ہوم   > پاکستان

کوہستان،ایجوکیشن افسر کے اندھے قتل کا معمہ حل

SAMAA | - Posted: Oct 21, 2019 | Last Updated: 8 months ago
Posted: Oct 21, 2019 | Last Updated: 8 months ago

خیبر پختونخوا کے دور دراز ضلع کوہستان میں ضلعی ایجوکیشن آفیسر نواب علی خان کے اندھے قتل کا معمہ حل ہوگیا۔ پولیس نے مقامی ایم پی اے سمیت 11 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے 9 افراد کو گرفتار کرلیا جبکہ ایم پی سمیت 2 ملزمان روپوش ہیں۔ گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر کے 7روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ( ڈی پی او) کوہستان افتخار خان اور ڈی پی او مانسہرہ زیب اللہ خان نے پیر کو مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان نے نواب علی خان کو کلاس فور اور ڈرائیورز کی خالی آسامیوں پر من پسند افراد بھرتی نہ کرنے پر قتل کیا ہے۔

پولیس حکام نے کہا کہ واقعہ کے ڈی آئی جی ھزارہ مظہرالحق کاکا خیل کی ہدایت پر آر پی او ہزارہ نے تجربہ کار پولیس افسران پر مشتمل انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی جس نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مانسہرہ زیب اللہ خان اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کولائی پالس افتخار احمد کی زیر نگرانی تفتیش شروع کی۔

تفتیشی ٹیم میں ایس پی انوسٹی گیشن کولائی پالس ارشد محمود، ڈی ایس پی پالس حبیب الرحمان، ڈی ایس پی پٹن ریاض خان، ڈی ایس پی انویسٹی گیشن مانسہرہ عاشق حسین، ایس آئی فیاض خان، ایس آئی محبوب الرحمن اور ایس آئی عاقبت شاہ شامل تھے جنہوں نے تفتیش کرکے اندھے قتل کا معمہ حل کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں: کوہستان ميں ڈسٹرکٹ ايجوکيشن افسر قتل

دوران تفتیش یہ بات سامنے آئی کہ قتل سے قبل 26 ستمبر کو ملزمان نے نواب علی خان کو ایبٹ آباد میں سابق ناظم کے گھرمیں حبس بے جا میں رکھ کر تقرریوں کے لیٹر پرزبردستی دستخط کروائے مگر مقتول نواب علی خان نے بعد ازاں تمام تعیناتیوں کو کالعدم قرار دیا تھا۔ قتل کے دن بعد بھی ملزمان نے مقتول کو سارا دن دفتر میں بند کیے رکھا اور زبردستی بھرتیوں کے آرڈر پر دستخط کرانے کی کوشش کی گئی مگر مقتول نے دباؤ تسلیم نہیں کیا جس پر ملزمان نے اس کو قتل کرکے واقعہ کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی۔

پولیس کی تفتیش مکمل ہونے کے بعد مقتول کے بھائی محمد علی خان نے تھانہ پالس کولائی کوہستان میں مقدمہ درج کراتے ہوئے رکن خیبر پختونخوا اسمبلی عبید الرحمن، سب ڈویژنل ایجوکیشن آفیسر کولائی پالس محمد اقبال ولد حکمت، سینئر کلرک بادل خان، کلرک پسند خان، محمد اقبال ولدگلاب، عبدالودود ولد مشید گل، دوست محمد ولد عجاب، عبداللہ ولد عبدالکریم،  اسکول ٹیچر نورالحق ولد فخرالدین، فخرالدین ولد عبدالوہاب اور ذاکر سمیت 11 ملزمان کو نامزد کیا ہے۔

پولیس نے مقدمہ میں نامزد 9 ملزمان کو گرفتار کر لیا جن کوگزشتہ روز بشام عدالت میں پیش کرکے سات روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جبکہ رکن صوبائی اسمبلی مفتی عبیدالرحمن اور ذاکر روپوش ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایجوکیشن افسر کے قتل کیخلاف ملاکنڈ میں اساتذہ کا احتجاج

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مانسہرہ زیب اللہ خان نے کہا کہ آلہ قتل 30 بور پستول اور موقع سے برآمد خول فارنزک ٹیسٹ کیلئے بھجوائے گئے جو یکساں پائے گئے اور قمیص اور کارپٹ پر موجود خون کے  نمونے بھی میچ کر گئے ہیں۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے واقعہ کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا کہ کہا کہ مقتول نے 26 ستمبر 2019 کو کلاس فور اور ڈرائیورز کی پوسٹوں پر 17 افراد کا آڈر کیا تھا جو بعد میں اس نے وقوعہ والے دن  کالعدم قرار دیا تھا۔ مقتول پر رکن صوبائی اسمبلی مفتی عبیدالرحمان اور اس کے حواریوں اور تمام دفتر اسٹاف کی طرف سے سخت دباؤ تھا کہ مزید چار ڈرائیوروں کو بھرتی کیا جائے مگر انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ مقتول کو وقوعہ سے 20 دن قبل 26 ستمبر کو ایبٹ آباد میں سابق ناظم جیجال عزیز کے مکان میں لے جا کرٹارچر بھی کیا گیا۔ ان کے خلاف بھی کاروائی عمل میں لائی جائے گی جبکہ اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی سے اجازت کے بعد ایم پی اے مفتی عبیدالرحمن کی گرفتاری بھی عمل میں لائی جائے گئی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube