ہوم   >  پاکستان

رہبر کمیٹی کادھرنےختم کرکے ٓنئے پلان پرعمل کااعلان

3 weeks ago

FILE PHOTO

اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی نے پلان بی کے تحت ملک بھر میں جاری دھرنے ختم کرنے اور اپنے احتجاجی پروگرام کے اگلے مرحلے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت  ہر ضلع میں اتحادی جماعتوں کے مشترکہ جلسے ہوں گے۔

رہبر کمیٹی نے اپنے اگلے لائحہ عمل کا فیصلہ کنوینر اکرم درانی کی زیر صدارت منگل 19 نومبر کو منعقد ہونے والے اجلاس میں کیا جس پر مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سمیت اپوزیشن اتحاد میں شامل تمام جماعتوں نے اتفاق کیا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکرم درانی نے کہا کہ بدھ 20 نومبر سے شاہراہیں بند نہیں کی جائیں گی اور بدھ کے روز الیکشن کمیشن دفتر کے باہر احتجاج کیا جائے گا۔

 انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ اور نواز شریف کے متعلق عدالتی فیصلے کے بعد حکومت بوکھلا گئی ہے اور عمران خان کی گزشتہ روز کی تقریر اس بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان قوم کی حالت پر رحم کرتے ہوئے گھر چلے جائیں۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) نے پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کی معاونت سے 27 اکتوبر کو کراچی سے اسلام آباد تک آزادی مارچ کا انعقاد کیا۔  31 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت میں پڑاؤ ڈالا جس دوران مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم سے مستعفی ہونے اور جلد سے جلد نئے انتخابات کا مطالبہ کیا تھا۔

تفصیلات پڑھیں : فضل الرحمان کا آزادی مارچ ختم کرنے کا اعلان

جے یو آئی کے آزادی مارچ کا اسلام آباد میں پڑاؤ 13 نومبر کو ختم کرتے ہوئے پلان بی کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت روزانہ ملک بھر کی اہم شاہراہیں کئی کئی گھنٹوں تک بند کی گئیں۔

مزید جانیے : آزادی مارچ کا پلان بی، ملک بھر میں اہم شاہراہیں بند

اکرم درانی نے کہا کہ پلان بی اب ختم کردیا گیا ہے لہذا کل سے شاہراہیں بند نہیں کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اب ضلعی سطح پر اپوزیشن کے مشترکہ جلسے ہوں گے جن میں عوام  شرکت کرکے تحریک کو مؤثر بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ رہبر کمیٹی نے ایک اور کل جماعتی کانفرنس  بلانے کا فیصلہ کیا ہے جس کی ذمہ داری مولانا فضل الرحمان کو سونپی گئی ہے۔

جے یو آئی ف کے رہنماء کا مزید کہنا تھا کہ رہبر کمیٹی ارکان کل (بدھ کو) الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر احتجاج کریں گےاور الیکشن کمیشن سے فارن فنڈنگ کیس کے جلد فیصلے کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں : فضل الرحمان نےپلان بی یا سی سےہمیں آگاہ نہیں کیا،بلاول بھٹو

انہوں نے واضح کیا کہ جو گفتگو کررہا ہوں وہ تمام جماعتوں کی مشترکہ اور متفقہ ہے، کل ہی صوبائی صدور بیٹھ کر مشترکہ جلسوں کی تاریخوں کا تعین کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں اکرم درانی نے کہا کہ کمیٹی کے اراکین کو ہر معاملے پر اعمتاد میں لیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک گھر میں بھی اکثر مؤقف میں فرق آ جاتا ہے۔

پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماء فرحت اللہ بابر نے کہا کہ رہبر کمیٹی کی بریفنگ پر مطمئن ہیں اور فیصلوں کی مکمل توثیق کرتے ہیں، چوہدری برادران سے رابطوں پر بھی ہمیں اعتماد میں لیا گیا۔

مزید جانیے : جے یوآئی ف کا پلان بی، شہر شہر دھرنے جاری

پلان سی سے متعلق سوال پر مسلم لیگ ن کے رہنماء احسن اقبال نے کہا کہ یہ پلان سی نہیں اے پلس ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگلے سال شفاف الیکشن کے ذریعے جمہوری قیادت کو آگے آنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے نواز شریف کیلئے دعا کرنے پر عوام کا شکریہ بھی ادا کیا۔

رہبر کمیٹی کے سربراہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اب ڈی چوک کا رخ کرنے کی نوبت نہیں آئی گی اور اس کا بتہ کچھ ہی روز میں چل جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں : آزادی مارچ کے مقاصد : ایک رپورٹر کی نظر سے

اے این پی رہنما میاں افتخار حسین نے اس موقع پر کہا کہ جب تک مولانا اسلام آباد میں تھے حکومت منت سماجت کرکے ہمارے پاس آتی تھی لیکن مولانا کے جاتے ہی حکومت کا لب و لہجہ بدل گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شکر ہے نواز شریف کے بیرون ملک جانے سے متعلق فیصلہ عدالت نے دیا حکومت نے نہیں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
AZADI MARCH, JUIF, PPP, PTI, PMLN, PKMAP, ANP, JUP, NP, ARP, ASIF ZARDARI, FAZLUR REHMAN, IMRAN KHAN, NAWAZ SHARIF, SHEHBAZ SHARIF, BILAWALBHUTTO ZARDARI, CORRUPTION, NAB, MILITARY, ISPR, REHBAR COMMITTEE, GOVERNMENT COMMITTEE, PERVEZ ELAHI, AKRAM DURRANI, MEHMOOD KHAN ACHAKZAI, ASFANDYAR WALI, PERVAIZ KHATTAK