Monday, December 6, 2021  | 30 Rabiulakhir, 1443

آزادی مارچ کا قافلہ ملتان پہنچ گیا

SAMAA | - Posted: Oct 29, 2019 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Oct 29, 2019 | Last Updated: 2 years ago

مولانا مارچ کے شرکاء سے آج ۱۲ بجے خطاب کریں گے

جمیعت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں آزادی مارچ منگل کو علی الصبح ملتان پہنچ گیا۔ مارچ کا آغاز 27 اکتوبر کو کراچی سے ہوا تھا۔ مارچ کے دوسرے روز قافلے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید قائم علی شاہ، نثار کھوڑو اور ناصر علی شاہ بھی شامل ہوئے۔

مارچ کا قافلہ اپنے سفر کے پہلے روز اتوار کو رات سکھر میں قیام کے بعد پنجاب کی سمت روانہ ہوا اورپیر اور منگل کی درمیانی شب بہاولپور میں داخل ہوا جہاں سے وہ ملتان کی جانب چل پڑا تھا۔ پروگرام کے مطابق قافلے کو رات ملتان میں گزارنی تھی تاھم  قافلہ فجر کے وقت پہنچ پایا۔

دوران سفر سماء ڈیجیٹل کے سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیر اعظم کے مستعفی نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

مولانا مارچ کے شرکاء سے دن 12 بجے خطاب کریں گے۔

سی پی او ملتان زبیر دریشک کے مطابق ملتان میں آزادی مارچ کے شرکاء کا قیام فاطمہ جناح ٹاون ہاوسنگ اسکیم میں ہوگا، فاطمہ جناح ٹاؤن ہاوسنگ اسکیم میں آزادی مارچ کے شرکاء کے داخلے اور باہر نکلنے کے لئے راستے بنا دیے گئے ہیں۔

سی پی او زبیر دریشک نے بتایا کہ ضلع ملتان میں آزادی مارچ کے شرکاء کی سکیورٹی کے لیے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں، آزادی مارچ کی انٹرنل سکیورٹی کی ذمہ دار جے یو آئی کی انتظامیہ ہوگی۔

بلوچستان،ڈیرہ غازی خان مظفرگڑھ سے آنے والے قافلے کو بہاولپور چوک سے بائی پاس پر چڑھ کر فاطمہ جناح ٹاؤن ہاؤسنگ اسکیم پہنچنا ہے، بہاولپور سے آنے والا قافلہ بہاولپور چوک سے فاطمہ جناح ٹاون ہاوسنگ اسکیم پہنچا۔

ملتان کے سفر کے دوران ٹریفک حادثہ پیش آیا تھا، گھوٹکی کے مقام پرقافلے کی تین تیزرفتار گاڑیاں ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

سکھر

کراچی سےشروع ہونے والے جے یو آئی ف کے آزادی مارچ کے شرکاء نے مارچ کے پہلے روز  کے اختتام پر رات سکھر میں قیام کیا۔ پیر کو سکھر سے اپنی اگلی منزل کی جانب روانہ ہونے سے قبل مارچ شرکاء سے جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خطاب کیا تھا ۔

فضل الرحمان نے کہا کہ جعلی وزیر اعظم صحافیوں کو کہتے ہیں انہوں ہے کوئی پابندی نہیں لگائی پھر پیمرا کس کے کہنے پر ہم پر پابندی لگاتا ہے ؟ اس کا مطلب یہ ہوا کہ نیازی ملک کے حکمران نہیں، پیمرا ان کی بات نہیں سنتا کیوں کہ وہ جعلی وزیر اعظم ہیں ۔

فضل الرحمان نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کس منہ سےتم کشمیر کی بات کرتے ہو، تم کشمیر فروش ہو کشمیریوں کو دھوکہ مت دو ۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ان لوگوں سے سیاسی جنگ لڑنی ہے ، میدان جنگ میں ہم نکل چکے ہیں اور میدان جنگ سے ایک قدم بھی پیچھے ہٹنا گناہ کبیرہ ہوتا ہے ۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم جمہوریت کو بچانا چاہتے ہیں قانون کو بچانا چاہتے ہیں عوام کو بچانا چاہتے ہیں ۔

مارچ کے دوسرے روز قائدین کا خطاب شروع ہوا تو پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیر رہنما نثار کھوڑو نے کہا کہ ہم ایک دوسرے کا ساتھ نبھا رہے ہیں، ہم عوام کا ساتھ نبھا رہے ہیں، عمران خان نے عوام کو اکیلا کردیا ہے، ہم ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔

 
WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube