہلکاروں کی شیلڈ پر RAB لکھا ہوا ہے۔ اس کو گوگل پر سرچ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ بنگلہ دیش پولیس کی ایلیٹ فورس کا نام ہے جو انسداد دہشت گردی اور سنگین نوعیت کے جرائم سے نمٹنے کیلئے قائم کی گئی ہے۔

پولیس اہلکار کے شیلڈ پر ریب لکھا ہوا نظر آرہا ہے

سماء ڈیجیٹل کی ٹیم نے اس کے بعد ویڈیو کے اسکرین شاٹ لیکر ریورس امیج سرچ کیا تو ہماری رسائی ایک بنگلہ دیشی ویب سائٹ اور یوٹیوب چینل تک ہوئی۔ جہاں سے یہ ویڈیوز شیئر ہوئی تھیں۔ ان ویڈیوز کے بارے میں بنگلہ دیشی زبان میں تفصیل لکھی گئی تھی۔ جب ہم نے وہ تفصیل اٹھاکر گوگل ٹراسلیٹر میں کاپی کی تو اس کا ترجمہ کچھ یوں سامنے آیا۔ پولیس کا حفاظت اسلام کی ریلی پر حملہ۔ ساتھ ہی 5 مئی 2013 کی تاریخ لکھی ہوئی ہے۔

بنگلہ دیشی ویب سائٹ کا عکس

اس کے بعد جب ہم نے حفاظت اسلام کے بارے میں تحقیقات کیں تو معلوم ہوا کہ یہ دینی مدارس کے اساتذہ اور طالب علموں پر مبنی ایک بنگلہ دیشی تنظیم ہے۔ اس تنظیم نے 2013 میں حکومت کے سامنے 13 مطالبات رکھے جس میں ایک یہ بھی تھا کہ ملک میں ’توہین رسالت اور مذہب‘ سے متعلق قانون سازی کی جائے۔

بنگلہ دیشی یوٹیوب چینل کا عکس

انہوں نے حکومت سے مطالبات منوانے کیلئے لانگ مارچ شروع کیا اور ڈھاکہ پہنچ کر شہر کے تمام داخلی راستوں پر دھرنے دے دیے جس کے باعث دارالحکومت مفلوج ہوکر رہ گیا۔ اس کے ردعمل میں حکمران جماعت عوامی لیگ کے کارکنان نے حفاظت اسلام کے کارکنان پر حملے شروع کردیے اور پھر دو طرفہ تشدد کا سلسلہ چل نکلا۔

حالات جب مکمل طور پر قابو سے باہر ہوگئے تو 6 سے 8 مئی 2013 تک بنگلہ دیش پولیس کی ایلیٹ فورس ریپڈ ایکشن بٹالین نے کریک ڈاؤن شروع کردیا اور حفاظت اسلام کو کچل ڈالا۔ اس دوران حفاظت اسلام کے ایک مدرسے پر پولیس کے دھاوے کی ویڈیوز منظر عام پر آئیں جن میں مدرسے کے اساتذہ اور بچے بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ وہی ویڈیوز آج وزیراعظم عمران خان نے اترپردیش کی پولیس سے منسوب کرتے ہوئے شیئر کردیں اور بعد ازاں واپس ڈیلیٹ کردیں۔

نوٹ: ویڈیو میں تشدد زیادہ ہونے کے باعث ادارے کی پالیسی کے تحت شیئر نہیں کیے جاسکتے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube