ہوم   >  پاکستان

بھارتی مظالم کے 120 روز اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال

1 week ago

نومبر میں 7 کشمیری شہید جبکہ 82 شدید زخمی ہوئے

مقبوضہ کشمير ميں بھارت کی جانب سے مسلط کردہ کرفیو کو 4 ماہ ہوگئے ہیں جس کے باعث 80 لاکھ کشميريوں کی زندگی اجيرن بن گئی ہے۔

وادی کشمیر، جموں اور لداخ کے مسلم اکثریتی علاقوں میں آج 120 ویں روز بھی فوجی محاصرہ اور پابندیاں برقرار ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نومبر کے ماہ میں بھارتی فوجیوں کی فائرنگ سے 7 کشمیریوں شہید جبکہ 82 افراد شدید زخمی ہوئے۔ سری نگر کی عدالت نے حریت رہنما پروفیسر عبد الغنی بٹ اور جاوید احمد میر سمیت دیگر رہنماوں کی ضمانت منظور کر رکھی ہے۔

کرفیو کے باعث کھانے پينے کی اشيا کی بھی قلت ہے جب کہ انٹرنیٹ، فون اور موبائل سروس بند اور تعليمی اداروں پر تالے ہيں۔ سياسی قیادت سمیت ہزاروں کشمیری جيلوں ميں قيد ہیں۔

سماجی و سياسی تنظيموں کے تحت جموں سے سری نگر تک مارچ کيا گيا جسے قابض فورسز نے رامبن کے قريب زبردستی روک ليا مگر کشميريوں کا جذبہ آزادی اب بھی جواں ہيں۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کرفیو کے 100 دن

محرم الحرام اور عيد ميلاد النبی پر بھی جلوس نہيں نکالنے ديے گئے جبکہ سری نگر کی جامع مسجد سميت اہم مساجد ميں نماز جمعہ بھی ادا نہيں کرنے دی جاتی۔

دوسری جانب مودی حکومت نے ملائيشیا، ترکی، ایران اور پاکستان کے ٹی وی چينلز کی نشريات پر مکمل طور پر پابندی عائد کر دی ہے۔

پاکستان، چین، ترکی، ملائیشیا سمیت دیگر ممالک اور اقوام متحدہ نے بھارت کے 5 اگست کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور کرفیو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہوا ہے دوسری جانب پاکستان کی جانب سے سفارتی سطح پر مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

پانچ اگست کو مقبوضہ کشمير سے متعلق بھارت کے اقدام کے خلاف 14 اگست کو پاکستان کا يوم آزادی اور 6 ستمبر کو يوم دفاع يوم يکجہتی کشمير کے طور پر منايا گيا۔ حکومت پاکستان کے اعلان کے مطابق ہر جمعے کو مظلوم کشميريوں سے اظہار يکجہتی کيا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے وادی میں کرفیو نافذ کر دیا تھا جو تاحال برقرار ہے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
Jammu Kashmir, India, Pakistan, curfew 120 days, Hurriyat leaders, Srinagar