ہوم   >  پاکستان

پی ٹی آئی بیرونی فنڈنگ کی رسیدیں پیش کرے، احسن اقبال

2 weeks ago

اسلام آباد میں پریس کانفرنس

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے 23 اکاؤنٹس کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو جمع نہیں کروائیں۔ دوسروں پر کیچڑ اچھالنے والے خود کو مسٹر کلین بنا کر پیش کرتے ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ کل حکومت کی ٹیم نے اپوزیشن پر الزام لگایا کہ حزب اختلاف الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ حکومت نے خود ہتھکنڈے استعمال کیے اور پانچ سال تک فارن فنڈنگ کا کیس لٹکائے رکھا۔ ہم نے اتنی استدعا کی کہ اس کی روزانہ سماعت کی جائے۔

اپوزیشن رہنماؤں نے گزشتہ روز الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر اس سلسلے میں احتجاج کیا اور الیکشن کمیشن کو یادداشت پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تحریک انصاف کو ملنے والی بیرونی فنڈنگ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی جائے۔ یہ کیس تحریک انصاف کے بانی رہنما اور عمران خان کے ذاتی دوست اکبر ایس بابر نے دائر کیا ہے۔

اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ میں اور عمران خان نے پارٹی بناتے وقت ایک دوسرے سے وعدہ کیا تھا کہ ہم میں سے جو بھی غلط کرے تو دوسرا اس کے خلاف کھڑا ہوجائے گا۔ آج میں اپنا وعدہ نبھانے کیلئے تحریک انصاف کے خلاف کھڑا ہوں کیوں کہ پارٹی اپنی بنیادوں سے ہٹ چکی ہے۔

الیکشن کمیشن نے جمعرات کو اپوزیشن کی درخواست قبول کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 26 نومبر سے کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہوگی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ چیف الیکشن کمشنر 5 دسمبر کو ریٹائر ہورہے ہیں جس کے باعث کیس دوبارہ التوا کا شکار ہوسکتا ہے۔

احسن اقبال نے پریس کانفرنس میں کہا کہ مسلم لیگ ن کا کوئی اکاؤنٹ ایسا نہیں ہے جو رجسٹر میں نہ ہو جبکہ تحریک انصاف نے 23 اکاؤنٹس کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو جمع نہیں کروائیں۔ دوسروں پر کیچڑ اچھالنے والے خود کو مسٹرکلین ثابت کرتے ہیں۔ کرپشن پر اپنا پورا بیانیہ کھڑا کرنے اور دوسروں پر کرپشن کا الزام لگانے والی جماعت خود کرپٹ نکلی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ عوام کو بے فکر رہنے کا مشورہ دینے والے عدالت میں کارروائی کو خفیہ رکھنے کی درخواست کیوں دیتے ہیں۔ ہم کیس پر عملدرآمد کر کے یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ کوئی بیرونی قوت فنڈنگ کے ذریعے پاکستان پر اثرانداز نہ ہوسکے۔ تحریک انصاف نے کس کس سے پیسہ لیا، اسکی رسیدیں دینا ہوں گی۔

 
TOPICS:

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں