ہوم   >  پاکستان

نوازشریف کا علاج ریاست نہیں کرا رہی، وزیرقانون

3 weeks ago

وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا علاج ریاست کے خرچے پر نہیں ہورہا بلکہ شریف خاندان خود کر رہا ہے۔ برطانوی حکومت کے علم میں یہ تمام چیزیں لائیں گے۔ برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کو نوازشریف سے متلق عدالتی فیصلے سے آگاہ کیا جارہا ہے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرقانون نے کہا کہ نوازشریف کی سزا معطل ضرور ہوئی ہے، ختم نہیں ہوئی۔ لاہور ہائی کورٹ نے عبوری حکم دیا ہے۔ اگر نواز شریف واپس نہ آئے تو شہباز شریف توہین عدالت کے مرتکب ہوسکتے ہیں۔

فروغ نسیم نے کہا کہ لوگوں کو معلوم نہیں تھا کہ نوازشریف کی طبیعت اتنی خراب ہے۔ ہم نے کوشش کی وہ انڈیمنٹی بانڈ یا کوئی انڈر ٹیکنگ دے دیں اور کابینہ کا متفقہ فیصلہ تھا مگر نواز شریف نے انڈیمنٹی بانڈ یا بیان حلفی دینے سے انکار کیا اور عدالت میں جاکر مان لیا۔

وزیر قانون نے کہا کہ نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت کا فیصلہ میرٹ پر نہیں ہوا۔ اس کیس کا میرٹ پر فیصلہ جنوری میں ہونا ہے۔ عمران خان کا یا میرا یا پھر کسی اور کا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں ہے۔ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ ہوئی اور کک بیک لیے گئے۔

فروغ نسیم نے کہا کہ ہماری دعا ہے کہ نواز شریف صحت یاب ہوکر واپس آئیں۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نواز شریف کے معاملے میں جذبہ خیرسگالی کا اظہار کیا ہے اور وزیراعظم ’مساوات کا معاشرہ‘ قائم کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔

فردوس عاشق نے کہا کہ وزیراعظم نے کابینہ کے اجلاس میں عمر رسیدہ قیدیوں اور معمولی جرائم میں قید شہریوں کا ڈیٹا جمع کرنے کی ہدایت کی ہے اور تمام صوبائی حکومتوں سے طلب بھی ان قیدیوں کا ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں