ہوم   >  پاکستان

آرڈیننسزکےخلاف درخواست،صدراوروزیراعظم سمیت فریقین کونوٹس

4 weeks ago

بدقسمتی سے ملک میں آمریت رہی

اسلام آباد ہائیکورٹ نے صدارتی آرڈیننسز کے خلاف مسلم لیگ نون کی درخواست پر صدر اور وزیراعظم سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کردیئے۔دوہفتے ميں جواب طلب کرليا گیا ہے۔

صدارتی آرڈیننسز کے ذریعے قوانین نافذ کرنے کےخلاف درخواست کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی۔

ليگی رکن اسمبلی محسن شاہ نواز رانجھا نے مؤقف اپنايا کہ حکومت نے ایک دن میں آٹھ آرڈیننس منظور کئے،ہم نےآرڈیننس کو نہيں طریقہ کارکوچیلنج کیا ہے، آرٹیکل 89 کی وضاحت چاہتے ہيں۔

چيف جسٹس اطہراللہ نے ریمارکس دیئے کہ یہ پبلک انٹرسٹ کے آرڈیننسزہیں، جواچھی چیزیں ہیں اُن پر اسمبلی میں بحث ہوسکتی ہے، پارلیمان کی بجائے عدالت سے رجوع کرنا کیا پارلیمنٹ کی توہین نہیں۔

درخواست گزار نے1947 سے ابتک منظور ہونے والے آرڈیننسز کا ذکر کیا تو چيف جسٹس نے کہا کہ بدقسمتی سے ملک میں آمریت رہی اس لئے اتنے صدارتی آرڈیننس پاس ہوئے،آرڈیننس کی ایک مدت ہوتی ہے اس میں توسیع نہیں ہوسکتی۔

عدالت نے صدر مملکت اور وزیراعظم سے سیکرٹریز کے ذریعے جبکہ سیکرٹری سینیٹ، سیکرٹری قومی اسمبلی اور وزارت قانون سے2 ہفتے میں جواب طلب کرلیا۔

دوران سماعت عدالت نے محسن شاہ نواز کی زیرسماعت مقدمے پر بیان بازی کا نوٹس بھی ليا۔ چيف جسٹس نے کہا کہ آپ نے کہا کہ عدالت کے مطابق صدر پاکستان کا مواخذہ کیا جاسکتا ہے جبکہ عدالت نے ایسی بات نہیں کہی، کیوں نہ توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔

محسن رانجھا نےمعافی مانگی تو چيف جسٹس نےکہا کہ چلیں دیکھتے ہیں اِس کا کیا کرنا ہے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں