Friday, August 14, 2020  | 23 Zilhaj, 1441
ہوم   > پاکستان

سنگین غداری کیس،5 دسمبرسےکیس کی روزانہ سماعت کا فیصلہ

SAMAA | and - Posted: Nov 28, 2019 | Last Updated: 9 months ago
Posted: Nov 28, 2019 | Last Updated: 9 months ago

کےحکمنامےکی کاپی خصوصی عدالت کو موصول

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں 5 دسمبر سے پہلے کسی بھی دن اپنا بیان ریکارڈ کروانے کی مہلت دے دی۔

جمعرات کو خصوصی عدالت میں پرویزمشرف سنگین غداری کیس کی سماعت ہوئی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کےحکمنامےکی کاپی خصوصی عدالت کو موصول ہوگئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی کاپی رجسٹرار نے وصول کی۔عدالت نے 5 دسمبر سے کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔

عدالت نے کیس کی سماعت 5 دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اُس کے بعد کوئی التواء نہیں دیں گے۔ عدالت نے پراسیکیوشن ٹیم کو آئندہ سماعت پر پوری تیاری کیساتھ پیش ہونے کی ہدایت کی اور سرکاری وکیل کو 5 دسمبر کو دلائل مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف 5 دسمبر سے پہلے کسی بھی دن اپنا بیان ریکارڈ کراسکتے ہیں۔

بدھ کو اسلام آباد ہائيکورٹ نے مشرف غداری کيس میں خصوصی عدالت کو فیصلہ سنانے سے روک دیا تھا۔ اسلام آباد ہائيکورٹ نے وزارت داخلہ کی درخواست منظور کرلی تھی۔ عدالت نے حکومت کو 5 دسمبر تک نیا پراسیکیوٹر تعینات کرنے کی ہدایت کی ہے،خصوصی عدالت کو فئیر ٹرائل کے تقاضے مدنظر رکھتے ہوئے ٹرائل مکمل کرنے کا کہا ہے۔

جسٹس محسن کيانی نے دوران سماعت استفسار کیا کہ کیا وفاقی حکومت آج مشرف کیخلاف کیس نہیں چلانا چاہتی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے پوچھا گیا کہ  یہ بتائیں کہ کیا آپ مشرف کیخلاف کیس چلانے میں دلچسپی نہیں رکھتے؟جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دئیے کہ غلطی اگرآپ کی تھی تو ہم سے کیا چاہتے ہیں؟۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ شکایت کرنے والا کہہ رہا ہے کہ شکایت غلط تھی،  شکایت غلط ہونے پر ہم کیا کر سکتے ہیں؟ کیا وفاقی حکومت آج مشرف کیخلاف کیس نہیں چلانا چاہتی ؟

 ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے ریمارکس دئیے کہ نہیں ایسا نہیں ہے کہ ہم کیس نہیں چلانا چاہتے، چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ یہ ہم سب کے لئے ایک انتہائی پیچیدہ کیس ہے۔ اس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دئیے کہ یہ کیس مضحکہ خیز بھی ہے۔

منگل کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے پرويز مشرف سنگین غداری کیس کا فیصلہ رکوانے کے لیے وزارت داخلہ کی درخواست پر وزارت قانون سے ریکارڈ طلب کرلیا تھا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نےسوال اٹھايا تھا کہ وفاق خود ہی کیسے کہہ رہا ہے کہ خصوصی عدالت کی تشکیل درست نہیں تھی، ریکارڈ سے دیکھنا ہوگا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے وزارت داخلہ کی نمائندگی کے لئےاسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے تھے۔ عدالت نے سوال اٹھایا تھا کہ وفاق اب کیسے کہہ سکتا ہے کہ خصوصی عدالت کی تشکیل درست نہیں تھی یا شکایت مجاز اتھارٹی سے نہیں کی گئی تھی۔

جسٹس عامر فاروق نے سرکاری وکیل سے سوال کیا تھا کہ آپ نے مشرف ٹرائل سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھ رکھا ہے،آپ کو حقائق معلوم نہیں تو دلائل دینے کیسے آگئے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube