ہوم   >  پاکستان

آزادی مارچ کے مقاصد : ایک رپورٹر کی نظر سے

3 weeks ago

مولانا فضل الرحمان اپنے ہزاروں حامیوں کے ساتھ 31 اکتوبر سے اسلام آباد کے کشمیر ہائی وے پر پڑاؤ ڈالے بیٹھے ہیں اور ان کا مقصد وزیراعظم عمران خان کے اقتدار کا خاتمہ ہے۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ 2018ء کے انتخابات کے بعد سے ہی ایک عوامی احتجاج شروع کرنے کا ارادہ رکھتے تھے تاہم پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (نواز) سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے مولانا کو روکے رکھا۔ مولانا کے غصے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پرویز مشرف کی آمریت کے بعد حالیہ دور میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ وہ پاکستانی پارلیمنٹ کا حصہ نہیں، کیونکہ وہ 25 جولائی 2018ء کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے علی امین گنڈا پور کے ہاتھوں ڈیرہ اسماعیل خان میں اپنی آبائی نشست ہار گئے تھے۔

تاہم مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت اکتوبر میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر خبروں کی زینت بنے جس کی وجہ ان کا 27 اکتوبر سے شروع ہونیوالا آزادی مارچ ہے۔ مولانا فضل الرحمان اور ان کے رفقاء کا یہ ماننا ہے کہ دیگر بڑی سیاسی جماعتیں انتخابات کے بعد حکومت کو ٹف ٹائم دینے میں کامیاب نہیں ہوسکیں اور یہی وجہ ہے کہ انہیں آزادی مارچ کا اعلان کرنا پڑا۔ جے یو آئی (ف) سربراہ اسٹیبلشمنٹ سے بھی خاصے ناراض نظر آتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے اپوزیشن جماعتوں کو کمزور کیا تاکہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف مضبوط رہ سکے۔

کیا مولانا نے اشارے پڑھنے میں غلطی کی؟

آزادی مارچ کی شروعات میں مجھے لگا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کا واحد مقصد وزیراعظم عمران خان سے استعفیٰ حاصل کرنا ہے لیکن جب راقم الحروف بحیثیت رپورٹر 27 اکتوبر کو آزادی مارچ کے ہمراہ کراچی سے اسلام آباد روانہ ہوا تو راستے میں ہمیں علم ہوا کہ مولانا کے آزادی مارچ کا مقصد صرف وزیراعظم عمران کا استعفیٰ نہیں، دوران سفر اپوزیشن جماعتوں کے متعدد ارکان سے بات چیت ہوئی اور میں اس نتیجے پر پہنچا کہ وزیراعظم عمران خان، مولانا فصل الرحمان کا ہدف اول نہیں۔

کراچی سے شروع ہونیوالے آزادی مارچ میں مختلف شہروں میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو کنٹینر پر خطاب کرتے ہوئے سنا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر اپوزیشن رہنماء ایک بات پر متفق نظر آئے، ’’پاکستانی فوج کا انتخابی عمل میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے اور پولنگ اسٹیشنز کے اندر یا باہر فوج تعینات نہیں ہونی چاہیے‘‘۔ اپوزیشن اراکین کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل میں فوج کو ملوث کرنے سے یہ ادارہ متنازعہ ہوتا ہے۔

اسلام آباد میں یکم نومبر کو اپنے پہلے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے اداروں کو 2 دن کی مہلت دی تھی کہ وہ اپنی غیر جانبداری ثابت کریں اور حکومت کی حمایت بند کردیں۔ ان کی اس تقریر پر پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا ردعمل بھی سامنے آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج ایک غیر جانبدار ادارہ ہے اور اس کی حمایت منتخب حکومت کے ساتھ ہی ہوتی ہے۔

فوٹو: آن لائن

یہ وہ لمحہ تھا جب مولانا فضل الرحمان دو قدم پیچھے ہوئے، میں نے انہیں ان کے کنٹینر پر دیکھا اور ان کے چہرے پر پریشانی کے تاثرات واضح نظر آئے، دیگر اپوزیشن جماعتوں بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بھی مولانا کو واضح پیغام دے دیا کہ وہ کسی بھی قسم کے دھرنے کا حصہ نہیں بنیں گے۔

یہ مولانا فضل الرحمان کیلئے پہلا دھچکا نہیں تھا، کہا جاتا ہے کہ آزادی مارچ کی شروعات سے قبل مولانا کو کچھ اشارے ملے جس کا مطلب مولانا نے یہ نکالا کہ اسٹیبلشمنٹ میں کچھ لوگ عمران خان کو وزیراعظم بنانے کے فیصلے پر خود ہی سوال اٹھا رہے ہیں کیونکہ ان کا ماننا یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی اب تک کی کارکردگی متاثر کن نہیں رہی ہے۔

پاکستانی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ اسٹیبلشمنٹ میں موجود چند لوگوں نے مولانا فضل الرحمان کو اپنی حمایت کا یقین دلایا تھا۔ اسلام آباد کے ایک بڑے صحافی کے مطابق مولانا کو اس یقین دہانی کے بارے میں آزادی مارچ سے قبل ہی اچھی طرح سوچ لینا چاہیے تھا۔ مذکورہ صحافی کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ میں موجود چند افراد ایک حکومت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے جب پوری اسٹیبلشمنٹ حکومت کی پشت پر کھڑی ہو۔

لیکن مولانا فضل الرحمان کو اس بات کا اندازہ اسلام آباد پہنچنے کے بعد ہوا۔

حکومتی ردعمل

حکومت نے بھی مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے حوالے سے کوئی فیصلہ جلدبازی میں نہیں کیا کیونکہ انہیں بھی معلوم تھا کہ مولانا کی اصل طاقت ان کے کارکنان ہیں جو ان کے ایک اشارے پر جان دینے کو بھی تیار رہتے ہیں۔ حکومت نے وزیر دفاع پرویز خٹک کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی اور جب حکومتی کمیٹی بھی بات چیت کے ذریعے معاملات کو حل نہ کرسکی تو گجرات کے چوہدریوں کو بلایا گیا۔ تاہم چوہدری پرویز الٰہی اور چوہدری شجاعت حسین بھی مولانا فضل الرحمان کے مؤقف میں کوئی نرمی لانے میں ناکام رہے۔

مولانا فضل الرحمان اب کسی بھی وقت اپنے آزادی مارچ کے ’’پلان بی‘‘ کا اعلان کرنے والے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام میں موجود ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان پاکستان کے بیشتر ہائی ویز اور سڑکیں بند کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ملک بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتالیں کرنا بھی ان کے پلان میں شامل ہے۔

آزادی مارچ میں دیگر سیاسی جماعتوں کا کردار

آزادی مارچ کی شروعات سے اب تک کئی لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال بھی ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی جیسی لبرل جماعتیں مولانا فضل الرحمان جیسے مذہبی رہنماء کی حمایت کیوں کررہی ہیں؟، پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کا ماننا ہے کہ عمران خان کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت وزیراعظم کے منصب پر بٹھایا گیا ہے۔ جبھی بلاول بھٹو زرداری وزیراعظم عمران خان کو الیکٹڈ کی بجائے ’’سلیکٹڈ‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔

اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم کے ’’کرپشن مخالف‘‘ ایجنڈے سے بھی نالاں نظر آتی ہیں جس کا بڑی حد تک ہدف اب تک اپوزیشن پارٹی کے رہنماء ہی بنتے نظر آئے ہیں۔ یہ جماعتیں الزام لگاتی ہیں کہ موجودہ حکومت قومی احتساب بیورو کو ایک ہتھیار کے طور پر اپوزیشن جماعتوں کے خلاف استعمال کرتی ہے۔ موجودہ حکومت ہی کے دور میں اپوزیشن جماعتوں کے بڑے رہنماء بشمول نواز شریف، آصف زرداری، مریم نواز شریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز اور فریال تالپور جیل بھیجے گئے۔

پاکستان پیپلزپارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر جماعتیں مولانا فضل الرحمان کی حمایت اس لئے بھی کررہی ہیں کیونکہ وہ ہزاروں کا مجمع اسلام آباد میں جمع کرنے کی خاصیت رکھتے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا گڑھ اب صرف سندھ تک ہی محدود ہے جو کہ اسلام آباد سے کافی دور ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اسلام آباد میں لوگوں کا ایک ہجوم اکھٹا کرنے کی صلاحیت تو رکھتی ہے لیکن نواز شریف اور مریم نواز کی غیرموجودگی میں یہ کرنا تھوڑا مشکل کام تھا، ان کی غیرموجودگی میں شہباز شریف پارٹی کے امور کو چلارہے ہیں اور سیاست پر نظر رکھنے والے رپورٹرز آپ کو بتاسکتے ہیں کہ شہباز شریف کبھی بھی اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی کرنے کے حامی نہیں رہے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے مولانا فضل الرحمان کی حمایت کا اعلان کیا اور اب دونوں ہی سیاسی جماعتیں پیچھے بیٹھ کر دیکھ رہی ہیں کہ آزادی مارچ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

پاکستانی میڈیا تقسیم کا شکار

کراچی سے اسلام آباد آزادی مارچ کی کوریج کے دوران پاکستان کے کئی صحافیوں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں اور ان سے بات چیت کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ آزادی مارچ کو لے کر پاکستانی میڈیا بھی تقسیم کا شکار ہے۔

میڈٰیا میں موجود ایک گروپ کی سوچ یہ ہے کہ کسی بھی حکومت کو دھرنوں اور احتجاج کے ذریعے ختم کرنا درست عمل نہیں اور یہ عوامی میڈیٹ کی توہین کے مترادف ہے۔ یہ وہی گروپ ہے جو 2018ء کے انتخابات سے قبل عمران خان کے حق میں عوامی رائے ہموار کرنے میں لگا رہا اور 2014ء میں پاکستان تحریک انصاف کے دھرنے کو عمران خان کا جمہوری حق قرار دیتا رہا۔

پاکستانی میڈیا میں موجود ایک اور گروپ کی سوچ یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان میڈٰیا میں بڑھتی ہوئی سنسر شپ کے ذمہ دار ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف جب سے اقتدار میں آئی ہے، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے منسلک ہزاروں ورکر اپنی نوکریوں سے محروم ہوچکے ہیں۔ متعدد صحافیوں اور اینکروں کا دعویٰ ہے کہ ان کے چینلز کو فون کرکے کہا جاتا تھا کہ فلاں صحافی کو نوکری سے فارغ کیا جائے۔

تاہم یہ گروپ اس لئے آزادی مارچ کے حق میں نہیں کہ وہ مولانا فضل الرحمان کے ہم خیال ہیں بلکہ ان کا مولانا فضل الرحمان کی مذہبی سوچ یا عقائد سے بھی کوئی تعلق نہیں، ان کے نزدیک یہ ان کی بقاء کا مسئلہ ہے۔ ایک طرف مولانا فضل الرحمان ہیں جنہیں ’’اِل لبرل ڈیموکریٹ‘‘ کہا جاسکتا ہے اور دوسری طرف ایک ’’اتھاریٹیرین لیڈر‘‘ عمران خان ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ شاید مولانا فصل الرحمان کی جانب سے آنے والے پریشر کے بعد وزیراعظم عمران خان اپنے انداز حکمرانی کو بدل لیں۔

آزادی مارچ سے اب تک مولانا کو کیا حاصل ہوا؟

یہ بات تو طے ہے کہ فی الحال وزیراعظم عمران خان جمعیت علمائے اسلام کے مطالبے پر استعفیٰ نہیں دیں گے کیونکہ ملک کا طاقتور ترین ادارہ ان کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن ضدی مولانا استعفیٰ لئے بغیر واپس جانے پر بھی راضی نہیں۔ خیر جلد یا بدیر انہیں واپس جانا ہی ہوگا لیکن وہ کچھ لئے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔

یہ بھی ہوسکتا ہے مولانا فضل الرحمان کو اس بات کا یقین دلادیا جائے کہ ان کے مفادات کا آئندہ تحفظ کیا جائے گا اور اگلے انتخابات میں ان کے ساتھ کوئی شرارت بھی نہیں کی جائے گی۔

لیکن دیکھا جائے تو اس آزادی مارچ نے مولانا فضل الرحمان کو اس سیاسی کھیل میں مرکزی کردار بنادیا ہے وہ بھی اس وقت جب جمعیت علمائے اسلام سے بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماء مولانا کے کنٹینر پر موجود ہیں۔

اس کے علاوہ اپنے کارکنان اور حامیوں کی اتنی بڑی تعداد جمع کرکے مولانا فضل الرحمان نے تمام طاقتوں کو یہ بھی باور کرادیا ہے کہ وہ جب چاہیں ہزاروں لوگ اکھٹے کرکے اسلام آباد کا رخ دوبارہ کرسکتے ہیں۔

روحان احمد سماء ڈیجٹل سے منسلک رپورٹر ہیں جو سیاست، انتہاپسندی اور دہشتگردی جسیے موضوعات پر کام کرتے ہیں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
AZADI MARCH, JUIF, PPP, PTI, PMLN, PKMAP, ANP, JUP, NP, ARP, ASIF ZARDARI, FAZLUR REHMAN, IMRAN KHAN, NAWAZ SHARIF, SHEHBAZ SHARIF, BILAWALBHUTTO ZARDARI, CORRUPTION, NAB, MILITARY, ISPR, REHBAR COMMITTEE, GOVERNMENT COMMITTEE, PERVEZ ELAHI, AKRAM DURRANI, MEHMOOD KHAN ACHAKZAI, ASFANDYAR WALI, PERVAIZ KHATTAK