Thursday, October 1, 2020  | 12 Safar, 1442
ہوم   > پاکستان

بچی کے اغوا کیس میں سرفراز بگٹی کی عبوری ضمانت

SAMAA | - Posted: Dec 9, 2019 | Last Updated: 10 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 9, 2019 | Last Updated: 10 months ago

کمسن بچی کے اغواء کے مقدمہ میں بلوچستان کے سابق وزیر داخلہ سینیٹر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ کی سیشن عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کرلی۔

سیشن عدالت کوئٹہ کے جج آفتاب لون نے کیس کی سماعت کی۔ سینیٹر سرفراز بگٹی اور ان کے وکیل کامران مرتضیٰ ایڈوکیٹ اور نور جان بلیدی ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے جہاں وکلا نے ان کو مکمل پروٹوکول دیا اور چائے کے ساتھ بسکٹ بھی پیش کیے۔

عدالت نے سینیٹر سرفراز بگٹی کی عبوری ضمانت 2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کرتے ہوئے 21 دسمبر تک کارروائی ملتوی کردی۔

دوسری جانب اغوا ہونے والی بچی کو تاحال اس کی نانی کے سپرد نہیں کیا گیا جس کا مقدمہ سرفراز بگٹی اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کیا گیا ہے۔

گزشتہ روز کوئٹہ کی ایک خاتون نے بجلی روڈ تھانہ میں مقدمہ درج کراتے ہوئے بتایا تھا کہ میری بیٹی کی شادی سرفراز بگٹی کے قریبی ساتھی توکل بگٹی کے ساتھ ہوئی تھی مگر 2013 میں توکل بگٹی نے اس کو قتل کردیا۔

مقتولہ کی کسمن بیٹی کو بلوچستان ہائیکورٹ نے پرورش کے لیے اس کی نانی کے حوالے کیا اور عدالت نے نانی کو ہدایت کی کہ کسمن بچی کو ہر ہفتے 2 گھنٹے کیلئے اس کے والد توکل بگٹی کے ساتھ ملاقات کرنے دی جائے۔

نانی نے پولیس کو بتایا کہ ہفتے کو عدالتی حکم کے مطابق اپنے بیٹے کے ہمراہ بچی کو گاڑی میں بٹھاکر اس کے والد سے ملاقات کروانے کیلئے عدالت لے گئی۔ وہاں دو بلیک ویگو گاڑیوں میں متعدد مسلح افراد آئے اور فیملی کورٹ نے ہمیں ہدایت کی کہ ان کے ساتھ چلے جائیں۔

نانی کے مطابق میں اپنے بیٹے کے ساتھ کار میں بیٹھی اور بچی کو انہوں ویگو میں بٹھایا اور گاڑیاں ایک گھر کے باہر جاکر رک گئیں۔ جہاں سیکیورٹی گارڈز نے مجھے بتایا کہ یہ سرفراز بگٹی کا گھر ہے اور ہم ان کے باڈی گارڈز ہیں۔ ہم نے کافی دیر باہر انتظار کرنے کے بعد بچی کی واپسی کا مطالبہ کیا تو وہاں موجود لوگوں نے دھمکی دی کہ یہاں سے چلے جائیں ورنہ آپ کو اور آپ کے بیٹے کو ماردیں گے۔

اس کے بعد نانی اپنے بیٹے کے ہمراہ واپس عدالت پہنچی اور ماجرا سنایا جس پر عدالتی عملے نے توکل بگٹی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر اس کا فون بند تھا۔

نانی نے ہفتے کی رات اہل خانہ کے ہمراہ بچی کی بازیابی کے لیے ریڈ زون بند کر کے احتجاج کیا اور کہا کہ توکل بگٹی نے کسمن بچی کی ماں کو پہلے قتل کیا۔ اب خدشہ ہے کہ وہ بچی کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

پولیس نے نانی کی مدعیت میں سرفراز بگٹی اور توکل بگٹی کے خلاف بچی کے اغوا کا مقدمہ درج کرلیا ہے جس میں سرفراز بگٹی نے آج عبوری ضمانت حاصل کرلی جبکہ بچی کا باپ اور دیگر ملزمان تاحال قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube