Friday, January 22, 2021  | 7 Jamadilakhir, 1442
ہوم   > پاکستان

بلوچستان یونیورسٹی اسکینڈل، رپورٹ پبلک کرنے کا مطالبہ

SAMAA | - Posted: Oct 30, 2019 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Oct 30, 2019 | Last Updated: 1 year ago

فوٹو: آن لائن

بلوچستان یونیورسٹی کے طلبہ نے جنسی ہراسانی اسکینڈل کی تحقیقات پر مبنی ایف آئی اے کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا مطالبہ کردیا۔

جامعہ بلوچستان میں طلباء کو خفیہ ویڈیوز کے زریعے بلیک میل اور ہراساں کرنے سے متعلق اسکینڈل کے خلاف طلباء تنظیموں اور سول سوسائٹی کی جانب سے یونیورسٹی کے اندر احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی کے شرکاء نے پلے کارڈز اٹھارکھے تھے جن پر مختلف نعرے درج تھے۔ طلباء نے اسکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی اور ایف آئی اے کی رپورٹ پبلک کرنے کا مطالبہ کیا۔

ادھر کوئٹہ میں بلوچستان بار کونسل، ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور دیگر وکلاء تنظیموں نے  پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ جامعہ بلوچستان سے متعلق گزشتہ روز ایف آئی آے نے اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کروا دی ہے۔ اس سلسلے میں ادارے کی بہتری کے لیے کام کیا جائے گا۔

وکلا نے کہا کہ چیف جسٹس بلوچستان کی جانب سے واقعے کے خلاف سوموٹو نوٹس کا لیا جانا خوش آئند ہے۔ جامعہ بلوچستان کے سابق وائس چانسلر کو فی الفور گرفتار کیا جانا چاہیے۔

چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی بلوچستان بار کونسل راہب بلیدی نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے مطابق یونیورسٹی کا اختیار گورنر کے پاس نہیں بلکہ وزیراعلیٰ کے پاس ہونا چاہے۔

بلوچستان یونیورسٹی اسکینڈل کی رپورٹ عدالت میں پیش

گزشتہ روز وفاقی تحقیقاتی ادارہ ( ایف آئی اے) نے بلوچستان یونیورسٹی کے جنسی ہراسانی اسکینڈل کی تحقیقاتی رپورٹ بلوچستان ہائیکورٹ میں جمع کرادی۔ چیف جسٹس جسٹس جمال مندوخیل نے اس موقع پر رپورٹ پبلک نہ کرنے کا حکم دیا۔

سماعت کے موقع پر بلوچستان اسمبلی کی تحقیقاتی کمیٹی کی چیئرپرسن ماہ جبین شیران، ثناء اللہ بلوچ، اسد بلوچ، شکیلہ نوید دہوار، قائم مقام وائس چانسلر انور پانیزئی اور ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان ارباب طاہر عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت ایف ائی اے کی جانب سے جامعہ بلوچستان اسکینڈل کی تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس جمال مندوخیل نے اراکین اسمبلی سے مکالمہ میں کہا کہ بحیثیت ارکان اسمبلی آپ پر بڑی زمہ داری عائد ہوتی ہے۔ یہ ہمارے صوبے کا معاملہ ہے۔ ہمارے بچے جامعہ بلوچستان میں پڑھتے ہیں۔ اتنے بڑے اسکینڈل کے بعد بچے بچیاں پریشانی کا شکار ہیں۔ خوشی ہے کہ ارکان اسمبلی، ایف آئی اے اور حکومت نے معاملے پر بھرپور ردعمل دکھایا۔

پارلیمانی کمیٹی کی چیئر پرسن ماہ جبین شیران نےعدالت کو بتایا کہ ہم نے یونیورسٹی کا دورہ کیا۔ شکایات کے اندراج کیلئے اشتہار جاری کیا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس میں کہا کہ ایف آئی اے کو مشکل کا سامنا ہے کہ کوئی سامنے نہیں آرہا۔ بیرسٹر سیف اللہ کا کہنا تھا کہ حساس معاملہ ہے، اعتماد کی بحالی ہوگی تو لوگ سامنے آئیں گے۔

چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ نے قائم مقام وائس چانسلر سے مکالمہ میں کہا کہ عدالت اس معاملے کی خود نگرانی کررہی ہے۔ واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ تمام مطالبات پورے ہورہے ہیں۔ اس کے باوجود طلباء کیوں یونیورسٹی میں احتجاج پر ہیں۔ ہمارا مقصد مجرم کو پکڑنا اور یونیورسٹی کی ساکھ کو بحال کرنا ہے۔ ہم ایف آئی اے کی تحقیقات یا کمیٹی پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔

ڈویژنل بینچ نے قائم مقام وائس چانسلر سے کہا کہ آپ کے پاس مکمل اختیار ہے کہ ایکٹ کے مطابق کارروائی کریں۔ اگر آپ ایکشن نہیں لے سکتے تو وائس چانسلر کے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔

عدالت نے تمام فریقوں کو ہدایت کی کہ ایف آئی اے کی رپورٹ کسی صورت پبلک نہ کی جائے۔ عدالت نے اراکین اسمبلی پر مشتمل کمیٹی اور جامعہ بلوچستان کے انتظامیہ کو چیمبر میں بھی بلایا جہاں ان سے ایف آئی اے کی رپورٹ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایف آئی اے کا اعلامیہ

دوسری جانب ایف آئی اے کے اعلامیہ کے مطابق ادارے نے 26 ستمبر 2019 کو بلوچستان ہائیکورٹ کی ہدایت پر معاملے کی تحقیقات شروع کی تھی۔ تحقیقات کے دوران یونیورسٹی اور نجی سیکیورٹی کے 15 ملازمین سے تفتیش کی گئی تاہم اس سلسلہ میں اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔

اعلامیہ کے مطابق واش روم میں نصب کیمروں سے متعلق خبریں من گھڑت ہے۔ یونیورسٹی میں جنسی ہراسگی سے متعلق شکایات درج کرانے کا کوئی فورم موجود نہیں۔ سی سی ٹی وی کیمروں اور کنٹرول روم چلانے کے لئے کوئی ایس او پی بھی موجود نہیں۔

گزشتہ ماہ بلوچستان یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس نے بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو خطوط لکھ کر آگاہ کیا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ میں شامل کچھ عناصر سیکیورٹی کے لیے لگائے گئے سی سی ٹی وی کیمروں کے ویڈیوز استعمال کرکے طلبہ و طالبات کو جنسی ہراساں اور بلیک میل کر رہے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube