ہوم   >  پاکستان

سابق وزیراعظم نواز شریف علاج کیلئے لندن پہنچ گئے

SAMAA | and - Posted: Nov 19, 2019 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA | and
Posted: Nov 19, 2019 | Last Updated: 2 months ago

.

سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شتریف علاج کیلئے بذریعہ ایئر ایمبولینس لندن پہنچ گئے، ان کے ہمراہ شہباز شریف اور 2 ذاتی ملازمین سمیت 4 افراد لندن گئے۔

سابق وزیراعظم قطر سے ہوتے ہوئے لندن پہنچے، شہباز شریف اور ڈاکٹر عدنان نواز شريف کے ہمراہ ایئر ایمبولینس میں موجود تھے۔ ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے ٹویٹر پیغام کے ذریعے طیارے کے لندن پہنچنے کی اطلاع دی۔ عدالتی حکم نامے کے مطابق نواز شريف کو 4 ہفتوں کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی ہے تاہم ضرورت پڑنے پر اس میں توسیع بھی کی جاسکتی ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف علاج کا استقبال حسین نواز، حسن نواز اور سلیمان شہباز نے کیا۔

نواز شريف کے صاحبزادے حسين نواز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت سب سے زيادہ اہم نواز شريف کا علاج کرانا ہے، ميری والدہ کی بیماری کو سياسی بنانے کی کوشش کی گئی، نواز شريف کا علاج کہاں ہوگا اس کو خفيہ رکھنے کی اپيل کروں گا۔

کارکنان کی بڑی تعداد بھی قائد کی رخصتی کیلئے ائیرپورٹ پر موجود تھی، جہاں انہوں نے اپنے قائد کیلئے دعائیں مانگی اور نوافل ادا کیے۔ دوسری جانب جاتی امرا پر بھی کارکنان کی بڑی تعداد موجود رہی۔ مریم نواز شریف والد کے ہمراہ ایئرپورٹ نہیں آئیں۔ ڈاکٹروں کی تاکید کے باعث وہ جاتی امرا ہی رکی رہیں۔

ویڈیو :مریم نواز والد کے ہمراہ ایئرپورٹ نہیں گئیں

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ايئر ايمبولينس ميں آپريشن تھيٹر اور آئی سی يو کی مکمل سہولتيں موجود ہيں، جب کہ انتہائی نہگداشت کے ماہر ڈاکٹرز اور پيرا ميڈيکل اسٹاف بھی اس میں موجود ہے۔

نواز شریف لاہور کے حج ٹرمینل سے آج 19  نومبر بروز منگل کی صبح ساڑھے 10  بجے لندن روانہ ہوئے۔ سابق وزیر اعظم شریف میڈیکل سٹی کی ایمبولینس میں جاتی امرا سے لاہور ایئرپورٹ پہنچے۔ ان کی امیگریشن سمیت دیگر انتظامات حج ٹرمینل پر کیے گئے۔

نواز شریف کو ایئرپورٹ پہنچا دیا گیا

واضح رہے کہ 16 نومبر کو لاہور ہائی کورٹ نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی درخواست پر دورانِ سماعت وفاقی حکومت کا مؤقف مسترد کردیا اور نواز شریف کو 4 ہفتوں کے لیے علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کی غیر مشروط اجازت دی۔

عدالت کے تجویز کردہ ڈرافٹ کے متن کے مطابق عدالت نے نئے بیان حلفی میں نواز شریف کو بیرون ملک علاج کے لیے 4 ہفتوں کا وقت دیا۔ ڈرافٹ کے مطابق نواز شریف کی صحت بہتر نہیں ہوتی تو اس مدت میں توسیع بھی ہوسکتی ہے۔ عدالتی حکم پر نواز شریف کو اجازت دی گئی ہے، تاہم نوازشریف کا نام ای سی ایل پر برقرار رہے گا۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube