Monday, December 6, 2021  | 30 Rabiulakhir, 1443

فضل الرحمان کا 12ربیع الاول آزادی مارچ میں منانے کااعلان

SAMAA | and - Posted: Nov 6, 2019 | Last Updated: 2 years ago
Posted: Nov 6, 2019 | Last Updated: 2 years ago

نااہل حکمرانوں کوایک دن بھی دینے کوتیار نہیں، فضل الرحمان

مولانا فضل الرحمان نے 12 ربیع الاول آزادی مارچ میں منانے کا اعلان کردیا، کہتے ہیں کہ اتوار 10 نومبر کو اجتماع سیرت النبی ﷺ کانفرنس میں تبدیل کردینگے، جھوٹے وعدوں کی بنیاد پر قائم حکومت تسلیم نہیں کرتے، قومی فریضے کو ادا کرنے کیلئے نکلے ہیں، نااہل حکمرانوں کو ایک دن بھی دینے کیلئے تیار نہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موسم کی سختیوں کے باوجود شرکاء ڈٹے ہوئے ہیں، یہ اجتماع نظریے اور مؤقف کے ساتھ کھڑے رہنے والوں کا ہے، ان شاء اللہ منزل پر پہنچ کر دم لیں گے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے عید میلاد النبیؐ آزادی مارچ میں منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 12 ربیع الاول کو اجتماع سیرت النبی ﷺ کانفرنس میں تبدیل کردیں گے، خوف اور ایمان اکٹھے نہیں رہ سکتے۔

انہوں نے کہاکہ آنے والے دور میں ہم مزید مالیاتی بحران کی طرف جارہے ہیں، 3 بجٹ پیش کرنے کے باوجود یہ اہداف حاصل نہیں کرسکے، آنیوالا بجٹ بھی نااہلوں نے پیش کیا تو ملک دیوالیہ ہوجائیگا۔

انہوں نے واضح طور پر اعلان کیا کہ نااہل حکمرانوں کو ایک دن بھی دینے کیلئے تیار نہیں، 400 اداروں کو ختم کرنے کی بات کی گئی، جس سے ہزاروں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے، ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیوں کیا گیا تھا، ملک میں لاکھوں لوگوں کو بیروزگار کردیا گیا، 50 ہزار گھروں کی تعمیر کا وعدہ کرکے لاکھوں گھر گرادیئے گئے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے مزید کہا کہ جھوٹے وعدوں کی بنیاد پر قائم حکومت تسلیم نہیں کرینگے، قومی فریضے کو ادا کرنے کیلئے نکلے ہیں، ہم نے اس ملک کا بہت نقصان کردیا ہے، مزید نہیں ہوسکتا۔

پی ٹی آئی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حکومت 9 نومبر کو کرتار پور راہداری کھولنے جارہی ہے، اب یہ دن علامہ اقبال کے بجائے گرو نانک کے نام پر منایا جائے گا۔

اس سے قبل

آزادی مارچ 11ویں دن میں داخل ہوگیا، رہبر کمیٹی اور حکومتی ٹیم کے درمیان گزشتہ روز کی ملاقات کے بعد دوبارہ رابطہ نہیں ہوا، دونوں جانب سے مطالبات اور تجاویز کا تبادلہ ہوگیا، جن پر تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا، جمعیت علمائے اسلام کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس رات 10 بجے دوبارہ ہوگا۔

مولانا فضل الرحمان آزادی مارچ میں پہنچ گئے، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ کنٹینر پر جانے کے بجائے کارکنوں کے بیچ چلے گئے، بارش کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا اور حال احوال پوچھا، گزشتہ رات بارش کے باعث احتجاجی مظاہرین کو دشواری کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

مولانا فضل الرحمان نے چیئرمین سی ڈی اے سے مظاہرین کیلئے انتظامات کرنے کا بھی کہا جبکہ اس سے قبل مولانا عبدالغفور حیدری وزیراعظم کی جانب سے تعاون کی پیشکش ٹھکرا چکے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی کارکنان اپنے لئے انتظامات کر کے آئے ہیں۔

آزادی مارچ کے 11ویں دن جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے ملاقات کی، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ کے رہنماء کا کہنا تھا کہ سب لوگ نیک نیتی سے کوشش کررہے ہیں اور مثبت پیشرفت ہورہی ہے، صبر کی ضرورت ہے، کئی چیزیں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں، محنت اسی لئے ہو رہی ہے تاکہ مثبت انداز اور بہتر طریقے سے کامیابی ہو۔

پرویز الٰہی نے صحافیوں کی جانب سے وزیراعظم کے استعفیٰ اور جمعہ تک احتجاج کے خاتمے کے سوالات کے جوابات دینے سے گریز کیا۔

ویڈیو: پرویز الٰہی صحافیوں کے سوالات گول کرگئے

اس سے قبل جے یو آئی (ف) نے وزیراعظم کی جانب سے تعاون کی پیشکش مسترد کردی تھی، وزیراعظم اپنے تعاون کو اپنی جیب میں رکھیں ہم نے اپنا انتظام کیا ہوا ہے، بارش ہم پر اللہ کی رحمت ہے، یہ حکمران زحمت ہیں۔

عبدالغفور حیدری نے آئندہ جمعہ کی نماز بھی آزادی مارچ میں پڑھانے کا اعلان کردیا، ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ جمعہ کی نماز بھی میں نے پنڈال میں پڑھائی تھی، انشاء اللہ آئندہ جمعہ بھی پنڈال میں پڑھائیں گے۔

ویڈیو دیکھیں : عبدالغفورحیدری کا آئندہ نمازجمعہ بھی آزادی مارچ میں پڑھانےکااعلان

دوسری جانب مولانا فضل الرحمان کے الیکشن 2018ء سے متعلق دعوے کو الیکشن کمیشن پاکستان نے یکسر مسترد کردیا۔ اپنے وضاحتی بیان میں ای سی پی کا کہنا ہے کہ ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ عام انتخابات میں 95 فیصد پولنگ اسٹیشنز کے نتائج پولنگ ایجنٹس کے دستخطوں کے بغیر تھے، الیکشن کمیشن نے کسی رپورٹ میں ایسے اعداد و شمار جاری نہیں کئے۔

یہ بھی پڑھیں : مولانا فضل الرحمان کو فیصل جاوید کا مشورہ

الیکشن کمیشن پاکستان نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ کو آئندہ ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے اجتناب کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

مزید جانیے : الیکشن کمیشن نےمولانا فضل الرحمان کے دعوے کو مستردکردیا 

اسلام آباد میں آج (بدھ کو) دوپہر مولانا فضل الرحمن کی زیر صدارت جمعیت علمائے اسلام ف کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا جس میں مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا عطاء الرحمان اور اکرم خان درانی سمیت دیگر رہنماء شریک ہوئے۔

اجلاس میں آزادی کی صورتحال اور انتظامی معاملات پر مشاورت کی گئی، مظاہرین کو مزید کتنے روز اسلام آباد میں قیام کروانا ہے اس حوالے سے بھی مشاورت ہوئی، حکومت کیساتھ ہونیوالے مذاکرات اور حکومتی تجاویز پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

آزادی مارچ: ہارٹ اٹیک سے اب تک3کارکن جاں بحق

اجلاس میں گزشتہ رات چوہدری برادران کیساتھ مولانا فضل الرحمان کی ملاقات پر بھی بات چیت ہوئی۔ چوہدری پرویز الٰہی کی آمد کے باعث مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ادھورا رہ گیا جو آج رات 10 بجے دوبارہ ہوگا، جس میں حکومت کی جانب سے درمیانی راستے کی پیشکش کا جائزہ لیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں : فضل الرحمان مذہبی کارڈ استعمال نہ کریں، نورالحق قادری

ذرائع کے مطابق جے یو آئی (ف) کے اراکین نے پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی دھاندلی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کا غیر فعال ہونا حکومت کی عدم دلچسپی ظاہر کرتا ہے، اراکین نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی تجویز پر بھی تحفظات کا اظہار کردیا، ان کا کہنا ہے کہ بات عدلیہ میں گئی تو احتجاج کے قابل بھی نہیں رہیں گے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
AZADI MARCH, JUIF, PTI, PMLN, PPP, FAZLUR REHMAN, BILAWAL BHUTTO ZARDARI, SHEHBAZ SHARIF, NAWAZ SHARIF, IMRAN KHAN, PM, ECP, OPPOSITION REHBAR COMMITTEE, RIGGING,
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube