ہوم   >  پاکستان

اتناظلم یزید اور ابرہہ نےنہیں کیا، محمدخان کے آخری الفاظ

1 week ago

راؤ انوار کی گرفتاری کا بھی مطالبہ کیا

کراچی میں جعلی پولیس مقابلے میں مارے گئے نوجوان نقیب اللہ محسود کے والد محمد خان محسود بیٹے کیلئے انصاف مانگتے مانگتے دنیا سے منہ موڑ گئے۔

جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے محمد خان محسود کینسر میں مبتلا تھے اور گزشتہ 7 ماہ سے راولپنڈی میں زیر علاج تھے جہاں دوران علاج ہی چل بسے۔

خاندانی ذرائع کے مطابق محمد خان محسود کی نماز جنازہ کل بروز منگل دن 2 بجے ان کے آبائی علاقہ مکین جنوبی وزیرستان میں ادا کی جائے گی اور بعد ازاں آبائی قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

محمد خان محسود نقیب اللہ محسود کیس کے مدعی تھے اور  دو ہفتے قبل آخری مرتبہ وہیل چیئر پر اسلام آباد ہائیکورٹ آئے اور وہاں سے واپس اسپتال چلے گئے۔

آخری پیغام

محمود خان محسود کی عدالت آمد کے موقع پر سماجی کارکن اور وکیل جبران ناصر بھی موجود تھے۔ جبران ناصر نے اس موقع پر ان کا ویڈیو پیغام ریکارڈ کروایا جس میں انہوں نے کہا کہ اتنا ظلم ابرہہ نے نہیں کیا تھا جتنا راؤ انوار نے کیا ہے۔

اپنی بیماری کے بارے میں بات کرتے ہوئے محمد خان محسود نے کہا کہ 6 ماہ سے بیمار ہوں اور تاحال صحت بہتر نہیں ہوئی۔ میں کراچی جانے کے قابل نہیں ہوں۔ ڈاکٹروں نے مجھے زیادہ بات کرنے اور سفر کرنے سے منع کیا ہے۔

وہ اپنی وہیل چیئر کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں اس تک محدود ہوگیا ہوں۔

راؤ انوار کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ وہ کسی بھی عدالت میں پیش نہیں ہوتا جبکہ میں مسلسل عدالتوں کے چکر لگاتا رہا۔ مجھے بتایا گیا کہ وہ گرفتار ہوں گے اور چند بعد ہی اس کی ضمانت ہوگئی۔

محمد خان محسود نے کہا کہ راؤ انوار کو گرفتار کیا جائے۔ میرے گواہ اس سے ڈرتے ہیں۔ کیوں کہ وہ سب لوگوں کو جانتا ہے اور ان کو دھمکی دیتا ہے۔ اگر یہ گرفتار ہوگا تو گواہ بے خوف ہوکر گواہی دے سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ میرے دو گواہ پہلے سے ہی گرفتار ہیں۔ باقی گواہ محصور ہیں۔ وہ مسجد اور جنازے میں نہیں جاسکتے۔ اتنا ظلم یزید اور ابرہہ نے نہیں کیا جتنا راؤ انوار نے کیا ہے۔ آخر وہ کیسے آزاد بازاروں میں گھومتا پھرتا ہے۔

مقدمہ کہاں تک پہنچا

جبران ناصر نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ مقدمہ تاحال انڈر ٹرائل ہے اور اسے منطقی انجام تک پہنچنے میں طویل عرصہ لگے گا۔ محمد خان محسود اس مقدمہ کے مدعی تھے۔ ان کے انتقال کے بعد خاندان کا کوئی دوسرا فرد مدعی بن سکتا ہے۔

نقیب اللہ محسود کیس

جنوری 2018 میں جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ نقیب اللہ کو ایس ایس پی راؤ انوار کی جانب سے جعلی پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا۔ پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ شاہ لطیف ٹاؤن کے عثمان خاص خیلی گوٹھ میں مقابلے کے دوران 4 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ جن کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تھا۔

ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی جانب سے اس وقت الزام لگایا گیا تھا کہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے افراد دہشت گردی کے بڑے واقعات میں ملوث تھے اور ان کے لشکر جنگھوی اور عسکریت پسند گروپ داعش سے تعلقات تھے۔

اس واقعے کے بعد نقیب اللہ کے ایک قریبی عزیز نے پولیس افسر کے اس متنازع بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مقتول حقیقت میں ایک دکان کا مالک تھا اور اسے ماڈلنگ کا شوق تھا۔

نقیب اللہ کے قریبی عزیز نے بتایا تھا کہ جنوری میں نقیب اللہ کو سہراب گوٹھ پر واقع کپڑوں کی دکان سے سادہ لباس افراد مبینہ طور پر اٹھا کر لے گئے تھے جبکہ 13 جنوری کو پتہ چلا تھا کہ اسے مقابلے میں قتل کردیا گیا۔

اس واقعہ کے بعد ملک بھر میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور اس واقعے کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی جبکہ راؤ انوار کے خلاف مقدمہ درج کرکے اس کو معطل کردیا گیا۔ راؤ انوار کافی عرصہ روپوش رہنے کے بعد عدالت میں پیش ہوا اور ضمانت لیکر گھومنے لگا۔

بعد ازاں عدالتی تحقیقات کے دوران ثابت ہوا کہ مقابلہ جعلی تھا۔ اس کے ساتھ ہی راؤ انوار کے سیکڑوں مقابلے بھی مشکوک ہوگئے اور 444 جوانوں کے ماورائے عدالت قتل کا بیانیہ زور پکڑ گیا۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں