Sunday, December 6, 2020  | 19 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > پاکستان

علی رضا عابدی قتل کیس کے اہم حقائق

SAMAA | - Posted: Dec 29, 2019 | Last Updated: 11 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 29, 2019 | Last Updated: 11 months ago

ماسٹر مائنڈ کا سراغ کیوں نہ مل سکا

گزشتہ برس 25 دسمبر کی رات آٹھ بجکر 35 منٹ پر علی رضا عابدی کا ناحق خون بہانے والا قاتل اکیلا نہیں تھا بلکہ بلال نامی شوٹر کا ساتھی حسنین موٹرسائیکل پر کھڑا رہا اور کچھ فاصلے پر کھڑا تیسرا شخص مصطفی عرف کالی چرن بھی شوٹرٹیم کا حصہ تھا۔

سما ٹی وی کو اکیس سے 24 دسمبر اور پھر اگلے دن قتل کی واردات سے ایک گھنٹہ پہلے تک کی ساری وڈیوز موصول ہوگئی ہیں۔ اکیس دسمبر 2018 کی اِس فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دن تین بجکر چالیس منٹ پر سفید کار علی رضا عابدی کے گھر کے باہر چکر لگاتی ہے۔

ریکی کرنیوالی یہ گاڑی قتل کے وقت بھی جائے وقوعہ پر موجود تھی۔ تئیس دسمبر کی رات بارہ بجکر چھتیس منٹ پر ٹارگٹ کلرز اور بیک اپ ٹیموں کو وقوع کا جائزہ لیتے دیکھا جاسکتا ہے۔

قاتلوں کو پھر بھی سکون نہ ملا، نشانہ چوک نہ جائے، اِسی لیے قتل سے ایک دن پہلے چوبیس دسمبر کو دن ایک بجکر نو منٹ پر مبینہ حملہ آور نے گھر کے باہر کھڑے ہوکر بھی جائزہ لیا۔

اتنے روز کی ریکی کے بعد وہ دن بھی آگیا جب قاتلوں کو اپنا ہدف پورا کرنا تھا۔ پچیس دسمبر کو بھی شوٹنگ ٹیم میں شامل بلال اور حسنین نے دوپہر دو بجکر اکیاون منٹ پرعلی رضا عابدی کے گھر کا چکر لگایا۔ دوسرا جائزہ لیا گیا سات بجکر اُنتیس منٹ پر، اور پھر تھوڑی ہی دیر بعد سات بج کر اُننچاس منٹ پر دو مشکوک افراد علی رضا کے گھر کے باہر نشانی لگا گئے۔

بس اب انتظار تھا تو علی رضا عابدی کا اور وہی ہوا، علی رضا نے جیسے ہی گاڑی اپنے گھر کے دروازے پر آکر روکی، گھات لگائے ٹارگٹ کلرز نے قریب پہنچ کر گولیاں برسادیں۔

کیا علی رضا عابدی پر حملہ اتفاق تھا؟ بالکل نہیں، کیونکہ مقتول کی فیکٹری اور گھر کے قریب موبائل فون ٹاور کے ریکارڈ کے مطابق قتل میں ملوث مرکزی ملزمان بلال، حسنین، مصطفی عرف کالی چرن اور سہولت کار محمد فاروق جولائی دوہزار اٹھارہ سےعلی رضاعابدی کی ریکی کررہے تھے۔

سہولت کارعبدالحسیب، محمد غزالی، محمد فاروق اور ابوبکر گرفتار ہوچکے، ایک اور سہولت کار جنید کے ملوث ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے جو واقع کے وقت شوٹر ٹیم سے رابطے میں تھا۔

دوہزار بیس آگیا۔ کئی ثبوت ہاتھ لگ گئے مگر قانون نافذ کرنیوالوں کو اب تک نہیں ملے تو اصل قاتل اور ماسٹرمائنڈ۔ وہ کہاں ہیں کس کے آشیرباد میں ہیں۔ یہ معلوم کرنا کراچی پولیس کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube