ہوم   >  پاکستان

سکھ یاتریوں کیلئے کرتارپور راہداری کے دروازے کھل گئے

1 week ago

منموہن سنگھ ،سنی دیول،نوجوت سدھو بھی شریک

 

وزیراعظم عمران خان نے کرتارپورراہداری کا افتتاح کردیا۔ تاریخی موقع پربھارت کےسابق وزیراعظم من موہن سنگھ ، سابق کرکٹرنوجوت سنگھ سدھو،بھارتی اداکار سنی دیول اوربھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھی موجود تھے۔ ہزاروں بھارتی اور غیر ملکی سکھ یاتریوں نے بھی تقریب میں شرکت کی۔ 

کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقريب میں شرکت کے لئے عمران خان اور دیگر افراد نے اپنے سر کو سفيد کپڑے سے ڈھانپا ہوا تھا۔وزيراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں سکھوں کو بابا گرونانک کے جنم دن کی مبارکباد دی اور تمام سکھوں کو خوش آمديد کہا۔ انھوں نے کہا کہ يہاں آکر سکھ برادری کے دلوں ميں خوشی ہوتی ہے،آپ کسی کو خوشی دے کر اللہ کو خوش کرتے ہيں،ہمارے نبی رحمۃ للعالمين ہيں، تمام انسانوں کيلئے رحمت ہيں۔عمران خان نے کہا کہ جانوروں کے معاشرے ميں انصاف نہيں ہوتا،اللہ کے تمام پيغمبروں نے انصاف اور انسانيت کا درس ديا۔

بھارت سے متعلق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بات چيت کرکے کشمير کا مسئلہ حل کرسکتے ہيں،من موہن نے کہا کہ کشمير کا مسئلہ حل کرکے سارے برصغير کے مسائل حل کرسکتے ہيں، کشمير اب علاقائی نہيں بلکہ انسانيت کا مسئلہ بن چکا ہے،80 لاکھ لوگوں کوان کےحقوق سےمحروم کر ديا گيا ہے، کشميريوں سے ان کا بنيادی حق خود اراديت چھين ليا گيا۔

انھوں نے بھارتی وزیراعظم کے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مودی جی، انصاف سے امن ہوتا ہے،نا انصافی سے انتشار پھيلتا ہے،70 سال سے نفرتيں مسئلہ کشمير حل نہ ہونے کی وجہ سے ہيں،جب مسئلہ کشمير حل ہوجائے گا تو برصغير ميں خوشحالی آئے گی۔

عمران خان کا دل سمندرجيسا ہے،نوجوت سنگھ سدھو

کرتارپور گوردوارے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دربارصاحب میں بھارت سے آئے نوجوت سنگھ سدھو نے کہا ہے کہ سکھ قوم طاقتور لوگوں کی قوم ہے،ميں 14 کروڑ سکھوں کی ترجمانی کررہا ہوں۔انھوں نے کہا کہ عمران خان جيسے لوگ تاريخ رقم کرتے ہيں، عمران خان کيلئے دل کا نذرانہ لے کر آیا ہوں۔

نوجوت سدھو نے کہا کہ تقسيم ہند کے بعد پہلی بار سرحد پر رکاوٹيں ختم ہوئيں،عمران خان سکندر ہيں جو دلوں پر راج کرتے ہيں،عمران خان پہلا وزیراعظم ہے جس نے نفع و نقصان نہیں دیکھا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ہمارے اپنے لوگوں نے بھی ہماری آواز نہیں سنی، سياستدانوں کے دل چڑيا جيسے ہوتے ہيں، عمران خان کا دل سمندر جيسا ہے،ايک جپھی ڈالنے سے راہداری کھل سکتی ہے،مزيد جپھياں ڈالنے سے اور مسائل بھی حل ہوسکتے ہيں۔

اپنے خطاب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے سکھوں کو خوش آمديد کہتا ہوں،آج کا دن تاريخی ہے اور محبت کی راہداری کا افتتاح ہورہا ہے۔

شاہ محمود نے کہا کہ دنيااحترام کےرشتے کاعملی مظاہرہ ديکھ رہی ہے،آج نئی تاريخ رقم ہورہی ہے،اللہ کی خوشنودی کيلئے اقدام اٹھايا ہے اور کرتارپور صاحب کے دروازے تمام سکھوں کيلئے کھول ديے گئے ہیں۔

بھارتی پنجاب کے وزيراعلیٰ امريندر سنگھ  نےميڈيا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 70 سال سے جو خواہش تھی وہ آج پوری ہوگئی ہے،ہم سب بہت زيادہ خوش ہيں،اچھی شروعات ہے،اميد ہے کہ سلسلہ جاری رہے گا۔

اس سے قبل، کرتار پور راہداری کے افتتاح کے موقع پر وزیراعظم عمران نے اپنے پیغام میں تاریخی دن پر پوری سکھ برادری کو مبارکباد پیش کی۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے دل ہمیشہ مختلف مذاہب والوں کیلئےکھلے رہتے ہیں،آج صرف سرحد ہی نہیں بلکہ سکھ برادری کیلئے اپنے دل بھی کھول رہے ہیں۔

عمران خان کے کرتارپوردربارصاحب آمد کے مناظر

وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان کا اقدام سکھ برادری کے مذہبی جذبات کےاحترام کا عکاس ہے، یہ افتتاح خطے کے امن کیلئے ہماری وابستگی کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے،بین المذاہب ہم آہنگی برصغیر کے لوگوں کے بڑے مفادات کیلئےکام کرنےکا موقع دےگی۔انھوں نے 10 ماہ کے ریکارڈ مدت میں منصوبے کو حقیقت میں بدلنے والوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔

گوردوارے کا افتتاح:بھارتی اداکار سنی دیول کی شرکت

بھارتی وزيراعظم نريندرمودی نے کرتاپور راہداری کھولنے پر پاکستان کے وزيراعظم عمران خان کا شکريہ ادا کيا ہے۔بھارت ميں کرتارپوررہداری کی افتتاحی تقريب سے خطاب ميں نریندر مودی نے کہا کہ وہ بھارتيوں کے جذبات کی قدر کرنے پرعمران خان کے شکرگزار ہيں،عمران خان نے مذہبی جذبات کا احترام کيا اور اس کے ليے اقدامات کيے۔ انھوں نے ريکارڈ مدت ميں کرتارپورراہداری کا کام مکمل کرنے والے تمام پاکستانيوں کا بھي شکريہ ادا کيا۔نریندر مودی نے کہا کہ کرتارپورکوريڈور سے بابا گرونانک کی زيارت آسان ہو جائے گی۔

 

سابق کرکٹر اور سیاست دان نوجوت سنگھ سدھو کرتار پور راہداری کے ذریعے پاکستان پہنچے۔ انہیں ہفتے کی صبح بھارتی حکام نے واہگہ بارڈر پر روک دیا تھا۔ پاکستان پہنچنے پر نوجوت سنگھ  نے سینیٹر فیصل جاوید سے رابطہ کیا اور کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور جنرل قمر جاویش باجوہ نے اپنا وعدہ پورا کردیا۔ پاکستان پہنچنے پر انتہائی خوش ہوں، مسلسل رابطے پر آپ کا مشکور ہوں۔

 

سکھ یاتریوں کیلئے کرتار پورراہداری کا افتتاح بابا گرونانک کے 550 ویں جنم دن کے موقع پرکیا گیا۔افتتاحی تقریب کیلئے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے، مہمانوں کی آمد کا آغاز صبح 7 بجے سے شروع ہوا ۔

 

کرتار پور آنے والے سکھ یاتریوں کو20 ڈالر سروس فیس بھی ادا کرنا ہوگی۔ فیس اورپاسپورٹ کی شرط افتتاحی تقریب کے شرکاء پر لاگو نہیں ہوگی۔ راہداری کے افتتاح کے بعد روزانہ 5 ہزار بھارتی سکھ یاتری یہاں آسکیں گے۔ سکھ یاتری بغیر ویزے کے کوریڈور آئیں گے اور مذہبی رسومات کی ادائیگی کے بعد شام کو واپس چلے جائیں گے۔

ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ یہ ایک مخصوص راہداری ہے، بھارت سے آنے والے یاتری یہاں سے آئیں گے ،اپنی رسومات ادا کریں گے اور اُسی دن واپس جائیں گے، وہ کہیں اور نہیں جا سکیں گے۔ دیرینہ خواب کی تعبیر دیکھ کر بھارت سمیت دنیا بھر میں مقیم سکھ برداری نے پاکستان سے بھرپور تشکر کا اظہارکیا۔

کرتارپور راہداری کاافتتاح،اراکینِ پارلیمنٹ کاتبصرہ

یاد رہے کہ کرتار پور کاريڈور کے 4 ميں سے پہلا فيز مکمل ہوچکا ہے جس کے بعد گردوارہ بابا گرونانک کو دنیا کے سب سے بڑے اور مرکزی گردوارے کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ 42 ايکڑ پرمحيط يہ گردوارہ ضلع نارووال کی تحصيل شکرگڑھ ميں واقع ہے۔

گردوارے کے دیوان استھان کا احاطہ 10 ايکڑ ہے، جبکہ اس کی بارہ دری ايک لاکھ 52 ہزار مربع فٹ کی ہے۔ياتريوں کي سہولت کے ليے 40 فیملی روم اور20 ہال تعمیر کيے گئے ہیں۔ جبکہ يہاں لائبریری،میوزیم، کلينک، مہمان خانہ اور لنگر خانہ بھی بنايا گيا ہے۔زيرو پوائنٹ سے دربار صاحب تک تقريبا 4 کلوميٹر کا فاصلہ ہے جو ياتری خصوصی بسوں کے ذريعے طے کريں گے۔

یاتریوں کےلیےبہترین انتظامات ہیں،انچارج گوردوارہ پنجہ صاحب

نارووال میں کرتار پور راہداری کے افتتاح کے موقع پر ضلع بھر میں مقامی تعطیل ہےجس کا نوٹی فیکیشن ڈپٹی کمشنر ڈاکٹروحید اصغر نے جاری کردیا۔

کرتار پور راہداری افتتاحی تقریب میں شرکت کیلئے دیگر شہروں سے آنے والے لوگوں کومشکلات کاسامنا ہے،نجی ہوٹلوں میں رہائشی کمرے نہ ملنے پر مہمان پریشان ہیں۔ ملک بھر کےمختلف شہروں سے آنے والے لوگ عزیز و اقارب اور دوست احباب کے گھروں میں مقیم ہیں۔

تقریب میں شرکت کے لیے آنے والے کچھ افراد سیالکوٹ اورلاہورچلے گئے ۔ اس کے علاوہ تقریب کی میڈیا کوریج کرنے والے ملکی و غیر ملکی صحافیوں کوبھی رہائشی سہولیات نہیں مل سکی ہیں۔ صحافی اور آبزرور بھی لاہور اور سیالکوٹ کے ہوٹلوں میں رہائش اختیار کئے ہوئے ہیں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
Kartarpur corridor , inaugration , pm imran khan, sikh pilgrims, india