ہوم   >  پاکستان

غداری کیس: سابق صدر کے خلاف کیس کا فیصلہ محفوظ

4 weeks ago

اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس کا فیصلہ 28 نومبر تک محفوظ کر لیا۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اور خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس وقار سیٹھ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سابق صدر مشرف کے خلاف غداری کیس کی سماعت کی۔ آج ہونے والی سماعت میں استغاثہ اور حکومت کی جانب سے عدالت میں کوئی بھی پیش نہیں ہوا، جب کہ سابق صدر مشرف کے وکیل بھی عدالت میں پیش نہ ہوئے۔

 

جسٹس وقار احمد سیٹھ نے پوچھا پرویز مشرف کے وکیل کہاں ہیں؟ آج اُنہيں دلائل کیلئے تیسرا موقع دیا تھا۔ رجسٹرار عدالت نے بتايا کہ رضا بشیر ڈینگی سے صحت یاب ہوکر عمرے پر چلے گئے ہیں، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا استغاثہ ٹیم کو ہٹانے سے پہلے عدالت سے اجازت لی گئی؟۔

 

کیس کی سماعت کے دوران سیکریٹری داخلہ اور ڈپٹی اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی عدالت میں پیش ہوئے، جس پر عدالت نے ان سے کہا کہ ہم نے آپ کو آج نہیں بلایا تھا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل اس دوران روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ اکرم شیخ کی ہدایت پر استغاثہ کی ٹیم لگائی گئی تھی، اکرم شیخ خود مستعفیٰ ہوچکے ہیں، اس لئے ٹیم کو ہٹایا گیا۔

 

اس دوران جسٹس نذر اکبر نے ساجد بھٹی کو روسٹرم سے ہٹا دیا اور ريمارکس ديئے کہ اٹارنی جنرل آفس کا کیس میں کوئی کردار نہیں۔ عدالت نے سیکریٹری داخلہ کو طلب کیا تھا، کیا وزارت داخلہ کو معلوم نہیں تھا کہ پراسیکیوٹر کے بعد بھی معاون وکلاء کی ٹیم کام کر رہی ہے؟۔ عدالت میں کسی کے پیش نہ ہونے پر آدھے گھنٹے کا وقفہ لیا گیا، جس کے بعد عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کیا، جو اب 28 نومبر کو سنایا جائے گا۔

 

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سماعت کے دوران وفاقی حکومت نے استغاثہ کی ٹیم کو تحلیل کر دیا تھا، جب کہ استغاثہ کے سربراہ نے گزشتہ برس جون میں استعفیٰ دے دیا تھا۔

 

واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس شروع کیا تھا۔ اس ضمن میں نومبر 2013ء میں مقدمہ دائر کیا گیا، اب تک اس کیس کی 100 سے زائد سماعتیں ہوچکی ہیں، جب کہ اس دوران 4 ججز بھی تبدیل ہوچکے ہیں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں