ہوم   >  پاکستان

مجھےوزیراعظم بننےکی پیشکش ہوئی تھی،اعتزازاحسن کادعویٰ

SAMAA | - Posted: Nov 21, 2019 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Nov 21, 2019 | Last Updated: 2 months ago

نواز شريف کا سمجھوتہ ہوجاتا ہے

چوہدری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ انھیں 2007 میں وزیراعظم بننے کی پیشکش ہوئی تھی تاہم انھوں نے انکار کردیا تھا۔

سماء کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں اعتزاز احسن نے بتایا کہ 5 مئی 2007 کو وکلاء تحريک کی ريلی تھی اور 3مئی کو مشرف کا قريبی ساتھي ميرے پاس آيا اور پیغام دیا کہ چھوڑيں ڈرائيونگ آپ کو وزيراعظم بناتےہيں۔

 انہوں نے بتایا کہ انھوں نے جواب دیا تھا کہ آپ کا وزيراعظم شوکت عزيز توموجود ہے،اس پر کہا گیا کہ اگر آپ ہاں کريں تو صرف10 منٹ ميں ٹی وی پرشوکت عزيز کےاستعفی کی خبرآئےگی۔

اعتزاز احسن نے مزید بتایا کہ انھوں نے جواب دیا تھا کہ کل کو تو مجھے بھی نکال ديں گے ليکن يہ آپ کیسے کريں گے۔ اس پراعتزازاحسن کو جواب دیا گیا تھا کہ آپ کو دل کا دورہ پڑے گا اور اے ايف آئی سی ميں داخل ہوجائيں گے،زوردار رپورٹس بنيں گی اور ساری شہادتيں تيار ہوجائيں گی۔

اعتزاز احسن سے سوال کیا گیا کہ اس کا مطلب ہےکہ ايسےدل کےدورےاور پھر اسپتال کی رپورٹس بھی بن جاتی ہيں۔ اس پر اعتزاز احسن نے بتایا کہ مجھے تو  پیشکش ہوئی تھی اور انہوں نے پورے يقين سے کہا تھا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ڈھائی گھنٹے تک ان کو راضی کرنے کیے کوشش کی جاتی رہی،جس کے بعد کہا تھا کہ ان کے ارادے نيک نہيں ہیں بچ کررہئے گا، اعتزاز اورچيف جسٹس خصوصی ٹارگٹ ہوں گے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ يہ بات صرف مجھے اور چيف جسٹس افتخار چوہدری کو معلوم تھی اور ہم سارے راستے پريشان رہے تھے، ہر پھول والے اور تھيلے والے کو ديکھتے اور ڈرتے رہے کہ کوئی گرنيڈ نہ آجائے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ بعد ميں پرويزالہی نے بتايا تھا کہ پبی کی پہاڑيوں پر آپ دونوں کو ختم کرنےکا حکم آيا تھا۔

پيپلزپارٹی کےسينئررہنما اعتزاز احسن نے انکشاف کیا ہے کہ اسٹيبلشمنٹ سے ہردفعہ نواز شريف کا سمجھوتہ ہوجاتا ہے۔ اعتزازاحسن نے کہا کہ طيارہ سازش کيس درست تھا ليکن عدالت نے لحاظ کيا کيونکہ حديبيہ شوگر ملز کی طرح يہ بھی اٹھا نہيں سکتے تھے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube