Saturday, September 19, 2020  | 30 Muharram, 1442
ہوم   > پاکستان

توہین عدالت:فردوس عاشق نےایک بارپھرمعافی مانگ لی

SAMAA | - Posted: Nov 5, 2019 | Last Updated: 11 months ago
SAMAA |
Posted: Nov 5, 2019 | Last Updated: 11 months ago

عدالت نے تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی

وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے توہین عدالت پرشوکازنوٹس کے معاملے میں ایک بارپھراسلام آباد ہائیکورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی ۔ عدالت نے تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان کو تیسری بارطلب کرلیا۔

نواز شریف کے حوالے سے سماعت کے بعدعدلیہ مخالف پریس کانفرنس کرنے پرشوکازنوٹس وصول کرنے والی فردوس عاشق اعوان عدالت میں پیش ہوئیں۔

چارروز قبل ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے فردوس عاشق اعوان کی غیرمشروط معافی قبول کرتے ہوئے انہیں نیا شوکازنوٹس جاری کیا تھا۔

ہائیکورٹ نے عدالت کو متنازع کرنے کی حد تک فردوس عاشق کی غیرمشروط معافی قبول کی تھی اور انہیں عدالتی کارروائی پراثرانداز ہونے کا نیا شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئےمنگل 5 نومبر کو تحریری جواب طلب کیا تھا۔

 

توہین عدالت: فردوس عاشق اعوان کو نیا شوکاز نوٹس جاری

 

آج سماعت کے دوران فردوس عاشق اعوان نے ایک بارپھرعدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کی۔ شاہ خاور ایڈوکیٹ نے فردوس عاشق کی جانب سے وکالت نامہ جمع کروایا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے شاہ خاور ایڈووکیٹ سے استفسارکیا کہ کیا آپ نے جواب جمع کروا دیا ہے؟۔

فردوس عاشق اعوان کے وکیل نے جواب دیا کہ مجھے کل ہی وکیل کیا گیا ہے۔ ابھی حقائق اکٹھے کر رہے ہیں۔

فردوس عاشق اعوان نے ایک بارپھرعدالت سے غیرمشروط معافی مانگتے ہوئے کہا کہ میری عدالت کی توہین کرنے کی کوئی نیت نہیں تھی۔ میں نے 20سالہ سیاسی کیریئرمیں کبھی کوئی قانون نہیں توڑا۔ قانون کی پیروی کرنے والی شہری ہوں، عدالت سےغیرمشروط معافی مانگتی ہوں، ہمیں یہ کیس نہیں لڑنا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ آپ اس حوالے سے تحریری جواب جمع کروادیں۔

 

جب حکومت کے لوگ خود کہیں ڈیل ہوئی تو ڈیل کر کون رہا ہے؟

دوران سماعت جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ آپ مجھے جانتے ہیں، میرے حوالے سے جو مرضی کہیں، میں نظراندازکردیتا ہوں، 2014 میں بھی ہم نےفیصلہ کیا تو تنقید ہوئی تھی لیکن اب وہ دوسری سائیڈ پرہیں۔

انہوں نے فردوس عاشق اعوان سے استفسار کیا کہ ڈاکٹر صاحبہ آپ پی ٹی آئی کے دھرنے میں شامل تھیں۔

جس پر فردوس عاشق اعوان نے جواب دیا کہمیں نے اس کے بعد پی ٹی آئی جوائن کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ 2014 میں پی ٹی آئی نےجو پٹیشنزدائرکیں تھیں وہ ہم نے سنیں، آج کے صدرعارف علوی، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی درخواست گزار تھے۔ اُس دھرنے کی درخواستیں آج بھی مقرر ہیں۔ آپ کے کارکنوں کو گرفتار کیا جا رہا تھا،تو اُس وقت اسی عدالت نےان گرفتاریوں کو روکا تھا۔ قانون کی نظر میں سب برابر ہوتے ہیں،قانون کسی ایک فریق کا نہیں ہوتا۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ گاڑی میں میری ذاتی تصویریں وائرل کر دی گئیں،میرے ساتھ سپریم کورٹ کے معزز جج تھے، ساتھ بیٹھے جج صاحب کومسلم لیگ (ن) کا صدربنادیا گیا۔ جب حکومت کے لوگ خود کہیں گے کہ ڈیل ہوگئی تو ڈیل کرکون رہا ہے؟ جس پر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔ چیف جسٹس نے جواب دیا کہ، آپ نہیں آپ کے کابینہ ممبر ایسی بات کررہے ہیں۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے قانون کے مطابق چلنا ہے، کسی کو کوئی رعایت نہیں دینی،ہرجج نے ایک حلف اللہ کے سامنے لیا ہوتا ہے، اگر کوئی دہشتگرد بھی ہوتو عدالت اسے فئیر ٹرائل کا حق دے گی۔

عدالت نے فردوس عاشق اعوان کو ہفتے کے روز تک تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت پیر کی صبح ساڑھے 9 بجے تک ملتوی کردی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube