Thursday, August 6, 2020  | 15 Zilhaj, 1441
ہوم   > پاکستان

جج کیخلاف بیانات؛ پشاور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست

SAMAA | - Posted: Dec 27, 2019 | Last Updated: 7 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 27, 2019 | Last Updated: 7 months ago

پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ سنانے والی خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف بیانات پر پشاور ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست جمع کرادی گئی۔

توہین عدالت کی درخواست ملک اجمل خان ایڈووکیٹ نے دائر کی ہے جس میں وفاقی حکومت، سابق صدر پرویز مشرف، وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈائریکٹر جنرل انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) میجر جنرل آصف غفور، وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم، وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومتی نمائندوں اور پاک فوج کے ترجمان نے خصوصی عدالت کے جج پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے اور جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے۔ لہٰذا عدالت مندرجہ بالا شخصیات کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے۔

واضح رہے کہ خصوصی عدالت نے 17 دسمبر 2019 کو پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت سنائی تھی اور کیس کا فیصلہ دو ایک کی اکثریت سے سنایا تھا۔ 19 دسمبر کوخصوصی عدالت نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو 5 بار سزائے موت دی جائے۔

خصوصی عدالت نے اپنے فیصلے میں پرویز مشرف کو بیرون ملک بھگانے والے تمام سہولت کاروں کو بھی قانون کےکٹہرے میں لانے کا حکم دیا اور فیصلے میں اپنی رائے دیتے ہوئے جسٹس وقار سیٹھ نے پیرا 66 میں لکھا ہے کہ پھانسی سے قبل پرویز مشرف اگر فوت ہوجائیں تو لاش کو ڈی چوک پر لایا جائے۔

عدالتی فیصلے کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کیخلاف سنایا جانے والا فیصلہ خاص طور پر اس میں استعمال ہونے والے الفاظ انسانیت، مذہب، تہذیب اور کسی بھی اقدار سے بالاتر ہیں۔ ہم ادارے کے وقار کا بھرپور دفاع کریں گے۔

دوسری جانب پرویز مشرف کیخلاف تفصیلی عدالتی فیصلے کے بعد حکومتی ٹیم نے وفاقی حکومت کا مؤقف پیش کرنے کے لیے پریس کانفرنس کی جس میں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان ،وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم اور معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر شریک ہوئے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ خصوصی عدالت کے جج جسٹس وقار سیٹھ ذہنی طور پر ان فٹ ہیں اور انہوں نے ایسی آبزرویشن دے کر ثابت کیا کہ وہ ذہنی طور پر فٹ نہیں۔

حکومت نے جسٹس وقار سیٹھ کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا بھی فیصلہ کیا تھا مگر ماہرین قانون نے کہا کہ کسی بھی جج کے خلاف کسی فیصلے کی بنیاد پر ریفرنس دائر نہیں کیا جاسکتا جس پر حکومت نے ریفرنس موخر کردیا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube