ہوم   > پاکستان

اے این پی رہنما کے گھر پر میزائل حملہ، 2 خواتین زخمی

SAMAA | - Posted: Nov 8, 2019 | Last Updated: 7 months ago
Posted: Nov 8, 2019 | Last Updated: 7 months ago

خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما شیخ جہانزادہ کے گھر پر میزائل گرنے کے نتیجے میں 2 خواتین زخمی ہوگئیں۔

شیخ جہانزادہ کا گھر باجوڑ کی تحصیل نواگئی کے صدر مقام نواگئی میں واقع ہے اور یہاں سے تھوڑے فاصلے پر فرنٹئر کانسٹبلری کے ونگ کا ہیڈکوارٹر بھی قائم ہے۔

شیخ جہانزادہ کے چھوٹے بھائی مولانا خان زیب نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ جمعہ کی صبح 8 بجے ’نامعلوم افراد‘ نے میزائل داغا جس سے گھر میں موجود دو خواتین زخمی ہو گئیں۔ واقعہ کے دوران شیخ جہانزادہ سمیت دیگر اہل خانہ بھی گھر پر موجود تھے مگر باقی افراد محفوظ رہے جبکہ گھر کو نقصان پہنچا ہے۔

مولانا خان زیب کا کہنا ہے کہ زخمی خواتین کو فوری طور پر اپنی مدد آپ کے تحت اسپتال پہنچایا جہاں ان کا علاج جاری ہے اور ڈاکٹروں نے حالت خطرے سے باہر بتائی ہے۔

میزائل حملے کے بعد مقامی پولیس افسران نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور شواہد اکھٹے کیے مگر تاحال یہ معلوم نہ ہوسکا کہ میزائل کس نے داغا ہے اور نہ ہی مقدمہ درج ہوا۔

سماء ڈیجیٹل نے ڈپٹی کمشنر باجوڑ اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سے رابطہ کرنے کی کوشش مگر دونوں دستیاب نہیں تھے۔

شیخ جہانزادہ کے گھر یہ پہلا حملہ نہیں ہے۔ ان کے خاندان کو ایک عرصہ سے عسکریت پسند گروہ کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں۔ مولانا خان زیب نے بتایا کہ اس سے قبل 2018 میں بھی ’نامعلوم افراد‘ نے مارٹر گولے پھینکے جس کے باعث گھر کو نقصان پہنچا مگر اہل خانہ محفوظ رہے۔

دھمکیاں کون دے رہا ہے

مولانا خان زیب نے دعویٰ کیا کہ جماعت الاحرار نامی گروہ کی جانب سے مسلسل دھمکیاں موصول ہورہی ہیں جو کہ تحریک طالبان پاکستان کا ایک ذیلی گروہ ہے۔ دھمکیوں کی وجہ یہ ہے کہ قبائلی عمائدین اور خاص طور پر عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ ’گڈ اور بیڈ‘ کی تفریق کے بغیر عکسریت پسند گروہوں کے خلاف جرات مندانہ موقف اپنایا ہے۔ جس کے باعث قوم پرست سیاسی رہنما عسکریت پسندوں کی نظروں میں کھٹکتے ہیں۔

ضلع باجوڑ میں گزشتہ کئی ماہ سے حالات دن بدن بدامنی کی جانب جارہے ہیں۔ اب تک متعدد سیاسی اور قبائلی عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ ہوچکی ہے۔ گھروں، گاڑیوں اور کاروباری مراکز پر حملے ہو رہے ہیں جس پر مقامی صحافی اور سماجی و سیاسی رہنما  تشویش میں مبتلا ہیں اور اسے کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ قرار دیتے ہیں۔

ایک مقامی صحافی نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سماء ڈیجیٹل کو بتایا چند روز قبل نواگئی بازار میں ایک پٹرول پمپ کے مالک سے ’عسکریت پسند گروہ‘ نے بھتہ طلب کیا اور بھتہ نہ ملنے پر گرینیڈ سے حملہ کیا گیا جس میں عملہ محفوظ رہا مگر پمپ کو نقصان پہنچا۔ حیران کن طور پر متاثرہ پٹرول پمپ کے بالکل سامنے روڈ کنارے ایف سی چوکی قائم ہے اور روڈ پر چیکنگ بھی کی جاتی ہے۔

باجوڑ کے عنایت کلے کے ایک رہائشی نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ یہاں بازار کے عین وسط میں ’گڈ طالبان‘کا دفتر قائم ہے اور وہ بلا روک ٹوک اور بغیر کسی خوف کے علاقے میں دندناتے پھرتے ہیں۔

قبائلی علاقوں میں گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کی اصطلاحیں زبان زد عام ہیں۔ مقامی لوگ ان دھڑوں کو ’گڈ طالبان‘ کہتے ہیں جن کے بارے میں الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ان کو ریاستی اداروں کی سپرپرستی حاصل ہے جبکہ بیڈ طالبان ان کو کہا جاتا ہے جو ریاستی اداروں کے کنٹرول سے نکل کر ان کے خلاف ہوگئے ہیں۔

مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ ’گڈ طالبان‘ کو قوم پرست رہنماؤں کو خاموش کرانے اور بیڈ طالبان کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے جبکہ مقامی قبائل ’گڈ اور بیڈ‘ دونوں کے سخت مخالف ہیں جس کے باعث گڈ طالبان اور قبائل کے درمیان جھڑپیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس قسم کے ہتھکنڈے ہمارے کارکنان اور قیادت کو اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹاسکتے۔‘

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube