ہوم   >  پاکستان

وزیرستان، قبائلی رہنما کے گھر پر نامعلوم افراد کا حملہ

1 month ago

فائل فوٹو: سماء ڈیجیٹل

جنوبی وزیرستان میں نامعلوم افراد نے قبائلی رہنما کے گھر پر خودکار ہتھیاروں سے حملہ کردیا جس میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا مگر عمارت سمیت اندر کھڑی کار کو نقصان پہنچا ہے۔

سماء ٹی وی کے نمائندہ کے مطابق گزشتہ شب رات گئے نامعلوم ملزمان نے قبائلی رہنما ملک نور خان کے گھر پر خود کار اسلحہ سے حملہ کردیا جس میں ملک نور خان سمیت ان کے اہل خانہ محفوظ رہے۔

حملے کے وقت ملک نور خان اپنے اہل خانہ سمیت گھر میں موجود تھے۔ ملک نور خان نے کہا کہ مسلح افراد نے حملہ بھاری ہتھیاروں سے کیا جس میں تین ہینڈ گرنیڈز بھی استعمال کیے گئے۔

ملک نور خان نے بتایا کہ حملے میں گھر سمیت اندر کھڑی کار کو نقصان پہنچا ہے جبکہ ملزمان گھر کے اندرونی حصے میں داخل نہ ہوسکے۔

ضلعی انتظامیہ نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ قبائلی رہنما کو نشانہ بنایا گیا ہے مگر وہ اہل خانہ سمیت محفوظ رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں حالات دن بدن بدامنی کی جانب جارہے ہیں۔ اب تک متعدد سیاسی اور قبائلی عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ ہوچکی ہے۔ گھروں، گاڑیوں اور کاروباری مراکز پر حملے ہو رہے ہیں جس پر مقامی صحافی اور سماجی و سیاسی رہنما  تشویش میں مبتلا ہیں اور اسے کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ قرار دیتے ہیں۔

وزیرستان میں گزشتہ روز ایک عسکریت پسند تنظیم نے پفلٹ جاری کرتے ہوئے مزید قبائلی اور قوم پرست رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔

تین دن قبل ضلع باجوڑ میں نامعلوم افراد نے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما کے گھر پر میزائل سے حملہ کردیا جس میں وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔

دو ہفتے قبل باجوڑ میں نامعلوم افراد نے جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مفتی سلطان محمد کو گھر سے مسجد جاتے ہوئے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔

باجوڑ کے عنایت کلے کے ایک رہائشی نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا تھا کہ یہاں بازار کے عین وسط میں ’گڈ طالبان‘کا دفتر قائم ہے اور وہ بلا روک ٹوک اور بغیر کسی خوف کے علاقے میں دندناتے پھرتے ہیں۔

قبائلی علاقوں میں گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کی اصطلاحیں زبان زد عام ہیں۔ مقامی لوگ ان دھڑوں کو ’گڈ طالبان‘ کہتے ہیں جن کے بارے میں الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ان کو ریاستی اداروں کی سپرپرستی حاصل ہے جبکہ بیڈ طالبان ان کو کہا جاتا ہے جو ریاستی اداروں کے کنٹرول سے نکل کر ان کے خلاف ہوگئے ہیں۔

مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ ’گڈ طالبان‘ کو قوم پرست رہنماؤں کو خاموش کرانے اور بیڈ طالبان کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے جبکہ مقامی قبائل ’گڈ اور بیڈ‘ دونوں کے سخت مخالف ہیں جس کے باعث مقامی لوگ دونوں دھڑوں کے نشانہ پر رہتے ہیں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں