Wednesday, December 8, 2021  | 3 Jamadilawal, 1443

آزادی مارچ کی کوریج میں کوئی پریشانی نہیں، خواتین صحافی

SAMAA | - Posted: Nov 1, 2019 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Nov 1, 2019 | Last Updated: 2 years ago

خواتین صحافیوں کی جانب سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کی اسلام آباد میں کوریج سے روکنے کی ایک اور شکایت سامنے آئی، جس کے بعد مولانا عبدالغفور حیدری نے واضح کیا کہ خواتین صحافیوں کی جلسہ گاہ آمد پر کوئی پابندی نہیں، تاہم کئی خواتین صحافیوں کا کہنا ہے کہ انہیں کوریج میں کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 27 اکتوبر کو اسلام آباد روانہ ہونیوالے آزادی مارچ کے آغاز پر کراچی میں انڈیپینڈنٹ اردو کی ایک خاتون صحافی کی جانب سے کوریج سے روکنے کی پہلی شکایت سامنے آئی تھی، جس کے بعد قائدین کی جانب سے کارکنوں کو ہدایت کی گئی کہ خواتین کا احترام کیا جائے۔

 

آزادی مارچ کے تیسرے دن لاہور میں چینل 42 کی خاتون اینکر نے آزادانہ طور پر مارچ کی کوریج کی، قراۃ العین ہاشمی نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ حالانکہ کچھ لوگوں نے ان پر جملے کسے کہ خاتون مارچ کا ماحول خراب کررہی ہیں تاہم انہوں نے اپنا کام جاری رکھا اور دیکھنے میں آیا کہ انصار الاسلام کے رضار کار ان کی حفاظت کررہے تھے۔

جے یو آئی (ف) کا آزادی مارچ 31 اکتوبر کو پانچویں دن اسلام آباد پہنچا، جہاں عنبر شمسی اور غریدہ فاروقی سمیت کئی خواتین اینکرز اور رپورٹرز اس مارچ کی کوریج کررہی ہیں، تاہم 2 خواتین کی جانب سے کوریج سے روکنے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

جس کے بعد مولانا عبدالغفور حیدری نے جمعہ کو اسٹیج سے اعلان کیا کہ خواتین صحافیوں کو آزادی مارچ کی کوریج سے نہ روکا جائے اور ان کے ساتھ عزت سے پیش آیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ خواتین صحافیوں کی جلسہ گاہ آمد پر کوئی پابندی نہیں۔

سماء ڈیجیٹل کے رپورٹر روحان احمد سے گفتگو کرتے ہوئے پروگرام سوال کی اینکر عنبر شمسی کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے کام کے دوران کسی طرح کی کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔

چینل 5 کی رپورٹر نے بھی بتایا کہ انہیں کام کرنے میں کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور وہ انتہائی اطمینان سے کام کررہی ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
AZADI MARCH, JUIF, PPP, PMLN, FAZLUR REHMAN, PTI, IMRAN KHAN, WOMEN REPORTERS,
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube