ہوم   >  پاکستان

نوازشریف کی حالت تشویشناک ہے،ایم ایس سروسزاسپتال

2 months ago

اسلام آباد ہائيکورٹ نےسابق وزيراعظم نواز شریف کی سزامعطلی کیلئے درخواست پرميڈيکل بورڈ سے منگل 29 اکتوبرکورپورٹ طلب کرلی ۔ ایم ایس سروسزاسپتال لاہورنے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف کی حالت تشویشناک ہے۔ عدالت نے نواز شریف کی کیس میں فریق بننے کی درخواست بھی منظورکرلی۔

صدر ن لیگ شہباز شریف کی جانب سے دائر کردہ کی درخواست کی سماعت جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اورڈاکٹرزکی ٹیم اسلام آباد ہائيکورٹ میں پیش ہوئی، جسٹس محسن اخترکياني نے استفسار کیا کہ کیا نوازشریف کی جان کوخطرہ ہے؟ پلیٹ لیٹس ختم ہونے کی کیا وجہ ہے؟۔

ايم ايس سروسز اسپتال ڈاکٹرسلیم شہزاد نےبتايا کہ نوازشریف ہائپرٹینشن سمیت کئی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور ان کی حالت تشويشناک ہے۔ ان کے پلیٹ لیٹس بننے کے بعد خود ختم ہوجاتےہیں، بروقت علاج نہ کیا گیا تو نواز شریف کی جان کوخطرہ ہوسکتا ہے۔

نواز اور شہباز شریف کے وکيل خواجہ حارث نے عدالت سے نوازشريف کوپاکستان یا بیرون ملک مرضی کےعلاج کی سہولت دينے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ مياں صاحب کاعلاج ایک دن ميں ممکن نہيں ،معمولی تاخیرہوئی تونتائج سنگین ہوسکتے ہیں۔

جسٹس محسن نے ريمارکس ديے کہ ميڈيکل رپورٹ کے بغیرضمانت نہیں ہوسکتی۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ڈاکٹرزمریض کیلئے بہترین جج ہوتے ہیں، عدالت نےقانون سےزیادہ میڈیکل رپورٹس کودیکھنا ہے۔

عدالت نے دلائل سننےکےبعد میڈیکل بورڈ سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹرعدنان کوآئندہ سماعت پر طلب کرليا۔

ہائيکورٹ نے نوازشریف کی کیس میں فریق بننے کی استدعا بھی منظورکرتےہوئے سماعت منگل 29 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

 

شہبازشریف نے نواز شریف کی سزامعطلی کی درخواست دائر کردی

 

یاد رہے کہ گزشتہ روزچیئرمین نیب اورڈی جی نیب لاہورکو فریق بناتے ہوئے شہبازشریف نےدرخواست میں موقف اختیارکیا تھا کہ نوازشریف کو ضمانت پر رہا کیا جائے اوران کی مرضی کے مطابق پاکستان میں یا بیرون ملک علاج کرانےکی اجازت دی جائے۔ سروسزاسپتال کےڈاکٹرزابھی تک ان کی بیماری کی تشخیص نہیں کر سکے۔ نواز شریف کا بون میرو پلیٹ لٹس نہیں بنا رہا اور بیماریوں سےبچاؤ کیلئے ان کا مدافعتی نظام کمزورہوچکا ہے۔

شہبازشریف نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے استدعاکی کہ میں ‏پاکستان میں شریف خاندان کا واحد مرد ہوں جو قید نہیں ۔ نوازشریف میرے والد کی جگہ رکھنے والے بڑے بھائی ہیں۔ ان کی جان کو شدید خطرہ ہےلاحق ہے اس لیے انہیں ضمانت پررہا کیا جائے۔

درخواست کو اعتراض کےساتھ سماعت کیلئےمقررکیا گیا تھا۔ رجسٹرارآفس نے درخواست میں سزا معطل کرنے کی استدعا پراعتراض عائد کرتے ہوئے کہا شہبازشریف، نواز شریف کی اپیل میں متاثرہ فریق نہیں ہیں۔

یادرہے کہ العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا پانے والے سابق وزیراعظم نوازشریف کوٹ لکھپت جیل میں قید تھے جہاں سے منگل 22 اکتوبر کوپلیٹ لیٹس کم ہونے کے بعد طبیعت بگڑنے پرانہیں لاہور کے سروسز اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں