ہوم   >  پاکستان

عدالت کا 45 دن میں پشاورمیٹرو کی تحقیقات کا حکم

SAMAA | - Posted: Dec 6, 2019 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 6, 2019 | Last Updated: 2 months ago

پشاور ہائی کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کو 45 دن کے اندر بی آر ٹی منصوبے کی انکوئری کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے ایف آئی اے کو 45 دن کے اندر بی آر ٹی کی انکوئری کا حکم دیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے منصوبے کو ویژن کے بغیر فیس سیونگ کے لیے شروع کیا۔ ناقص منصوبہ بندی کے باعث منصوبے کی لاگت میں 35 فیصد کا اضافہ ہوا اور پشاور کے رہائشوں کے لیے تکلیف کا باعث بنا۔

فیصلے کے مطابق منصوبے نے 6 ماہ میں مکمل ہونا تھا لیکن سیاسی اعلانات کے باعث تاخیر کا شکار ہوا اور لاگت بھی بڑھتی  گئی اور فی کلومیٹر لاگت 2 ارب 42 کروڑ، 70 لاکھ روپے ہے جو بہت زیادہ ہے۔ کیا منصوبے کے لیے اتنا بڑا قرضہ لینے کی ضرورت تھی۔ بی آر ٹی کے قرضہ سے صوبے کی معاشی خوشحالی بھی ممکن تھی۔

فیصلے میں صوبائی حکومت سے پوچھا گیا ہے کہ ٹرانس پشاور کے سی ای او کو عہدہ سے کیوں ہٹایا گیا؟ ٹھیکہ دار کمپنی پنجاب میں بلیک لسٹ تھی، اس کے باوجود اسے بی آر ٹی کا ٹھیکہ دیا گیا۔ منصوبے میں بد انتظامی کے باعث 3 پروجیکٹ ڈائریکٹرز کو ہٹایا گیا۔ پی سی ون میں غیر متعلقہ اسٹاف کے لیے بھی پرکشش تنخواہیں رکھی گئیں۔ اے سی ایس اور وزیراعلی کے پرنسپل سیکریٹری کو بھی ادائیگی کی گئی۔ کمزورمعیشت رکھنے والا صوبہ اس کا متحمل نہیں تھا۔

عدالت نے کہا کہ لاہور میں میٹرو بس کی تعداد 65 ہے جب کہ پشاور کے لیے 219 بسیں استعمال کی جانی ہیں۔ 155 بسیں فیڈر روٹس پر چلیں گی جنہیں نجی ٹرانسپورٹرز چلائیں گے۔ عوام کے پیسوں پر چلنے والی بسیں نجی ٹرانسپورٹرز کو کیوں دی جارہی ہیں؟ ایسا لگتا ہے منصوبے کے لیے نااہل کنسلٹنٹس کو رکھا گیا۔

عدالت نے پوچھا کہ پرویز خٹک، ڈی جی پی ڈی اے وٹو، اعظم خان اور ڈی جی پی ڈی اے اسرار، شہاب علی شاہ اور وزیر ٹرانسپورٹ شاہ محمد کے درمیان کیا تعلق تھا؟ اپنے حصے لینے کے لیے ان کا کس طرح تعلق بنا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube