Tuesday, January 18, 2022  | 14 Jamadilakhir, 1443

عمران خان کے بھانجے کے گھر پر پولیس کاچھاپہ

SAMAA | - Posted: Dec 13, 2019 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Dec 13, 2019 | Last Updated: 2 years ago

پی آئی سی پر حملے کے بعد پولیس کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کے گھر پر گرفتاری کیلئے چھاپہ مارا گیا، تاہم گرفتاری عمل میں نہ آسکی۔

لاہور پولیس کے مطابق پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیولوجی پر بدھ 11 دسمبر کو ہونے والے وکلا کے حملے میں وزیراعظم عمران خان کے بھانجے حسان نیازی بھی شامل تھے۔ حسان نیازی حفیظ اللہ نیازی کے بیٹے ہیں اور لاہور میں رہائش پذیر ہیں۔

حسان نیازی کی گرفتاری کیلئے انویسٹی گیشن ونگ نے ان کی رہائش پر چھاپہ مارا، تاہم وہ گھر پر موجود نہ تھے، جس کی وجہ سے انہیں گرفتار نہیں کیا جاسکا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ان کے پاس حسان نیازی کی گرفتاری کا حکم نامہ موجود ہے۔

حسان نیازی پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور خود کو انسانی حقوق کا کارکن بھی کہتے ہیں۔

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر پی آئی سی حملے کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد حسان نیازی کا نام بھی منظر عام پر آیا تھا۔ دوسری جانب معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ کوئی قانون سے بالا تر نہیں، جو جو ملوث ہوا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حسان نیازی کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد حسان نے ٹوئٹر پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے اس تمام واقعہ اور اپنی حرکت پر معافی مانگی تھی اور اسے انتہائی شرمناک قرار دیا تھا۔ اس حوالے سے بیرسٹر حسان کا کہنا تھا کہ ویڈیو کلپ دیکھ کر شرمندگی محسوس کرتے ہیں، یہ ایک قتل ہے۔

پی آئی سی میں ہنگامے اور توڑ پھوڑ کے بعد بدھ 11 دسمبر کی شام نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب حکومت کے صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے اس سارے ہنگامے کی ذمہ داری پاکستان مسلم لیگ (ن) پر ڈالی تھی۔

مسلم لیگ ن کی مائزہ حمید نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ وہ لوگ جو ن لیگ پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں انھیں درست معلومات دینی چاہییں۔

پس منظر

وزیراعظم عمران خان کا بھانجا بیرسٹر حسان بھی پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) پر حملہ کرنے میں ملوث نکلا۔

پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو لوجی میں 11 دسمبر بدھ کے روز ہونے والے وکلاء کے حملے میں خاتون سمیت 3 مریض بروقت علاج نہ ملنے پر انتقال کرگئے تھے۔ وکلاء نے اسپتال میں توڑ پھوڑ کی اور ڈاکٹرز، عملے اور تیمارداروں کو تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں کے شیشے بھی توڑ ڈالے تھے۔

حسان نیازی حملہ آوروں کو اکساتے رہے، پتھر اور ڈنڈے مارنے والوں کا ساتھ دیتے رہے، جس پولیس موبائل کو وکیلوں نے شعلوں کی نذر کیا اور جلتی موبائل پر ڈانس کیا، اُس پولیس موبائل کا دروازہ حسان نیازی نے ہی اپنے ہاتھوں سے کھولا تھا۔ ویڈیوز میں حسان نیازی کا چہرہ واضح نظر آ رہا ہے۔

پولیس نے اس واقعے میں ملوث 46 سے زائد وکلاء کو گرفتار کیا اور انہیں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube