Tuesday, November 24, 2020  | 7 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > پاکستان

صلاح الدین کی والدہ عدالت میں پیش، تمام ملزمان بری

SAMAA | - Posted: Oct 30, 2019 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Oct 30, 2019 | Last Updated: 1 year ago

رحیم یار خان میں پولیس تشدد سے ہلاک ہونے والے صلاح الدین کی والدہ نے عدالت میں پیش ہو کر ملزمان کو ’اللّٰہ کی رضا کے لیے‘ معاف کر دیا۔ عدالت نے ورثاء کی رضا مندی پر تمام پولیس اہلکاروں کو بری کر دیا۔

تھانہ سٹی اے ڈویثرن پولیس کی حراست میں جاں بحق ہونے والے صلاح الدین کے قتل کیس میں عدالت نے گزشتہ پیشی پر صلاح الدین کے والد محمد افضال گھمن کو حکم جاری کیا تھا کہ عدالت ان کے معافی نامے کو نامکمل مانتی ہے جس پر اگلی پیشی 30 تاریخ کو دی گئی تھی۔

آج صلاح الدین کی والدہ نے عدالت کے روبرو پیش ہو کر صلاح الدین کے قتل میں ملوث تمام پولیس اہلکاروں کو معاف کردیا جس پر ورثاء کی جانب سے رضامندی ظاہر ہونے پر عدالت نے صلاح الدین کیس میں نامزد ایس ایچ او محمود الحسن، سب انسپکٹر شفاقت اور اے ایس آئی مطلوب سمیت تمام پولیس اہلکاروں کو بری کردیا۔

صلاح الدین کے والد نے پولیس اہلکاروں کوکیوں معاف کیا؟

گزشتہ ہفتے برطانوی نشریاتی ادارے ’’بی بی سی‘‘ نے دعویٰ کیا تھا کہ رحیم یار خان پولیس کی حراست میں جاں بحق صلاح الدین کے والد نے جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید کی درخواست پر اپنے بیٹے پر تشدد کرنے والے پولیس اہلکاروں کو معاف کیا ہے۔

صلاح الدین کے والد محمد افضال نے 17 اکتوبر کو گوجرانوالہ کے قریب اپنے گاؤں گورالی کی مسجد میں اپنے بیٹے پر تشدد میں ملوث پولیس اہلکاروں کو اللہ کے واسطے معاف کرنے کا اعلان کیا تھا۔

گرفتاری اور تشدد سے ہلاکت سے قبل صلاح الدین کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں وہ اے ٹی ایم مشین توڑتے اور اس دوران سی سی ٹی وی کیمرے کو دیکھ کر منہ چڑاتے ہوئے نظر آرہا تھا۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے صلاح الدین کو رحیم یار خان سے حراست میں لیا تھا تاہم یکم ستمبر کو دورانِ حراست تشدد کے باعث اس کی ہلاکت کی خبر سامنے آئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: صلاح الدین کی موت تشدد سے ہوئی، فارنزک رپورٹ

صلاح الدین کے والد محمد افضال نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے پولیس اہلکاروں کو اپنی مرضی سے معاف کیا۔ البتہ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ لاہور کی کیمپ جیل سے مجھے حافظ محمد سعید کا پیغام موصول ہوا تھا جس پر مجھے جیل لے جایا گیا جہاں انہوں (حافظ سعید) نے مجھے تین آپشنز دیئے، پہلا، یہ کہ اگر میں چاہوں تو پولیس اہلکار اپنی سزا کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں۔ دوسرا، وہ دیت کی رقم ادا کرنے کو بھی تیار ہیں اور تیسرا تم انہیں اللہ کی رضا کیلئے معاف کرسکتے ہو۔

پولیس رپورٹ کے مطابق صلاح الدین رحیم یار خان پولیس کی زیر حراست دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گیا تھا جبکہ معافی دینے سے قبل محمد افضال کا مؤقف تھا کہ پولیس حراست میں ان کے بیٹے کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

رحیم یار خان پولیس ترجمان کے مطابق صلاح الدین کے والد کی جانب سے معافی ملنے کے بعد ایس ایچ او محمود الحسن سمیت تینوں پولیس اہلکاروں کو ان کے عہدے پر بحال کردیا گیا ہے، جنہیں پولیس لائنز میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube