ہوم   > پاکستان

فضل الرحمان کاحکومت کے خاتمہ اور نئے انتخابات کامطالبہ

SAMAA | , and - Posted: Oct 30, 2019 | Last Updated: 7 months ago
Posted: Oct 30, 2019 | Last Updated: 7 months ago

جمعیت علمائے اسلام ف کا قافلہ گوجرانوالہ پہنچ گیا

جمعیت علمائے اسلام ف کا کراچی سے شروع ہونیوالا آزادی مارچ چوتھے دن گوجرانوالہ پہنچ گیا، جس کا اگلا پڑاؤ گوجر خان ہوگا، جہاں آج رات قیام کے بعد مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں مارچ کے شرکاء کل (جمعرات کو) اسلام آباد میں داخل ہوں گے، وفاقی دارالحکومت میں جے یو آئی ایف دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ جلسے میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔

مولانا فضل الرحمان نے گوجرانوالہ کے علاقے چن دا قلعہ میں استقبالیہ کیمپ پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گوجرانوالہ کے شہریوں نے جس ولولہ کے ساتھ آزادی مارچ کا استقبال کیا اس پر سلام پیش کرتا ہوں،  ہم 25 جولائی 2018 کے الیکشن کو تسلیم نہیں کرتے، جس امانت کو لوٹا گیا تھا ہم اس کیلئے نکلے ہیں، عوام دوبارہ ووٹ دے کر صحیح حقدار چنیں۔

ویڈیو: آزادی مارچ کا قافلہ گوجرانوالہ میں داخل

انہوں نے کہا کہ ہم ناموس رسالتؐ کی حفاظت کرنے نکلے ہیں، آج ہم پاکستان کی بقاء اور سلامتی کیلئے چاہتے ہیں، یہ نا اہل حکومت ہمیں معاشی بحران سے نکال نہیں سکتی، کل پورا پاکستان مل کر اسلام آباد جائے گا، یہ جنگ پاکستان کی عوام نے لڑنی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کامونکی میں کارکنوں سے خطاب میں کہا کہ آج پوری قوم ایک صف میں کھڑی ہے، اب ہم موجودہ حکومت کا خاتمہ اور نئے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں، آج ملکی معیشت کا بیڑا غرق ہوگیا، پاکستان کی بقا کیلئے آگے بڑھنا ہے اور قدم سے قدم ملا کر اسلام آباد جانا ہے، حالات کی نزاکت اور حقائق کو سمجھنے اور آزادی مارچ میں شامل ہونے والوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔

ویڈیو: گوجرانوالہ میں آزادی مارچ کے استقبال کیلئے لوگوں کاہجوم 

مرید کے میں استقبال کیلئے آنے والے مختلف جماعتوں کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد پہنچ کر ایک ہی آواز گونجے گی، عوام کے ووٹ کی اب عزت ہوگی، عوام کے ووٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : پختونخوا کے تمام اضلاع کے قافلے کل اسلام آباد پہنچیں 

انہوں نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں ملک کی معیشت مستحکم ہو، ہمارا معاشی جہاز ڈوب رہا ہے، ہم نے ملکی سلامتی کی جنگ لڑنی ہے۔

آزادی مارچ مرید کے پہنچ گیا، فضائی مناظر 

اس سے قبل لاہور میں اپنے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ الیکشن میں بدترین دھاندلی ہوئی،اس کے نتائج تسلیم نہیں کرتے، ہم نے تواس حکمران کی پہلے دن ہی بیعت نہیں کی،ووٹ قوم کی امانت ہے اور امانت میں خیانت برداشت نہیں، ہم قوم کو اس کی امانت واپس دلانا چاہتے ہیں۔آزادی مارچ بدھ کی رات گوجر خان میں قیام کرے گا اور جمعرات کی صبح راول پنڈی اور اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگا۔

ویڈیو: جی ٹی روڈ پر بدترین ٹریفک جام

جمعیت علمائے اسلام ف کے آزادی مارچ میں شرکت کیلئے خیبر پختونخوا کے دور دراز اضلاع دیر، ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت، ہنگوں سمیت دیگر علاقوں سے قافلے منگل کو روانہ ہوگئے ہیں جبکہ وسطی اور قریبی اضلاع کے کارکنان کل اسلام آباد کیلئے نکلیں گے۔

بدھ کی دوپہر لاہور میں آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اس سفر میں آپ نے ثابت کیا کہ کسی کو کوئی خراش نہیں آئی اور آپ پرسکون اور پُرامن ہیں،آزادی مارچ کو ہر پاکستانی کی حمایت حاصل ہے اور یہ ہرمظلوم پاکستانی کی آواز اور ایک قومی تحریک کی شکل اختیار کرچکا ہے۔

مزید جانیے : راولپنڈی میں 31 اکتوبر کو تعلیمی ادارے بندرکھنے کا اعلان

انھوں نے کہا کہ ہمارا بنیادی مطالبہ ہے کہ 25 جولائی کو ہونے والے الیکشن میں بدترین دھاندلی ہوئی،اس کے نتائج تسلیم نہیں کرتے، ہم نےتواس حکمران کی پہلے دن ہی بیعت نہیں کی،ووٹ قوم کی امانت ہے اور امانت میں خیانت برداشت نہیں، ہم قوم کو اس کی امانت واپس دلانا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد میں تمام پرائیوٹ اسکولز جمعرات کو بند رہیں گے

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قادیانیوں کے ساتھ تعلقات بنانے کی کوشش آئین سے شق ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ آج ملک کی معیشت اس حد تک گرچکی ہے کہ اس سے ملک کا وجود خطرے میں پڑجاتا ہے،اس ملک کے غیوراساتذہ کو اسلام آباد کی سڑکوں پر گھسیٹا جارہا ہے۔

ویڈیو: آزادی مارچ کی کوریج کرنیوالی واحد خاتون اینکر

انھوں نے یہ بھی کہا کہ 50 لاکھ گھر گرائے تو گئے ہیں لیکن سنگ بنیاد کسی کا نہیں رکھا گیا، مغربی معیشت کے وفادار پاکستان کی معیشت کو مغرب کے پاس گروی رکھنا چاہتے ہیں۔

مزید جانیے : اسلام آباد کی تمام سڑکیں کھلی ہیں،میٹرو بھی چلتی رہے گی،ڈپٹی کمشنر

اس سے قبل، لاہور میں بدھ کی صبح صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر کسی میں حیا کی رمق بھی باقی ہو تو اس کو عوام کی رائے سمجھ لینی چاہئے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ آزادی مارچ گوجرانوالہ تک جائے اور وزیراعظم عمران خان استعفیٰ دے دیں؟ اس پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ ایک قومی تحریک ہے،اگر اسلام آباد پہنچنے کے بعد بھی نتائج نہیں ملیں گے تو تحریک نہیں رکے گی،یہ دھرنا نہیں ہے۔

آزادی مارچ دھرنا نہیں تحریک ہے،عزائم کافی آگے کے ہیں،فضل الرحمان

انھوں نے مزید کہا کہ اگر قوم کی رائے کا احترام نہ کیا گیا تو آزادی مارچ کو مزید سخت کیا جائے گا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارے عزائم کافی آگے کے ہیں۔

ویڈیو: آزادی مارچ کے لاہور میں فضائی مناظر

اس سے قبل، رات گئے لاہور پہنچنے پر مولانا فضل الرحمان کا پُرتپاک استقبال کیا گیا۔ لاہور شہر میں کئی مقامات پر شرکاء کے لیے استقبالی کیمپ لگائے گئے تھے۔ مولانا فضل الرحمان نے چوک یتیم خانہ پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی مہلت ہے کہ عمران خان استعفیٰ دے اور بھیانک انجام سے بچیں، کراچی سے اسلام آباد تک قوم یکسو ہے کہ عمران خان استعفیٰ دے ،عمران خان کے پاس اب بھی مہلت ہے کہ عزت کے ساتھ استعفیٰ دے،اب قوم عمران خان کو مزید مہلت نہیں دے گی،عمران خان نے معیشت تباہ کردی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جب معیشت تباہ ہوجائے توملک اپنا وجود کھوبیٹھتا ہے،عمران خان کشمیر فروش ہے، اس کے ہوتے ہوئے پاکستان کے جفرافیہ کو بھی خطرہ ہے۔ نوازشریف سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف استقامت اور جوان مردی سے مقابلہ کررہے ہیں ان کی صحتیابی کیلئے دعاگو ہوں،ساتھ دینے پر پیپلز پارٹی اور نون لیگ کا شکر گزار ہوں۔

آزادی مارچ کا کارواں لاہور پہنچ گیا

جمعیت علماء اسلام کے رہنماء مولاناعبدالغفورحیدری نے بتایا ہے کہ آزادی مارچ کا قافلہ ٹی چوک سے سیدھا ایکسپریس ہائی وے پر آئے گا۔ قافلہ کرال چوک اور فیض آباد سے گزرتا ہوا زیرو پوائنٹ سےکشمیر ہائی وے میں داخل ہوگا۔ آزادی مارچ کا قافلہ کشمیر ہائی وے سے پشاور موڑ جلسہ گاہ میں پہنچے گا۔

آزادی مارچ،لاہور پہنچنے کے مناظر

انھوں نے واضح کیا کہ آزادی مارچ کا قافلہ ٹی چوک سے راول پنڈی شہر کی طرف نہیں جائے گا۔ آزادی مارچ کا قافلہ آج رات گوجرخان کے قریب قیام کرے گا اور جمعرات کو دن کی روشنی میں اسلام آباد میں داخل ہوگا۔

ویڈیو: لاہور میں آزادی مارچ کے شرکاء کا قیام

اس کے علاوہ دوسرا قافلہ خیبر پختونخوا سے سے مولانا عطاء الرحمان کی قیادت میں ترنول سے کشمیر ہائی وے میں داخل ہوگا۔ جلسہ گاہ کی تیاری پر تیزی سے کام جاری ہے۔جلسہ گاہ کے آس پاس کینٹینز،لائیٹنگ اور واش رومز کا انتظام کیا جارہا ہے اورمارچ کے پہنچنے سے پہلے جلسہ گاہ مکمل تیار ہوگا۔

آزادی مارچ کے شرکاء لاہور کے چیئرنگ کراس پر جمع ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube