ہوم   >  پاکستان

مشکل اہداف اور بینکرز پر بڑھتا جان لیوا ذہنی دباؤ

3 weeks ago

ارشد پر ڈپازٹ جمع کروانے کا بے انتہا دباؤ تھا۔ وہ ایک نجی بینک میں برانچ مینیجر تھے۔ 2016 کی ایک صبح ہدف پورا نہ ہونے پر سینیئرز نے انکو خاصا ڈانٹا تھا۔ یہ صدمہ اتنا شدید تھا کہ انہیں دل کا دورہ پڑ گیا اور وہ جانبر نہ ہوسکے۔

بظاہر بینکاروں کی زندگی ٹھاٹ باٹ والی اور معاشی و دیگر مسائل سے آزاد نظر آتی ہے۔ اس شعبے سے تعلق رکھنے والوں کی آمدنی بہت سو سے بہتر ضرور ہوگی لیکن اپنی ملازمت برقرار رکھنے اور کام آگے بڑھانے کےلیے انہیں خاصے ذہنی دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔ خصوصاً اعلیٰ افسران کی جانب سے عزت نفس مجروح کیے جانے کے باعث یہ ذہنی دباؤ ان کی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے اور کبھی کبھی جان لیوا بھی ثابت ہو جاتا ہے۔

ارشد کی اہلیہ نے سماء کو بتایا کہ انکے شوہر صبح 8 بجے بینک جاتے تھے اور واپسی رات 9 بجے کے بعد ہوتی تھی۔ بسا اوقات انکے پاس لنچ کرنے کا بھی وقت نہیں ہوتا تھا۔ میں انہیں ٹفن باکس دیتی تھی جو اسی طرح واپس آ جاتا تھا، وہ کہتے تھے کہ بالکل موقع ہی نہیں ملا۔ انہیں افسران کی جانب سے جو تنبیہی خطوط ملتے تھے وہ مجھے بھی دکھایا کرتے تھے۔ اس دن انکی برانچ میں کسی افسر نے دورہ کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ہدف حاصل کرنے میں اس ماہ بہت پیچھے ہیں، جس کے بعد انکی طبعیت گڑبڑ ہوئی۔ اتوار کو وہ خاصے پریشان تھے اور رات کو انہیں دل کا دورہ پڑ گیا۔

بینکوں میں بزکشی یا دنبہ چھیننے کا کھیل کوئی نیا نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ کھاتے داروں کو تماشائیوں کے سامنے نہیں چھینا جاتا۔ بارش میں پھوٹتی شاخوں کی طرح ملک بھر میں بینک برانچیں کھلتی ہی چلی گئیں۔ یہ ایک خوشگوار تبدیلی تھی کہ بینک اب لوگوں کو انکی دہلیز پر سروس فراہم کر رہے تھے۔

گزشہ دس برسوں میں بینک برانچیں 9 ہزار سے بڑھ کر تقریباً 14 ہزار ہوگئیں۔ گلیوں میں کریانے کی دکانوں کے ساتھ بینک کھلنے لگے۔ مینیجرز کو سال کے بجائے 6 ماہ اور پھر ماہانہ اہداف کےلیے دوڑایا جانے لگا۔ جو لڑکھڑایا اسے بدل دیا گیا۔

ایک اور بینک مینیجر کو بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑٓا جس سے انکی طبعیت بگڑ گئی۔ انکی اہلیہ نے سوشل میڈیا پر بھرپور انداز میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔ انہوں نے بینک کے اعلیٰ افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’کوئی انسانیت ہے آپ لوگوں میں‘‘۔ اعلیٰ افسران میٹنگ کر رہے تھے یا تحقیقات کر رہے تھے۔ موبائل تک چھین لیا، کیا آپ لوگ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار اور میرے شوہر کوئی جرائم پیشہ شخص تھے۔ بینک مینیجر کی اہلیہ نے سوشل میڈیا پر اپنے شوہر کی اسپتال میں زیرِ علاج تصاویر بھی شیئر کی تھیں اور یہ کہا تھا کہ مجھے اپنے شوہر پر فخر ہے میں انہیں انصاف دلوانے کےلیے سپریم کورٹ تک جاؤں گی۔

سلیم بھی ایک بینک مینیجر تھے جنہیں ہدف پورا نہ ہونے پر ہیڈ آفس بلوا کر ذلت کا نشانہ بنایا گیا جو انکی برداشت سے باہر ہوگیا اور وہ نیم بےہوش ہو کر کرسی سے گر پڑے۔

ایک بینکر نے بتایا کہ جب اعلیٰ افسران ہم سے مخاطب ہوتے ہیں انکا انداز گفتگو بہت تضحیک امیز ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت اعلیٰ سطح پر ہونا اور اس انداز سے گفتگو کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایک مرتبہ میٹنگ میں میرے ہاتھ میں موبائل تھا، ایک افسر نے دوسرے سے کہا کہ انکے ہاتھ سے موبائل لے لو اور باہر لے جاؤ، وہ لمحہ میرے لیے بہت افسوسناک تھا۔ میرا بلڈ پریشر بڑھنا شروع ہوا اور وہ افسر میری سن ہی نہیں رہے تھے اور انتہائی خراب زبان استعمال کر رہے تھے اور مجھے دھمکیاں دے رہے تھے کہ تمھارے کنٹریکٹ کی تجدید نہیں ہونے دوں گا اور تمھاری کارکردگی رپورٹ صفر کر دوں گا۔ اس افسر نے مزید کہا کہ تمھیں ڈپازٹ لانے ہوں گے چاہے کالے چور سے لےکر آو۔

سماء کے سروے کے دوران ہر دوسرا بینکر حالات کا رونا روتا نظر آیا لیکن انٹرویو اور کیمرے کا سامنا کرنے کو تیار نہ تھا۔ ہوتا بھی کیسے اگر بینک فارغ کر دیتا تو کہیں نوکری بھی نہیں ملتی۔

ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ کچھ شک نہیں مقابلہ بہت سخت ہے اس لیے ملازمین پر بہت دباؤ ہوتا ہے۔ یہ نوکری سخت محنت اور متواتر نتائج کی متقاضی ہے۔ کیشیئر یا بینک مینیجرز کا بینک میں دیر تک بیٹھنا معمول ہے جس سے انکی سوشل لائف محدود ہوکر رہ جاتی ہے اور ان سے اہلخانہ کو بھی ہمیشہ شکایت رہتی ہے۔

ایک بینک ملازم نے بتایا کہ خصوصاً دسمبر اور جون میں کلوزنگ کے موقع پر دفتر جانے کا وقت تو مقرر ہوتا ہے لیکن گھر واپسی کا کوئی وقت نہیں ہوتا۔ کام کا اتنا دباؤ ہوتا ہے کہ رات کو نیند تک نہیں آتی اور گولیاں کھا کر سونا پڑتا ہے۔ ہم سے اتنی فون کالز کرواتے ہیں کہ اکاؤنٹ ہولڈرز پریشان ہوجاتے ہیں۔ ہمیں یہ دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں کہ بونس نہیں ملے گا اور گاڑی بھی واپس لے لی جائے گی۔ ہماری سوشل لائف تباہ ہوکر رہ گئی ہے۔

ریکی کے ماہر ڈاکٹر معیز کے پاس مشورے کےلیے آنے والے 100 میں سے 14 بینکرز ہوتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ بینکرز کو ڈپریشن کا سامنا ہوتا ہے۔ وہ پیسے والی جگہ پر بیٹھتے ہیں لیکن انکی اپنی جیب میں پیسہ بہت کم ہوتا ہے جس کی وجہ سے بھی انہیں ذہنی تکلیف ہوتی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ جن لوگوں کی نوکریاں زیادہ ذہنی تناؤ والی ہیں اور انہیں اہداف حاصل کرنے پڑتے ہیں انکے اداروں کو چاہیئے اکہ ایسے اقدامات کریں کہ جس سے ان ملازمین کا ذہنی دباؤ کم ہوسکے اور انکی کارکردگی بہتر ہو۔

ہدف پورا کرنے کےلیے اندھا دھند کھاتے کھلتے چلے گئے۔ فالودہ اور رکشہ والوں کے کھاتوں کے پیچھے بھی یہی اونچے اہداف کارفرما ہوسکتے ہیں، جن کےلیے سارے اصول ایک طرف رکھ دیے گئے۔ ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ ایسے اکاؤنٹس بینک نمائندوں کی ملی بھگت کے بغیر نہیں ہوسکتے۔

جہاں نصف آبادی بینک سے بچنے کےلیے کیش استعمال کرتی ہو وہاں بینک ڈپازٹ بڑھانا بہت بڑا چیلنج ہے۔ اگر غیرحقیقی اہداف زندگیاں نگلنے لگیں تو معاملہ اور بھی پیچیدہ ہوجاتا ہے۔ اب بینکوں کو سوچنا ہوگا تاکہ نہ آئندہ جعلی اکاونٹ بنانے کی جرأت کرے اور نہ غیرحقیقی اہداف کے پیچھے بھاگتے ہوئے اپنی جان گنوائیں۔

 
TOPICS:

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
Bankers life, Pakistan, tension, stress, cash deposit, economy