Friday, July 3, 2020  | 11 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > پاکستان

حمید ہارون نے الزام مسترد کردیا، جامی کیخلاف مقدمے کافیصلہ

SAMAA | - Posted: Dec 30, 2019 | Last Updated: 6 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 30, 2019 | Last Updated: 6 months ago

سی ای او ڈان گروپ نے فلم ساز جامی رضا کیخلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ فلمساز نے الزام لگایا تھا کہ 13 سال قبل انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

رواں برس 20 اکتوبر کو جامی رضا نے ٹویٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ میڈیا کی ایک بڑی شخصیت نے کراچی میں واقع اپنے گھر میں ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں اس شخصیت کا براہ راست نام لینے سے گریز کیا تھا تاہم ٹویٹس میں بتائے گئے واقعات، شواہد اور شک کی بنیاد بناکر افواہوں اور مفروضوں کی بھرمار ہوگئی تھی۔ صحافیوں کے لیے اس واقعے کی تحقیق کرنا ممکن نہ تھا کیوں کہ اس میں کوئی نام نہیں لیا گیا تھا۔

دسمبر کی 28 تاریخ کو جامی رضا اس شخصیت کا نام ٹویٹر پر سامنے لے آئے۔ ڈان ڈاٹ کام پر حمید ہارون کی جانب سے 30 دسمبر کو ایک بیان جاری کیا گیا جس میں ان کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے میں زیادتی، جنسی حملے اور ہراسانی سے متاثرہ افراد کی مدد کے اپنے عزم کو دہرانا چاہتا ہوں۔ میں واضح طور پر ایسے گھناؤنے عمل کی مذمت کرتا ہوں، چاہے وہ کہیں اور کبھی بھی، کسی بھی شکل میں واقع ہوا ہو، چاہے وہ کام کی جگہ ہوا ہو یا باہر۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے ہمیشہ اس بات کی پرواہ کئے بغیر کہ مجرم طاقت ور ہے یا نہیں ، زیادتی، جنسی حملوں اور ہراسانی کے شکار افراد سے اپنی ہمدردی اور حمایت کا اظہار کیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ مجھے اندازہ ہے کہ کبھی کبھی کچھ طاقتور گروپوں کی جانب سے اپنے سیاسی اور معاشرتی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی الزامات بھی سامنے آتے رہتے ہیں، جس کا مقصد کسی شخص کی ساکھ اور وقار کو تباہ کرنا ہوتا ہے۔

اپنے بیان میں حمید ہارون نے واضح طور پر کہا کہ جامی رضا کی جانب سے عائد کئے گئے زیادتی کے الزامات کو یکسر مسترد کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ یہ کہانی سراسر جھوٹ اور من گھڑت ہے، اس میں وہ لوگ ملوث ہیں جو مجھے خاموش کرنا اور میرے ذریعے اخبار پر اپنے جابرانہ مؤقف کی حمایت کیلئے دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں۔

حمید ہارون کا کہنا ہے کہ میں 1990ء کی دہائی یا 2000ء میں پہلی بار جامی رضا سے اس وقت ملا جب وہ فری لانس فوٹو گرافر ہونے کے ساتھ فلم میکر بننے کے خواہشمند تھے، یہ وہ وقت تھا جب جامی سر جہانگیر کوٹھاری کی آرکیٹیکچورل دستاویز اور تحفظ کیلئے تصاویر تیار کررہے تھے، جامی کی صلاحیتوں سے متاثر ہوکر میں نے 04-2003ء میں انہیں موہٹہ پیلس میں صادقین ایگزیبیشن کیلئے تصویری مضمون کی البم کی تیاری کیلئے رکھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے جامی کے والد کے انتقال پر تعزیت کیلئے ان کے گھر جانا یاد ہے تاہم ان سے میری ذاتی طور پر ملاقات نہیں ہوئی تھی، مجھے نہیں یاد کہ کبھی اکیلے میں جامی رضا سے ملا ہوں، جامی سے میری بات چیت کا یہ ہی مکمل خلاصہ ہے۔

مجھے یقین ہے کہ یہ جھوٹے اور گھناؤنے الزامات ریاست اور معاشرے میں موجود کسی طاقتور حلقوں کی ایماء پر لگائے گئے ہیں، جن کا مقصد میری ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے، جس کے نتیجے میں اس اخبار کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچے گا جس سے میں منسلک ہوں، یہ محض اتفاق نہیں یہ ٹویٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مختلف گروہوں سے ڈان کیخلاف مظاہرے کروائے جارہے ہیں اور دیواروں پر پراسرار چاکنگ نظر آرہی ہے، جن میں ڈان سی ای او اور ان کے ایڈیٹوریل اسٹاف کو لٹکانے کے مطالبات سامنے آرہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں ان جھوٹے اور گھناؤنے الزامات کے پیچھے موجود لوگوں کا پردہ فاش کرنے کیلئے پرعزم ہوں اور بغیر کسی خوف اور جانبداری کے شفاف اور درست رپورٹنگ کے حق میں ہوں، جہاں تک کچھ ٹویٹس اور اخباری رپورٹس کا تعلق ہے میں اپنا نام اور ساکھ کو برقرار رکھنے کیلئے قانونی کارروائی کروں گا اور اپنے خلاف جھوٹے اور گھناؤنے الزامات لگانے والے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر پریس کی آزادی کا بھی تحفظ کروں گا۔

ڈان کی ویب سائٹ پر حمید ہارون کے بیان کے بعد ایک نوٹ بھی شائع کیا گیا ہے جس میں ڈان کے پڑھنے والوں کو یہ یقین دلایا گیا ہے کہ اخبار اس حوالے سے خود بھی ایک انکوائری شروع کریگا۔

میں نے کبھی ڈان کو نقصان نہیں پہنچایا، جامی رضا

ان کا کہنا ہے کہ مجھے ڈر تھا کہ یہ پورا منصوبہ کہ میں اسٹیبلشمنٹ کا حصہ ہوں، میرے خلاف استعمال کیا جائے گا۔ فلمساز نے واضح کیا کہ انہوں نے ’’ایجنسیز‘‘ سے ملنے سے انکار کردیا تھا جب کچھ صحافی دوستوں نے میری ان سے ملاقات کرانے کی کوشش کی۔

جامی رضا نے ڈان مینجمنٹ کو یقین دلایا کہ انہوں نے کبھی ڈان کو نقصان نہیں پہنچایا، وہ اپنے آس پاس لوگوں سے پوچھ سکتے ہیں کہ میں نے ڈان میں رہتے ہوئے ان کے تحفظ کیلئے کیا کچھ کیا ہے۔

انہوں نے ڈان کے کارکنان کو یقین دلایا کہ میری طرف سے آپ کیخلاف کچھ نہیں ہوگا، اگر میں نے اپنی پوزیشن بدلی تو مجھے اس پر جوابدہ ہونا پڑے گا۔

جامی کہتے ہیں کہ یہ مکمل طور پر ’’می ٹو‘‘ کے بارے میں ہے اور یہ کبھی بھی ڈان کیخلاف نہیں ہوگا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
JAMI REZA, HAMEED HAROON, DAWN GROUP, RAPE, FILM MAKER
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube