Wednesday, January 26, 2022  | 22 Jamadilakhir, 1443

وہاڑی میں طلبہ تنظیم کے رہنما کا قتل، ملزم کو عمر قید

SAMAA | - Posted: Oct 30, 2019 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Oct 30, 2019 | Last Updated: 2 years ago

پنجاب کے ضلع وہاڑی کی تحصیل بوریوالہ طلبہ تنظیم کے ڈویژنل رہنما کے قتل کیس میں ایک ملزم کو عمر قید کی سزا سنادی اور دو افراد کو مفرور قرار دیا جبکہ ایک ملزم کو بری کردیا۔

سماء کے نمائندہ اصغرعلی جاوید کے مطابق کیس کا فیصلہ بوریوالہ میں ماڈل کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج سلیم اقبال نے سنایا۔ مقدمہ کےایک نامزد ملزم فضل عباس عرف سپنا بھانڈ کو جرم ثابت ہونے پر عمر قید اور 3 لاکھ روپے جرمانہ کردیا گیا ہے۔ دوسرے ایک ملزم شبیر عرف شبیری کو جرم ثابت نہ ہونے ہر بری کردیا۔ مزید دو ملزمان نیاز جوئیہ اور ذیشان عرف شانی کو بیرون ملک فرار ہونے پر اشتہاری قرار دے دے دیا گیا ہے۔

قتل کب ہوا

استغاثہ کے مطابق انجمن طلباء اسلام کے ڈویژنل رہنماء صداقت خاں کو ملزمان نے 28 اگست 2018 کو لاہور روڈ پر واقع ایک شو روم کے اندر فائرنگ کر کے شدید زخمی کردیا تھا جسے تشویشناک حالت میں نشتر اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ موت و حیات کی کشکمکش میں مبتلا رہنے کے بعد 18 ستمبر کو دم توڑ گئے تھے۔ واقعہ کا مقدمہ صداقت خاں کے بھائی لیاقت خاں کی مدعیت میں تھانہ سٹی بورے والا میں درج ہوا تھا۔

مقامی ذرائع کے مطابق مقتول صداقت خان جماعت اہلسنت ( جعمیت علمائے پاکستان) کی ذیلی تنظیم انجمن طلبہ اسلام کے ڈویژنل رہنما تھے جبکہ ملزمان کا تعلق کسی تنظیم سے نہیں بلکہ مقامی جرائم پیشہ گروہ سے تھا۔

پولیس کی تفتیش کے مطابق دونوں گروہوں نے اپنے گینگز بنا رکھے تھے جس کے ذریعے وہ بوریوالا اور اطراف کے علاقوں میں منظم جرائم کرتے تھے۔ دونوں گروہوں کے ارکان کی فیس بک پروفائلز سماء ڈیجیٹل نے دیکھی ہیں جن میں وہ جدید قسم کے آتشین اسلحہ کے ساتھ تصویریں اپ لوڈ کرتے رہے۔

وجہ قتل کیا تھی

پولیس نے ایف آئی آر میں وجہ قتل کو دو گینگز کی آپس کی چپقلش قرار دیا تھا مگر دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں گروہ ایک دوسرے کے مخالف تو تھے مگر آپس میں کوئی جانی دشمنی نہیں تھی۔ صداقت خان کے قتل کی اصل وجہ ایک لڑکے سے دوستی تھی۔

ذرائع کے مطابق صداقت خان نے ایک ’نوجوان لڑکے‘ سے دوستی کرلی تھی اور اس لڑکے کا مخالف فریق کے فضل عباس عرف سپنا بھانڈ سے بھی رابطہ تھا۔

مقتول صداقت خان نے اپنے ’دوست‘ کو منع کیا تھا کہ وہ فضل عباس سے رابطہ نہ رکھے اور یہ بات فضل عباس کو ناگوار گزری۔ اس معاملے پر پہلے بھی فریقین کے مابین چھوٹی چھوٹی جھڑپیں ہوئیں اور 18 ستمبر کو مخالف گروہ نے موقع پا کر صداقت خان پر فائرنگ کردی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube