ہوم   >  پاکستان

آرمی بغیرکمانڈہوئی توذمہ دارکون ہوگا،حکومت کل تک حل نکالے،چیف جسٹس

1 week ago

جنرل باجوہ کی ملازمت توسیع کیس سماعت کل تک ملتوی

سپریم کورٹ میں آرمی چيف کی مدت ملازمت ميں توسيع کيس کی ايک اور اہم سماعت بدھ کے روز ہوئی جس کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نئے نوٹیفکیشن میں غلطیوں پر حکومت کی سخت سرزنش کی اور کہا کہ حکومت کے پاس کل تک کا وقت ہے وہ کوئی حل نکال لے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ناجائز کسی کو نہیں چھیڑنا چاہتے تاھم کوئی غیر قانونی کام ہوا تو اسے کالعدم قرار دینے کا حلف اٹھایا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر آرمی بغیر کمانڈ ہو گئی تو پھر اس کا زمہ دار کون ہوگا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے ریاض حنیف راہی ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔ بینچ کے دیگر معزز ممبران میں جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس سید منصور علی شاہ شامل ہیں۔آرمی چيف کی مدت ملازمت ميں توسيع سے متعلق کيس کی سماعت کل بروز جمعرات  تک ملتوی کردی گئی ہے۔ عدالت نے نئے نوٹیفکیشن میں غلطیوں پر حکومت کی سخت سرزنش کی اور کہا کہ حکومت کے پاس کل تک کا وقت ہے، ہم ناجائز کسی کو نہیں چھیڑنا چاہتے،اگر کوئی غیر قانونی کام ہوا تو اسے کالعدم قرار دینے کا حلف اٹھایا ہے۔

عدالت ميں آرمی چیف کی تعیناتی کا نیا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کرديا گيا۔ اٹارني جنرل نے بتايا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کل رات بارہ بجے ختم ہوگی، آرمی چیف کو مدت مکمل ہونے پر دوبارہ تعینات کیا گیا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ کنونشن شاید اس وقت آتے ہیں جب قانون میں خلاء ہو، توقع ہے آپ کے دلائل سے خلاء ختم ہو جائے گا۔ چیف جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دئیے کہ اگر آرمی چیف کو دوبارہ تعینات کیا ہے تو صاف بتائیں۔

اٹارنی جنرل کی جانب سے کابینہ کی منظور کردہ نئی سمری پیش کئے جانے پر چيف جسٹس نے ريمارکس ديئے کہ کابینہ نے غلطیوں کی نشاندہی کو تسلیم کرلیا۔ يہ انتہائی اہم معاملہ ہے۔ 5-7 جنرل خود کو توسيع ديتے رہے، کسی نے پوچھا تک نہيں۔ اب معاملہ سامنے آيا ہے تو اُسے دیکھیں گے تاکہ آئندہ کیلئے کوئی بہتری آئے۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ نوٹیفکیشن میں آرٹیکل 243 کا ذکر نہیں ہے،نوٹیفکیشن کے مطابق آرمی چیف کو توسیع دی گئی ہے، نوٹیفکیشن کے مطابق آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کو محدود کیا گیا ہے،پرانے نوٹیفکیشن میں تعیناتی کا ذکر تھا اس میں توسیع کا ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ جو سمری صدر کو بھجوائی گئی تھی اس میں آئین کے آرٹیکل 243 کا ذکر ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ سمری کے مطابق وزیراعظم نے توسیع کی سفارش ہی نہیں کی،سفارش نئی تقرری کی تھی لیکن نوٹیفکیشن توسیع کا ہے،کیا کسی نے سمری اور نوٹیفکيشن پڑھنے کی بھی زحمت نہیں کی،کل ہی سمری گئی اور منظور بھی ہوگئی،آرٹیکل 243 کے تحت تعیناتی ہوتی ہے توسیع نہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر نے دستخط دوبارہ تعیناتی کے ہی کیے ہیں، وزارت کی سطح پر شاید نوٹیفکیشن میں توسیع لکھا گیا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دئیے کہ 29 نومبر کو جنرل باجوہ آرمی اسٹاف کا حصہ نہیں ہوں گے،نوٹیفکیشن کے مطابق 29 نومبر سے دوبارہ تعیناتی ہوگی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کمانڈ کی تبدیلی تک جنرل باجوہ دوبارہ ریٹائر نہیں ہوں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ سمری میں لکھا ہے کہ 29 نومبرکوجنرل باجوہ ریٹائرہوجائیں گے،حکومت کہتی ہے کہ جنرل باجوہ ریٹائر ہورہے ہیں،اٹارنی جنرل کہتے ہیں کہ جنرل کبھی ریٹائر نہیں ہوتا،عدالت کے ساتھ ایک اور صاف بات کریں،جو اسٹاف کا حصہ نہیں وہ آرمی چیف کیسے بن سکتا ہے،دوبارہ تعیناتی کا مطلب ہے کہ پہلے تعیناتی ختم ہوگئی،پاک فوج کا معاشرے میں بہت احترام ہے،وزارت قانون اور کابینہ ڈويژن کم ازکم سمری اور نوٹیفکیشن تو پڑھیں،فوجیوں نے خود آ کر تو سمری نہیں ڈرافٹ کرنی ہے۔

عدالت کی جانب سے آرمی چیف کو باضابطہ طور پر فریق بناتے ہوئے جنرل قمر باجوہ، وزارتِ دفاع اور وفاقی حکومت کو آج سماعت کیلئے نوٹسز جاری کیے گئے تھے۔ آرمی چیف کی جانب سے سابق وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم پیش ہوئے، جب کہ وفاقی حکومت کی نمائندگی اٹارنی جنرل انور منصور نے کی۔

چيف جسٹس نے سماعت کے آغاز پر درخواست گزار کو روسٹرم پر بلايا اور پوچھا کہ راہی صاحب آپ کل کہاں رہ گئے تھے،کل تشریف نہیں لائے،ہم نے آپ کی درخواست زندہ رکھی۔ درخواست گزار نے بتايا کہ حالات مختلف پیدا ہوگئےہیں، جس پر چيف جسٹس بولے ہم اِن ہی حالات میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

عدالتی ریمارکس میں کہا گیا کہ ريمارکس ديئے کہ جس سیکشن 255 میں کل ترمیم کی گئی وہ آرمی چیف سے متعلق ہے ہی نہیں۔ رولز آرمی ایکٹ کی دفعہ 176 اے کے تحت بنائے گئے۔ آرمی ایکٹ میں صرف یہ لکھا ہے کہ آرمی چیف فوج کی کمانڈ کریں گے۔

جس پر اٹارنی جنرل انور منصور نے کابینہ سے منظور کی گئی نئی سمری عدالت میں پیش کی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے آج بھی ہمیں آرمی ریگولیشنز کا مکمل مسودہ نہیں دیا گيا۔ آرمی چیف کی مدت تعیناتی کا اختیار کس کو ہے؟، کیا ریٹائرڈ جنرل کو آرمی چیف تعینات کیا جا سکتا ہے۔ بظاہر تعیناتی میں توسیع آرمی ریگولیشنز کے تحت نہیں دی گئی۔

چيف جسٹس نے واضح کیا کہ يہ انتہائی اہم معاملہ ہے۔ سارا کیس 255 اے کے گرد گھوم رہا ہے۔ 5-7 جنرل خود کو 10-10 توسیع دیتے رہے، کسی نے پوچھا تک نہیں۔ قانون سمجھنا چاہتے ہیں کہ ہمیں کوئی جلدی نہیں۔ معاملے کو دیکھیں گے تاکہ آئندہ کیلئے کوئی بہتری آئے۔ بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے سماعت ميں دن ايک بجے تک وقفہ کردیا۔

چیف جسٹس کی بات پر عدالت میں قہقے

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع یا تقرری کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل سابق آرمی چیف جنرل کیانی کو جسٹس کیانی کہہ گئے۔ اٹارنی جنرل کے اس بیان پر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے توجہ دلائی اور کہا کہ وہ جسٹس نہیں جنرل کیانی تھے، جس پر عدالت میں قہقے لگ گئے۔

قبل ازیں منگل 26 نومبر کو ہونے والی سماعت میں درخواست گزار کی جانب سے ہاتھ سے لکھی گئی تحریر کے ذریعے درخواست واپس لینے کی استدعا کی گئی تھی،جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے تھے کہ ہاتھ سے لکھی درخواست کیساتھ کوئی بیان حلفی نہیں، معلوم نہیں مقدمہ آزادانہ طور پر واپس لیا جا رہا ہے یا نہیں۔

علاقائی سکیورٹی سے نمٹنا فوج کا بطور ادارہ کام ہے

گزشتہ روز ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامے میں کہا تھا کہ عدالت کو بتایا گیا کہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتِ حال کے پیش نظر آرمی چیف جو توسیع دی جا رہی ہے۔ علاقائی سیکیورٹی سے نمٹنا فوج کا بطور ادارہ کام ہے کسی ایک افسر کا نہیں۔ علاقائی سیکیورٹی کی وجہ مان لیں تو فوج کا ہر افسر دوبارہ تعیناتی چاہے گا۔

عدالت نے قرار دیا کہ اٹارنی جنرل آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع یا نئی تعیناتی کا قانونی جواز فراہم نہیں کر سکے۔ کیس میں اٹھنے والے تمام نکات کا تفصیلی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے اس درخواست کو مسترد کر دیا جس میں عدالت سے آرمی چیف کی توسیع کے خلاف مقدمہ واپس لینے کی استدعا کی گئی تھی۔ عدالت نے اسے مفاد عامہ کا کیس قرار دیتے ہوئے درخواست کو از خود نوٹس میں تبدیل کر دیا۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کانوٹیفکشن معطل

سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل انور منصور خان نے عدالت کو بتایا کہ صدر مملکت کی منظوری کے بعد آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا نوٹی فکیشن جاری ہو چکا ہے جس پر عدالت نے کہا کہ وہ صدر کی منظوری اور نوٹی فکیشن دکھائیں۔

اٹارنی جنرل نے وزیراعظم کی صدر کو سفارش عدالت میں پیش کی جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وزیرِ اعظم کو آرمی چیف تعینات کرنے کا اختیار نہیں، یہ صدر کا اختیار ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ آرمی رولز کے تحت صرف ریٹائرمنٹ کو عارضی طور پر معطل کیا جا سکتا ہے​۔

پس منظر

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ میں وزیراعظم عمران خان کے اس اقدام کو جیورسٹ فیڈریشن نے چیلنج کیا۔ ریاض حنیف راہی ایڈووکیٹ کے توسط سے یہ درخواست سپریم کورٹ پاکستان میں درخواست دائر کی گئی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے 29 نومبر کو ریٹائر ہونا تھا، تاہم وزیراعظم عمران خان نے ان کی ریٹائرمنٹ سے3 ماہ قبل ہی انہیں 3 برس کے لیے توسیع دینے کا اعلان رواں سال اگست میں کرتے ہوئے نوٹی فکیشن جاری کیا تھا۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کب آرمی چیف بنے؟

یاد رہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوج کی کمان نومبر 2016 میں سنبھالی تھی۔ انہیں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے فوج کی سربراہی کے لیے تعینات کیا تھا۔ جنرل باجوہ کو فوج کی کمان جنرل راحیل شریف سے منتقل ہوئی تھی۔

ازخود نوٹس کیوں؟

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے اس درخواست کو مفاد عامہ یعنی آئین کے آرٹیکل 184 تھری کے تحت سماعت کے لیے منظور کرلیا۔ عمومی طور پر اس ارٹیکل کے تحت ہونے والی کارروائی عدالت کی طرف سے از خود نوٹس کے ذمرے میں بھی آتی ہے۔

وزیر قانون مستعفیٰ

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے سپریم کورٹ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق مقدمے میں وفاقی حکومت کی نمائندگی کرنے کے لیے کابینہ سے استعفی دے دیا ہے۔ وزیرا عظم عمران خان نے وزیر قانون کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔ وفاقی وزراء نے واضح کیا کہ بیرسٹر فروغ نسیم سے وزیر اعظم نے کسی ناراضی کا اظہار نہیں کیا ہے بلکہ پوری کابینہ نے ان کی صلاحیتوں اور ان کے کام کو سراہا ہے۔

پاک فوج میں اہم تقرریاں

آرمی جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے دوسرے دور ملازمت شروع ہونے سے دو روز قبل پاکستانی فوج کے اہم عہدوں ہر بعض تبدیلیاں کی ہیں۔ پاکستانی فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے کے مطابق بعض اہم نوعیت کے تبادلوں کے علاوہ دو میجر جنرلوں کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدوں پر ترقی دے کر انھیں بھی اہم عہدوں پر تعینات کیا گیا ہے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
#BajwaExtension , #ExtensionNeedOfTime , CJ Khosa , Suo Moto , SCP, COAS, GENERAL QAMAR JAVED BAJWA, EXTENSION, SUPREME COURT OF PAKISTAN, PM, IMRAN KHAN, PTI, CJP, JUSTICE ASIF SAEED KHOSA, Farogh Naseem, sheikh rasheed, federal cabinet,