Wednesday, December 8, 2021  | 3 Jamadilawal, 1443

انتظامیہ فساد کرانے کا ارادہ رکھتی ہے، فضل الرحمان

SAMAA | , and - Posted: Nov 2, 2019 | Last Updated: 2 years ago
Posted: Nov 2, 2019 | Last Updated: 2 years ago

مولانا فضل الرحمان نے انتظامیہ پر فساد کرانے کا الزام لگادیا، کہتے ہیں کہ ایک طرف طالبان کو دہشت گرد کہتے ہیں دوسری طرف ان کا صدارتی استقبال کیا جاتا ہے، جھنڈوں والی شرارت بھی آپ کی اپنی ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ حکومت کی خارجہ پالیسی مکمل طور پر ناکام ہوگئی، دوست ممالک نے بھی کشمیر پالیسی پر پاکستان کا ساتھ نہیں دیا، ایران اور افغانستان پاکستان سے ناراض، چین مایوس ہوچکا، یہ کس منہ سے خود کو کشمیر کا سفیر کہتے ہیں، کشمیر کے اصل سفیر ہم ہیں، يہ کہتے ہيں مودی فضل الرحمان سے بہت خوش ہے، مودی تو عمران خان جيسے وزيراعظم سے خوش ہے جس کے دور میں انہوں نے کشمير پر قبضہ کرليا۔

یہ بھی پڑھیں : آزادی مارچ کےمقاصد استعفیٰ اورنئے الیکشن کرواناہے، رہبرکمیٹی

انہوں نے مزید کہا کہ رہبر کميٹی کے اجلاس ميں آج سب نے متفقہ مطالبات کی تائید کی، اپوزيشن جماعتيں ہمارے مطالبات پر متفق اور ثابت قدم ہيں، ڈی چوک تک جانا بھی ہماری تجاویز میں شامل ہے۔

 دھرنے میں طالبان کے جھنڈے لہرانے کے معاملے پر جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ طالبان کو آپ کو دہشت گرد کہتے ہیں، حکومت نے ان کا صدارتی استقبال کیا، یہ شرارت بھی آپ کی اپنی کی ہوئی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ انتظامیہ یہاں فساد کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ویڈیو: اپوزیشن جماعتیں مل کر حکومت کو چلتا کرینگی، عطاء الرحمان 

ان کا کہنا ہے کہ جعلی حکومت نے مذاکرات کیلئے کمیٹی بنائی ہے، تمام راستے بند کرکے کس راستے سے بات چیت کا کہتے ہیں، یہ کہتے ہیں آئین اور قانون کے مطابق مذاکرات کریں گے، حکومت پہلے اپنی آئینی اور قانونی حیثیت واضح کرے، وفاقی کابينہ کے اقدامات سے معاہدہ ٹوٹ جانے کا تاثر ملتا ہے، ہم اسلام آباد انتظاميہ سے کئے گئے معاہدے پر قائم ہيں۔

ویڈیو: جے یوآئی (ف) رہنماء نے غلطی سے ’’گونوازگو‘‘ کانعرہ لگادیا 

اس سے قبل

آزادی مارچ کے شرکاء کا اسلام آباد میں پڑاؤ جاری ہے، شرکاء کی جانب سے طالبان کے جھنڈے لہرانے پر انتظامیہ نے 8 افراد گرفتار کرلیے ہیں، دھرنے والوں نے گرفتار کرنے والوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کردیا ہے، بصورت دیگر کسی پابندی کو ملحوظ خاطر نہ رکھنے کی دھمکی دی ہے۔

مزید جانیے : جماعت اسلامی اپوزیشن کے آزادی مارچ کا حصہ کیوں نہیں؟ 

ہفتے کو آزادی مارچ نے نیا رخ اختیار کیا۔ دو روزہ دھرنے پر موجود شرکاء میں سے کچھ عناصر کی جانب سے افغان طالبان کے جھنڈے لہرائے گئے جس پر انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 8 افراد گرفتار کرلئے۔

دھرنے کے منتظمین نے گرفتار ہونے والوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور ایک گھنٹے کا الٹی میٹم دے دیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے کچھ افراد کو صبح سے لے کر گئے ہیں جنہیں ابھی تک واپس نہیں کیا گیا، اگر ہمارے بندے ایک گھنٹے تک نہ آئے تو ہمارا معاہدہ ختم ہوجائے گا۔

پی ٹی آئی کورکمیٹی نے فيصلہ کيا ہے کہ آزادی مارچ کے شرکاء جب تک چاہیں بیٹھے رہیں، وزیراعظم استعفی دیں گے اور نہ انتخابات ہوں گے۔ کورکمیٹی کے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ  شرکاء نے اگر معاہدے کی خلاف ورزی کی تو قانون حرکت میں آئے گا۔

مزید جانیے : وزیراعظم کی گرفتاری کا بیان، حکومت کا عدالت جانیکا فیصلہ

کور کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ادارے پاکستان کی سلامتی اورتحفظ کےضامن ہیں، اداروں کی لازوال قربانیوں کے باعث پاکستان آگےبڑھا۔ کمیٹی نے وزیراعظم کوگرفتار کرنے کا بیان شرمناک اورقابل مذمت قرار دیا اور کہا کہ فوج نے قربانیاں نہ دی ہوتیں تو ملک میں امن نہ ہوتا۔

ادھر وزیراعظم عمران خان کی بنی گالا ميں رہائش گاہ کے باہرسیکورٹی سخت کردی گئی ہے۔ بنی گالا کے داخلی اور خارجی راستوں پر کنٹینر لگا دیے گئے ہیں اور ایف سی جوان تعینات کردئیے گئے ہیں، بکتر بند گاڑی بھی موجود ہے۔ مری روڈ سے انصاف چوک تک 3 مقامات پرکنٹینر پہنچا دیے گئے ہیں۔

ہمارے پاس بہت سے آپشن ہيں،مولانا غفور حیدری

جے یو آئی کے رہنماء مولاناعبدالغفورحیدری نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا  کہ ہم نے ایسے کوئی جھنڈے نہیں دیکھے،یہاں صرف 9 جماعتوں کے جھنڈے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہماری صفوں میں 10 ہزار ایسے رضاکار بھی ہیں جن کو میں خود بھی نہیں جانتا،وہ خفیہ طور پر تخریب کاروں پر نظر رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ  ہم سیاسی جنگ لڑنا چاہتے ہیں،عمران خان سے جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔

آزادی مارچ،اسلام آباد میں سیکورٹی ہائی الرٹ،موبائل سروس بند

اس کے علاوہ آزادی مارچ کی ممکنہ پیش قدمی کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے رابطے جاری ہیں۔اسپیکر قومی اسمبلی نے اے این پی رہنماء میاں افتخار سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے۔

میاں افتخار نے اسپیکر کو کہا ہے کہ رہبر کمیٹی اجلاس کے بعد آپ کو جواب دوں گا۔ اسپیکر کا کہنا تھا کہ مار دھاڑ نہیں ہونی چاہیے اس پر میاں افتخار نے جواب دیا کہ ہم ویسے ہی عدم تشدد کے علمبردار ہیں۔

پیپلزپارٹی کے رہنماء  نیئر بخاری نے درانی ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ چیئرمین سینیٹ نے ملاقات کے لیے رابطہ کیا تھا،انہیں بتایا ہے کہ رہبر کمیٹی کا اجلاس ہے اس کے بعد دیکھتے ہیں، رہبر کمیٹی میں جس چیز پر اتفاق ہوا اسے پارٹی قیادت کے سامنے رکھا جائے گا اور آئندہ کے لائحہ عمل پرمشاورت ہوگی۔

آزادی مارچ: آج اسلام آباد میں کون کون سی سڑکیں بند ہونگی؟

اس کے علاوہ حکومت کو 2 دن کے الٹی میٹم کے بعد سيکيورٹی ادارے چوکس ہیں۔ شہرميں حفاظتی پہرے مزيد سخت کردئیے گئے ہیں۔داخلی وخارجی راستوں پر نفری میں اضافہ کردیا گیا ہے۔آئی جی اسلام آباد کی سربراہی ميں سیکيورٹی اداروں کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کيلئے حکمت عملی تیارکی گئی۔ امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کيلئے اسلام آباد پولیس کے 12ہزار، ایف سی کے8 ہزار جبکہ رینجرز کے3 سو جوان ڈیوٹی پرمامور ہيں۔

ڈی جی آئی ایس پی آرکوفضل الرحمان کاجواب الجواب

ریڈزون بدستورسیل ہے۔جلسہ گاہ کے اطراف ميں موبائل اورانٹرنیٹ سروس تیسرے روز بھی معطل ہے۔ فیض آباد، ٹی چوک، موٹر وے ٹول پلازہ سمیت شہر کے تمام داخلی وخارجی راستوں پر تعينات اہلکاروں کو چوکنا رہنے کی ہدايت کی گئی ہے۔اعلیٰ افسران نے واضح کیا ہےکہ شہریوں کے جان ومال پر کسی بھی صورت سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

دوسرے شہروں سےکارکنان جلد اسلام آبادپہنچیں،فضل الرحمان

جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے ویڈیو پیغام میں دیگر شہروں میں موجود کارکنان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو کارکنان اور ہمدرد دیگر شہروں میں موجود ہیں،وہ جلد از جلد اسلام آباد مارچ میں پہنچ جائیں۔ مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ جو کارکنان اور ہمدرد رائیونڈ اجتماع میں شریک ہیں امید ہے وہ دعا کے بعد ہمارے قافلے میں شرکت کے لئے پہنچیں گے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
AZADI MARCH, IMRAN KHAN, PTI, PERVAIZ KHATTAK, FAZLUR REHMAN, JUIF, PM, ARMY, PMLN, PPP
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube