Monday, September 21, 2020  | 2 Safar, 1442
ہوم   > پاکستان

سندھ ہائیکورٹ کا کینسر اتھارٹی کے فوری قیام کا حکم

SAMAA | - Posted: Oct 23, 2019 | Last Updated: 11 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 23, 2019 | Last Updated: 11 months ago

پانچ سال میں ایک لاکھ 75ہزار افرادمنہ کے کینسرکا شکار

سندھ بھر میں 5 برسوں کے دوران پونے 2 لاکھ افراد منہ کے کينسر ميں مبتلا ہوئے جن میں سے 99 فيصد مريض گٹکا اور ماوا کھانے والے ہيں۔ ڈی جی ہیلتھ نے سندھ ہائيکورٹ میں رپورٹ جمع کرادی، عدالت عالیہ نے جنگی بنيادوں پر حکومت کو کينسر اتھارٹی قائم کرنے کا حکم دے ديا، جناح اسپتال کو 60 کروڑ کی گرانٹ بھی دینے کی ہدایت کردی۔

ڈی جی ہیلتھ سندھ نے عدالت عالیہ میں رپورٹ جمع کرائی جس میں بتایا گیا ہے کہ سندھ بھر ميں 5 سال کے دوران پونے دو لاکھ افراد منہ کے کینسر میں مبتلا ہوئے جن میں سے 99 فيصد افراد گٹکا اور ماوا جیسی مضر صحت اشياء کے استعمال کے باعث جان لیوان مرض کا شکار ہوئے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سب سے زيادہ 83 ہزار مريضوں کا سول اسپتال کراچی ميں علاج ہوا، کراچی کے کرن اور بيت السکون اسپتال ميں بھی ہزاروں مريض لائے گئے، جبکہ لِنار لاڑکانہ، نورين اسپتال بينظیرآباد اور جامشورو کے نمرا اسپتال میں بھی ایسے مریضوں کا علاج کیا گیا۔

عدالت نے سندھ حکومت کو فوری طور پر کینسر اتھارٹی بنانے کا حکم دے ديا جبکہ 60 کروڑ گرانٹ کی استدعا پر ہائیکورٹ نے جناح اسپتال کيلئے فوری فنڈ ريليز کرنے کی بھی ہدايت کردی۔

عدالتی حکم پر سندھ بھر میں گٹکا، ماوا، مین پوری سمیت دیگر اشیاء بنانے، بیچنے اور استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے، پولیس کی جانب سے اس حکم پر سختی سے عمل کروایا جارہا ہے، شہر کے تقریباً تمام سیگریٹ و پان شاپس پر ان مضر صحت اشیاء کی فروخت مکمل طور پر بند ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
SHC, GUTKA, MAWA, CANCER, CANCER AUTHORITY, SINDH, PPP, HEALTH DEPARTMENT,
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube