ہوم   > پاکستان

اےاین پی نے سینیٹر ستارہ ایازکو پارٹی سے نکال دیا

SAMAA | - Posted: Oct 25, 2019 | Last Updated: 7 months ago
Posted: Oct 25, 2019 | Last Updated: 7 months ago

عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے پارٹی کی مرکزی رہنما سینیٹر ستارہ ایاز کی رکنیت ختم کردی۔ رواں سال اے این پی نے تیسرے مرکزی رہنما کو پارٹی سے نکال دیا ہے۔

باچا خان مرکز پشاور سے جاری اعلامیہ کے مطابق ’سینیٹر ستارہ ایاز پر پارٹی میں گروپ بنانے، گروہ بندی کو فروغ دینے، پارٹی میں تنظیموں سے بغاوت اور پارٹی کے موقف سے منافی سرگرمیوں کا الزام تھا جس پر انہیں شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

اعلامیہ کے مطابق سینیٹر ستارہ ایاز کو شوکاز نوٹس کے ساتھ ذاتی حیثیت میں پیش ہوکر صفائی پیش کرنے کا موقع بھی فراہم کیا گیا جس میں انہوں نے صوبائی صدر ایمل ولی خان اور صوبائی کابینہ کے سامنے پیش ہوکر اپنے اوپر عائد الزامات کا جواب دیا مگر پارٹی قیادت ان کی صفائی سے مطمئن نہ ہوسکی۔

نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ صوبائی صدر نے پارٹی آئین، نظم و ضبط اور اے این پی کے مفاد میں عوامی نیشنل پارٹی کے آئین کے آرٹیکل 27 کے سیکشن 1 تحت سینیٹر ستارہ ایاز کی بنیادی رکنیت ختم کردی ہے۔

اعلامیہ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ آج کے بعد سنینٹر ستارہ ایاز کا عوامی نیشنل پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

سماء ڈیجیٹل نے سینیٹر ستارہ ایاز سے موقف جاننے کی کوشش کی مگر ان سے رابطہ نہ ہوسکا جبکہ باچا خان مرکز کے ذرائع نے نوٹی فکیشن کی تصدیق کرتے ہوئے مزید بات کرنے سے انکار کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: عوامی نیشنل پارٹی نے افراسیاب خٹک، بشریٰ گوہر کی رکنیت معطل کردی

عوامی نیشنل پارٹی میں ایک سال سے پارٹی رہنماؤں کے اخراج کا یہ تیسرا کیس ہے اور یہ رجحان ایمل ولی خان کی سیاست میں انٹری کے بعد شروع ہوا ہے۔

سینیٹر ستارہ ایاز کا تعلق صوابی سے ہے اور وہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کلائمیٹ چینج کی سربراہ سمیت متعدد دیگر کمیٹیوں کی رکن بھی ہے۔ ان کا شمار قانون سازی کے عمل میں سب سے زیادہ حصہ لینے والے سینیٹرز میں ہوتا ہے اور انسانی حقوق سمیت خیبر پختونخوا میں لاء اینڈ آرڈرز کی صورتحال پر دوٹوک موقف اپناتی ہیں۔

اس سے قبل ایمل ولی خان نے سنیئر رہنماؤں افراسیاب خٹک اور بشریٰ گوہر کو پشتون تحفظ موومنٹ کی حمایت کرنے اور ان کے پروگرامات میں شرکت کرنے پر پارٹی سے نکال دیا تھا اور یہ اخراج ایسے وقت میں کیا گیا تھا جب پارٹی کے مرکزی قائد اسفندیار ولی خان نجی دورے پر روس میں تھے۔

بشریٰ گوہر اور افراسیاب خٹک کے اخراج کے نوٹی فکیشن پر پارٹی کے مرکزی جنرل سیکریٹری میاں افتخار حسین کے دستخط تھے۔ اس وقت سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ میں نے ایمل ولی خان کی ہدایت پر نوٹی فکیشن جاری کیا ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے مرکزی رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ بھی عوامی نیشنل پارٹی کے یوتھ ونگ کے صوبائی صدر تھے مگر پی ٹی ایم میں شمولیت کے باعث اے این پی نے انہیں نکال دیا تھا۔

قوم پرست سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایم ولی خان عوامی نیشنل پارٹی میں ’آمریت‘ کی سوچ پر گامزن ہیں اور چاہتے ہیں کہ تمام تر اختیارات ان کے ہاتھ میں منتقل ہوجائیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube