Wednesday, December 8, 2021  | 3 Jamadilawal, 1443

آزادی مارچ:فضل الرحمان نے اداروں کو 2دن کی مہلت دیدی

SAMAA | , , and - Posted: Nov 1, 2019 | Last Updated: 2 years ago
Posted: Nov 1, 2019 | Last Updated: 2 years ago

استعفیٰ نہ ملا تو فيصلہ عوام کو کرنا ہے

جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اداروں کو2دن کی مہلت دتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم استعفے دے ديں ہم پرامن طريقے سے واپس چلے جائيں گے۔ 

جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ فضل الرحمان نے کارکنوں کو2روزتک مزيد دھرنا دينےکی ہدايت کرتے ہوئے کہا کہ استقامت کے ساتھ جمع رہنا ہے استعفے کے مطالبے پر قائم ہيں، عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈالاگيا ہے فيصلہ بھی عوام نے ہی کرنا ہے، 2 دن تک انتظار کرنا ہے،استعفیٰ نہ ملا تو فيصلہ عوام کو کرنا ہے۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ حکومت کو جاناہی جانا ہے اداروں کے ساتھ بات کرنا چاہتا ہوں، پرامن لوگ ہيں،چاہتے ہيں امن کے دائرے ميں رہيں لیکن یہ مجمع قدرت رکھتا ہے کہ وزيراعظم ہاؤس سے وزير اعظم کو گرفتار کرلے، ہماری بات بلاول، زرداری اور نوازشريف سب سن ليں، ہم جن کوسنانا چاہتے ہيں وہ سب بھی سن ليں،ورنہ انسانوں کاسمندر وزيراعظم کو بھی خود گرفتار کرسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام جماعتيں ايک جذبے کیساتھ جمع ہوئی ہيں، تمام جماعتوں کے قائدين کو خوش آمديد کہتا ہوں، وزيراعظم کے استعفے کامطالبہ زورپکڑتاجارہا ہے،ملک ميں انصاف پرمبنی نظام چاہتے ہيں، عوام کی مرضی ہے وہ جسے چاہے منتخب کريں۔

انہوں نے کہا کہ 2018 کے اليکشن کے نتائج ناقابل قبول ہيں، 25 جولائی 2018کے اليکشن کالعدم قرارديے جائيں، نااہل حکمران زيادہ دير ملک نہيں چلاسکتے، ناقص پاليسيوں کی وجہ سے ملکی معشيت تباہ ہوچکی، يہ قوم ظالم حکمرانوں سے آزادی چاہتی ہے، پاکستانی معیشت پر ایسے لوگ بٹھائے جائیں گے جو مغرب کو خوشحال بنائیں اور پاکستانی معیشت کو ان کا گروی بنائیں گے، انہوں نے پاکستانی معیشت کو غلام بنادیا، ہم پاکستان کی غلام معیشت کو تسلیم نہیں کرتے۔

ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی نکتہ فلسطینیوں کی حمایت ہے، آج اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں ہورہی ہیں، قائد اعظم نے فلسطینیوں کی زمین پر یہودیوں کے قبضے کی مخالفت کی تھی،اسرائیل کی خارجہ پالیسی کا پہلا بنیادی نکتہ نوزائیدہ مسلمان ریاست پاکستان کا خاتمہ تھا۔

نو ستارے نو بھائی، اب کس کی شامت آئی

 کشمیر کے حوالے سے مولانا کا کہنا تھا کہ ظالم حکمرانوں نے کشميرکا بھی سودا کرديا ہے، کشميريوں کی جنگ عوام لڑيں گے، ظالم حکمرانوں نے کشمير کا بھی سودا کرديا ہے،کشميری عوام کبھی خود کو تنہا محسوس نہ کريں۔

فضل الرحمان کہا جاتا ہے نوازشريف،آصف زرداری کرپٹ ہيں، عالمی رپورٹس پڑھ ليں کرپشن ميں مزيد اضافہ ہوچکا ہے، تم لوگ کرپشن کيا ختم کروگے تم نے اس ميں مزيد اضافہ کرديا ہے،ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماضی کی کرپشن کا خاتمہ دور درکنار موجودہ حکومت میں اس میں مزید اضافہ ہوگیا، کرپشن کے خاتمے کی باتیں کرنے والے خود کرپٹ اور چوروں کے چور ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور مذہب کو جدا نہيں کياجاسکتا، کہا جاتا ہے ہم مذہبی کارڈ استعمال کرتے ہيں، آپ کون ہوتے ہيں مغرب کوخوش کرنےوالے؟ پاکستانی آئین ہمیں مذہب کی بات کرنے کی آزادی دیتا ہے، آپ کون ہوتے ہوئے ہمیں اسلام کی بات سے روکنے والے آپ کون ہوتےہيں ہميں روکنےوالے؟ پاکستان ہے تو اسلام ہے،اسلام ہے تو پاکستان ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری 

اسلام آباد میں آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کے دوران بلاول بھٹو نے پہلی مرتبہ لکھی ہوئی تقریر کے بجائے فی البدیہہ اپنے خیالات کا اظہار کیا اور دوران تقریر شدید جذباتی ہوگئے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان عوام کے ووٹ سے اقتدار میں نہیں آئے بلکہ سلیکٹرز کے کاندھوں پر سوار ہوکر وزیراعظم بنے۔ اس لیے اب سلیکٹڈ کو عوام کی فکر نہیں۔ صرف سلیکٹرز کو خوش رکھا جارہا ہے جبکہ عوام پر مہنگائی اور ٹیکس کا ناقابل برداشت بوجھ ڈالا جارہا ہے۔

انہوں نے سلیکٹرز کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ڈکٹیٹر ضیاء الحق کے دور میں بھی دھاندلی ہوئی، پرویز مشرف نے بھی دھاندلی کا سہارا لیا مگر فوج کو پولنگ اسٹیشن کے اندر نہیں گھسایا۔ یہاں تک کے 2008 اور 2013 کے انتخابات کے دوران ملک میں دہشت گردی عروج پر تھی پھر بھی فوج کو انتخابی عمل میں صرف سیکیورٹی کی ڈیوٹی دی گئی مگر 2018 کے انتخابات میں نالائق کو جتوانے کے لیے فوج کو پولنگ اسٹیشن کے اندر تعینات کیا گیا اور فوجی اہلکاروں نے دوسری جماعتوں کے پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال دیا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اس سازش نے ہمارے عظیم اداروں کو متنازع کردیا ہے کیوں کہ یہ فوج عمران خان کی نہیں بلکہ ہم سب کی فوج ہے اور ہم اس کو متنازع نہیں بننے دیں گے۔

صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف

اس سے قبل جمعہ کی دوپہر حکومت مخالف آزادی مارچ سے خطاب میں ن لیگ کے صدر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یہ لاکھوں کا سمندر سلیکٹڈ حکمران اور حکومت کو بہا لے جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اب جو تبدیلی آئی گی وہ جھوٹ ، غرور اور مغالطے کو دفن کردے گی۔

 انھوں نے مزید کہا کہ میاں نوازشریف کی قیادت میں ہماری حکومت جلد قائم ہوگی جس کے بعد ہم صرف 6 ماہ میں معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کردیں گے، اگر ایسا نہ ہوا تو میرا نام شہبازشریف کی جگہ عمران خان نیازی رکھ دینا۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ پرانا پاکستان بہتر تھا، پرانےپاکستان میں نوازشریف کی قیادت میں لوگوں کو مفت دوائیاں ملتی تھیں، مگر آج دوائیاں چھین لی گئی ہیں، بتاؤ نیا پاکستان بہتر ہے یا پرانا پاکستان بہتر تھا۔

ویڈیو: آزادی مارچ سے شہبازشریف کا خطاب

اس موقع پر انہوں نے جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں مولانا فضل الرحمان کو لاکھوں لوگ اکھٹے کرنے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں،انہوں نے کہا کہ تبدیلی پہلے نہیں آئی، تبدیلی اب آئی ہے، یہ لاکھوں کا سمندر سلیکٹڈ حکومت،حکمران کو بہا لے جائیگا۔

اسلام آباد:آزادی مارچ کے پنڈال کی فضائی مناظر

اے این پی کے جنرل سیکریٹری میاں افتخار نے کہا کہ ہمیں شفاف اور نئے انتخابات چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ نئے انتخابات فوج کے بجائے الیکشن کمیشن کی نگرانی میں کروائے جائیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے اگر استعفیٰ نہیں دیا تو ہم چھین لیں گے۔

اسلام آباد:مولانا فضل الرحمان کی نمازِ جمعہ کے بعدکنٹینرپرآمد

 

قبل ازیں جمیعت علمائے اسلام کی قیادت میں چلنے والا حکومت مخالف آزادی مارچ رات گئے اپنی منزل وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچا تھا۔

 

جے يو آئی کے کارکن نے رات ايچ 9 گراؤنڈ ميں گزاری۔ اسلام آباد آنے کے بعد رات گئے مولانا فضل الرحمان دھرنے ميں پہنچے اور حکومت پر معاہدے کی خلاف ورزيوں کا الزم لگايا۔

ویڈیو: آزادی مارچ کے شرکا ایمبولینس کو راستہ دے رہے ہیں

 مارچ کے شرکا سے خطاب میں جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کارکنوں پر امن رہیں۔ ساتھ ہی يہ بھی کہا کہ حکومت اگر معاہدے کی خلاف ورزی نہيں کرے گی تو جے يو آئی بھی پاسداری کرتی رہے گی۔

مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ اسلام آباد میں داخل

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یکم نومبر کے روز شرکا نماز جمعہ کی ادائیگی کے باقاعدہ مارچ کا آغاز کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے تمام سیاسی قائدین کے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں ان تمام سیاسی رہنماؤں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے آزادی مارچ میں شرکت کی۔ اسفندیارولی، بلاول بھٹو اور ان کے کارکنان کے بھی مشکور ہیں۔ انشاءاللہ نماز جمعہ کے ساتھ ہی اسلام آباد آزادی مارچ کا آغاز ہوگا۔

حکومت مخالف آزادی مارچ: 2 مزید خواتین صحافیوں سے بدتمیزی

اسلام آباد میں آج سے حکومت مخالف شروع ہونے والے آزادی مارچ میں مزید دو خواتین کے ساتھ بدتمیزی اور ناروا سلوک کے واقعات رپورٹ ہوئے ۔ سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر صحافی عینی اور شفا یوسفزئی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ انہیں آزادی مارچ کی کوریج کے دوران روکا گیا، نہ صرف یہ بلکہ ایک بڑا ہجوم ان کی جانب بڑھا اور انہیں جلسہ گاہ کی جگہ سے دور ہونے پر مجبور کیا گیا۔ صحافی شفا کا اپنے ویڈیو میسج میں کہنا تھا کہ وہ ہاتھ میں چینل کا مائیک تھامے ٹیم کے ہمراہ وہاں گئی تھیں مگر جلسے کی سیکیورٹی پر مامور لوگوں نے انہیں وہاں سے زبردستی ہٹا دیا۔

اطلاع ملنے پر اسٹیج پر موجود جے یو آئی ف کے سینیر رہنما مولانا غفور حیدری کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ خواتین اینکرز کو آزادی مارچ کی کوریج سے نہ روکا جائے اور ان کے ساتھ عزت سے پیش آیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خواتین صحافیوں کے جلسہ گاہ میں آمد پر کوئی پابندی نہیں۔ واضح رہے کہ آزادی مارچ میں خواتین شرکت نہیں کر رہیں۔

بلاول بھٹو کی بھی مارچ میں شرکت

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی رات گئے اسلام آباد پہنچنے والے حکومت مخالف مارچ میں شرکت کیلئے پہنچ گئے۔ جلسے کے شرکا سے خطاب میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ مزدور، کسان اور چھوٹے تاجروں کا معاشی قتل ہو رہا ہے۔ پينشن کم ہونے پر بزرگ بھی پريشان ہيں۔ بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ تمام اپوزيشن جماعتيں متفق ہيں کہ وزيراعظم کو استعفیٰ دينا چاہيے، چاروں صوبے اور آزاد کشمير بھی يہ ہی مطالبہ کر رہے ہیں۔

شرکا کا ناشتہ

جمعہ کے روز صبح ہوتے ہی شرکا نے قریبی مساجد اور کھلے گراؤنڈ میں نماز ادا کی، جس کے بعد کارکنان نے اپنے ساتھ لائے چولہوں پر ناشتہ اور چائے بنائی۔ شرکا اپنے ساتھ بستر، برتن اور کھانے پینے کا سامان سمیت دیگر اشیا بھی ساتھ لائے ہیں۔ اس سے قبل متعدد شرکا نے رات گاڑیوں میں بھی گزاری۔ شرکا نے گروپوں کی شکل میں چائے اور ناشتہ بنایا۔

ریڈ زون سیل

دوسری جانب اسلام آباد میں سخت سیکیورٹی اقدامات کرتے ہوئے حکومت نے کسی بھی ممکنہ ردعمل کیلئے ریڈ زون کو سیل کردیا ہے، جب کہ سیکیورٹی کیلئے 21 ہزار اہل کار تعینات کیے گئے ہیں۔ مارچ کے پنڈال اور ارد گرد کے علاقوں میں انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔

واک تھرو گیٹس

آزادی مارچ کے پنڈال میں شرکت کیلئے مارچ انتظامیہ کی جانب سے واک تھرو دروازے بھی نصب کیے گئے، تاکہ شرکا اور مارچ کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جاسکے۔

اسلام آباد میں کون سے سڑکیں اور روٹس بند ہیں؟

دوسری جانب کمشنر اسلام آباد کی جانب سے بند کیے گئے راستوں اور روٹس کی تفصیلات بھی جاری کردی گئی ہیں۔ یہاں کلک کرکے تمام روٹس کی تفصیلات جانیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
ISLAMABAD ROUTES, ISLAMABAD ROADS, MAP OF ISLAMABAD, FAZL UR REHMAN, CONTAINERS IN ISLAMABAD, RED ZONE, ZERO POINT, PM IMRAN KHAN, #GILGITBALTISTAN #GEONEWS #DAWN NEWS #EXPRESS NEWS
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube