Friday, January 21, 2022  | 17 Jamadilakhir, 1443

نقیب اللہ محسود کے والد کی نماز جنازہ ادا

SAMAA | - Posted: Dec 3, 2019 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Dec 3, 2019 | Last Updated: 2 years ago

کراچی میں سابق ایس ایس پی راؤ انوار کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں قتل ہونے والے نوجوان نقیب اللہ محسود کے والد محمد خان محسود کی نماز جنازہ ادا کردی گئی ہے۔ نماز جنازہ میں سول اور فوجی حکام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے مرحوم محمد خان محسود کی نماز جنازہ ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے ٹانک کے ٹاؤن ہال گراؤنڈ میں ادا کی گئی، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، جب کہ بریگیڈئر امتیاز حسین اور ڈی سی ٹانک سمیت قبائلی، سول اور فوجی حکام بھی موجود تھے۔

واضح رہے کہ مقتول نقیب اللہ محسود کے والد محمد خان محسود وہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھے اور گزشتہ 7 ماہ سے راول پنڈی کے کمبائنڈ ملٹری اسپتال (سی ایم ایچ) میں زیر علاج تھے، جہاں ان کا مفت علاج جاری تھا۔ ان کا انتقال گزشتہ روز اسپتال میں ہی ہوا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ محمد خان محسود نقیب اللہ محسود کیس کے مدعی تھے اور 2 ہفتے قبل آخری مرتبہ وہیل چیئر پر اسلام آباد ہائیکورٹ آئے اور وہاں سے واپس اسپتال چلے گئے۔

آرمی چیف کا اظہار افسوس

نقیب اللہ محسود کے والد محمد خان محسود کے انتقال پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے بھی افسوس کا اظہار کیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف نے کہا ہے کہ نقیب اللہ کے والد محمد خان سے کیے گئے وعدے کو نبھائیں گے اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ آرمی چیف نے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی۔

نقیب اللہ محسود کے قتل کے بعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نقیب اللہ محسود کے گھر  جاکر ان کے والد سے ہمدردی کا اظہار کیا تھا اور مقتول نقیب اللہ کے معصوم بچوں کو گود میں اٹھاکر لواحقین کو انصاف دلانے کا وعدہ کیا تھا، تاہم 2 سال گزرنے کے باجود راؤ انوار کو گرفتار نہیں کیا جاسکا، جب کہ مقدمے کا ٹرائل بھی آگے نہ بڑھ سکا۔

نقیب اللہ محسود کیس

جنوری 2018 میں جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ نقیب اللہ کو ایس ایس پی راؤ انوار کی جانب سے جعلی پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا۔ پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ شاہ لطیف ٹاؤن کے عثمان خاص خیلی گوٹھ میں مقابلے کے دوران 4 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ جن کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تھا۔

ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی جانب سے اس وقت الزام لگایا گیا تھا کہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے افراد دہشت گردی کے بڑے واقعات میں ملوث تھے اور ان کے لشکر جنگھوی اور عسکریت پسند گروپ داعش سے تعلقات تھے۔ اس واقعے کے بعد نقیب اللہ کے ایک قریبی عزیز نے پولیس افسر کے اس متنازع بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مقتول حقیقت میں ایک دکان کا مالک تھا اور اسے ماڈلنگ کا شوق تھا۔

نقیب اللہ کے قریبی عزیز نے بتایا تھا کہ جنوری میں نقیب اللہ کو سہراب گوٹھ پر واقع کپڑوں کی دکان سے سادہ لباس افراد مبینہ طور پر اٹھا کر لے گئے تھے جبکہ 13 جنوری کو پتہ چلا تھا کہ اسے مقابلے میں قتل کردیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد ملک بھر میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور اس واقعے کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی جبکہ راؤ انوار کے خلاف مقدمہ درج کرکے اس کو معطل کردیا گیا اور ان کے وارنٹ بھی جاری کیے گئے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube