ہوم   >  پاکستان

ویڈیو:راولپنڈی پولیس نے ریڑھی بان کے جیکٹس واپس کردیے

7 days ago

گزشتہ روز ٹریفک اہلکار زبردستی لیے گئے تھے

راولپنڈی پولیس کے سربراہ محمد احسن یونس نے ایک ریڑھی بان کو اس کے جیکٹ واپس کرواکر سوشل میڈیا صارفین کے دل جیت لیے ہیں۔

گزشتہ روز اسلام آباد کے رہائشی عثمان بیگ نامی سوشل میڈیا صارف نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ راولپنڈی کے چاندنی چوک کے قریب ایک شخص سڑک کنارے ریڑھی پر جیکٹس فروخت کر رہا ہے۔ اسی دوران ٹریفک پولیس کی گاڑی آتی ہے۔ ایک وارڈن اترتا ہے اور ریڑھی سے جیکٹوں کا بنڈل اٹھاکر چلا جاتا ہے۔

عثمان بیگ اتفاق سے ذرا فاصلے پر کھڑے تھے، انہوں نے اس پورے واقعے کی ویڈیو بنائی۔ ٹریفک پولیس کے جانے کے بعد عثمان بیگ ریڑھی والے کے پاس گئے تو ریڑھی والے نے بتایا کہ وہ بازار میں ریڑھی پر جیکٹس فروخت کرتا ہے مگر پولیس نے اس کی ریڑھی ہٹائی تو وہ بازار سے نکل کر قدرے ویران علاقے میں روڈ سائیڈ پر کھڑا ہوگیا۔

اس ریڑھی والے کی شناخت ظاہر خان کے نام سے ہوئی جس کا تعلق سوات سے ہے۔ ظاہر خان بیمار ہے اور کئی آپریشنز بھی کرچکا ہے مگر اس کے باوجود محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہے۔ ظاہر خان نے ویڈیو میں قمیص اوپر کرکے اپنا پیٹ بھی دکھایا جس پر آپریشن کے نشانات واضح تھے۔ اس نے بتایا کہ یہ پولیس والے عزت سے مزدوری کرنے نہیں دیتے اور بھیک میں نہیں مانگ سکتا۔ آخر غریب بندہ کہاں جائے۔

یہ ویڈیو فیس بک پر اپ لوڈ ہوتے ہی وائرل ہوگئی۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ٹریفک اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جس پر راولپنڈی پولیس چیف محمد یونس احسن نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے سینئر ٹریفک وارڈن انسپکٹر شیر دل اور ٹریفک اسسٹنٹ ڈرائیور وسیم کو معطل کر دیا اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن کو معاملہ کی انکوائری کرکے رپورٹ کرنے کا حکم دے دیا۔

آج منگل کو راولپنڈی پولیس کے سربراہ محمد یونس احسن نے خود چاندنی چوک جاکر ریڑھی بان ظاہر خان سے ملاقات کی۔ اس کے جیکٹس واپس کیے اور معافی بھی مانگ لی۔ ظاہر خان نے ان سے کہا کہ ’میں غریب بندہ ہوں، اس کا اجر آپ کو اللہ دے گا۔‘

راولپنڈی پولیس کے ترجمان سب انسپکٹر سجاد الحسن نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ظاہر خان نے ریڑھی روڈ پر کھڑی کرکے غلط کیا تھا مگر ٹریفک اہلکاروں نے بھی قانون کے مطابق کارروائی نہیں کی۔ ان کے اس عمل کو کسی طور ٹھیک نہیں کہا جاسکتا۔

ترجمان کے مطابق ایس ایس پی انوسٹی گیشن کی انکوائری رپورٹ آنے کے بعد اس کی سفارشات کی روشنی میں دونوں معطل اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

 
TOPICS:

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں