Thursday, August 13, 2020  | 22 Zilhaj, 1441
ہوم   > پاکستان

پرویز مشرف کو سزائے موت سنا دی گئی

SAMAA | - Posted: Dec 17, 2019 | Last Updated: 8 months ago
Posted: Dec 17, 2019 | Last Updated: 8 months ago

مختصر فیصلہ جاری

خصوصی عدالت نے سابق صدر اور سابق آرمی چیف کو سزائے موت کا حکم سنا دیا۔ مختصر فیصلہ 4 لائنز پر مشتمل تھا۔

غداری کیس میں خصوصی عدالت کے 2 ججز نے اکثریتی فیصلہ دیا۔ ایک جج نے سزائے موت کے فیصلے کی مخالفت کی۔ عدالت کی جانب سے کیس کا مختصر فیصلہ سنایا گیا، کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

تین رکنی بینچ نے 2 ایک سے کیس کا فیصلہ سنایا۔ خصوصی عدالت کے سربراہ سیٹھ وقار نے کیس کا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ اس کیس کی مسلسل 3 ماہ سماعت کی گئی۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سابق صدر پر آرٹیکل 6 کا جرم ثابت ہوتا ہے۔ عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ سابق صدر نے 3 نومبر سال 2007 کو آئین کو پامال کیا۔

پرویز مشرف کے وکیل کا ردعمل

سابق صدر پرویز مشرف کے وکیل رضا بشیر نے خصوصی عدالت کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا۔ وکیل رضا بشیر کا کہنا تھا کہ ملزم کو فیئر ٹرائل کا موقع نہیں دیا گیا۔ عدالت نے جلد بازی میں حتمی دلائل سنے بغیر فیصلہ دیا۔

اے پی ایم ایل

سابق صدر پرویز مشرف کی جماعت نے خصوصی عدالت کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا۔ سماء سے خصوصی گفتگو میں ترجمان مہرین ملک کا کہنا تھا کہ لیگل ٹیم سے مشاورت کے بعد لائحہ عمل کا اعلان کریں گے

پس منظر

واضح رہے کہ سابق آرمی چیف اور صدر پرویز مشرف ان دنوں دبئی میں مقیم ہیں، جہاں ان کی حالت تشویش ناک ہے۔ سابق صدر کے خلاف غداری کا کیس سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور میں دائر کیا گیا تھا۔ اس ضمن میں نومبر 2013ء میں مقدمہ دائر کیا،6 سال تک چلنے والے اس کیس کی 100 سے زائد سماعتیں ہوچکی ہیں، جب کہ اس دوران 4 ججز بھی تبدیل ہوچکے تھے۔

سابق صدر پر 31 مارچ سال 2014 میں فرد جرم عائد کی گئی تھی، جب کہ 16 جون سال 2016 کو انہیں مفرور قرار دیا گیا تھا۔ وہ اسی سال 2016 میں عدالت کے حکم پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ ( ای سی ایل ) سے نام نکالے جانے کے بعد وہ ملک سے باہر چلے گئے تھے۔

ماہر قانون کیا کہتے ییں؟

ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل صرف سپریم کورٹ میں دائر کی جا سکتی ہے اور اس کے لیے 30 دن کا وقت ہے جب کہ اپیل دائر کرنے کے لیے پرویز مشرف کا موجود ہونا ضروری ہے۔

پرویز مشرف

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے جنرل مشرف کو چھ اکتوبر 1998 کو اُس وقت کے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت سے استعفیٰ لینے کے بعد آرمی چیف تعینات کیا تھا، تاہم مئی سال 1999 میں کارگل تنازع کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف اور آرمی چیف پرویز مشرف کے درمیان اختلافات سامنے آئے۔

اکتوبر 1999 میں نوازشریف نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کو ان کے غیر ملکی دورہ سے واپسی کے سفر پر دوران پرواز ہٹا کر جنرل ضیا الدین خواجہ کو آرمی چیف مقرر کرنے کا اعلان کیا مگر جنرل مشرف نے بھی واپسی کی حکمت عملی سوچ لی تھی۔

سابق صدر اور آرمی چیف پرویز مشرف اپنے عہدے پر نو سال ایک ماہ اور 23 دن تک رہے اور خود ہی اپنے آپ کو توسیع دے کر آرمی چیف کے عہدے پر فائض رہے۔ پرویز مشرف پاکستان کیلئے 2 جنگیں لڑ چکے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube