ہوم   >  پاکستان

گھر میں گھسنے کی جرات کیسے کی، نیب افسر کی سرزنش

2 weeks ago

عدالت نے کھری کھری سنادی

سندھ ہائیکورٹ نے آغا سراج درانی کے گھر نیب کے چھاپے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کسی کے گھر میں گھسنے کی تمہاری جرات کیسے ہوئی۔ پتہ نہیں سیشن جج نے کیسے چھاپہ مارنے کی اجازت دے دی۔ کیا ملک میں جنگل کا قانون چل رہا ہے۔ اب اس طرح نہیں چلے گا۔

سندھ اسمبلی کے گرفتار اسپیکر آغا سراج درانی کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس کی سماعت سندھ ہائیکورٹ میں ہوئی۔ اس پر موقع پر عدالت نے نیب کے تفتیشی افسر کی سخت سرزنش کردی۔

جسٹس عمر سیال نے تفتیشی افسر کو مخاطب کر کے کہا کہ اپنے گھر کا سوچو، اگربہن اکیلی ہو اور ایساواقعہ ہو! دیکھنا ایک دن تمہارے ساتھ بھی ہوگا۔

جسٹس عمر سیال زمینوں سے متعلق غلط معلومات ملنے پر استفسار کیا کہ کوئی کچھ بھی کہے گا تو کیا ریکارڈ کا حصہ بنالو گے۔

تفتیشی افسر نے کہا ہمیں کہاں سے پتہ چلے گا کہ ان کے پاس اراضی ہے۔ ایک ایک آدمی کے پاس نہیں جاسکتےتھے۔ اسسٹنٹ کمشنر سے ریکارڈ مانگا تھا۔ اس نے یہ معلومات فراہم کردیں۔

جسٹس عمرسیال نے کہا اگر یہ بیان ہے تو تم تفتیشی افسر کہلانے کے لائق نہیں ہو۔ کیا تم خدا ہو کہ بلا بلاکر لوگوں کو پوچھتے رہو۔ بادشاہ سلامت ہو کہ دفتر میں بیٹھ کر سارا ریکارڈ تیار کرلیا۔

آغا سراج کے وکیل نے انکشاف کیا کہ اسپیکرسندھ اسمبلی کی ایک اہلیہ کے پاس ڈیکلیئرڈ360 تولہ سونا ہے۔ نیب نے تو لاکر سے صرف تین ہزار گرام ہی نکالا ہے۔ جسٹس عمرسیال نے تفتیشی افسر کو دوبارہ مخاطب کرتے ہوئے کہا تمہیں کون بتاتا ہے کہ فلاں کے گھر میں اتنا کچھ ہے، چھاپہ مار لو۔ کیا تم رولیکس کے ایکسپرٹ ہو؟ تم نے دیکھی ہوگی۔ میں نے تو آج تک رولیکس گھڑی دیکھی نہیں۔ جیولر نے کیسے انگریزی میں بیان لکھ دیا۔ ہمیں بےوقوف سمجھتے ہو، مرضی کا بیان لکھ کر آجاتے ہو۔

عدالت نے آغا سراج درانی کے وکیل کی جانب سے دلائل مکمل کرنے پر سماعت 11 نومبر تک ملتوی کردی۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں