ہوم   >  پاکستان

پاکستان بمقابلہ بھارت: کیا اب بچے جنگ لڑیں گے؟

3 weeks ago

تصویر : اے ایف پی

سولہ سالہ مصب کراچی کے عثمان پبلک اسکول میں آٹھویں جماعت کے طالب علم ہیں، آپ نے انہیں اسلامی جمعیت طلبہ کی جانب سے بنائی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا ہوگا۔ اس ویڈیو میں مصب ہندوستان کو للکارتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’سن لو آر ایس ایس کے دہشتگردوں ۔۔۔ اب ہر مسلمان کی شہادت کا بدلہ لیں گے، کیونکہ اب ہند بنے گا پاکستان‘‘۔

اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کی دائیں بازو کی جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم ہے۔ ان کی جانب سے بنائی گئی ویڈیو میں پانچ بچوں کو ہندوستان میں مسلمانوں پر ہونے والی زیادتیوں پر بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
اسی ویڈیو میں ایک اور بچہ کہتا ہے کہ ’’کتنا مزہ آئیگا جب ہم دہلی گیٹ پر بیٹھ کر گائے کے کباب کھائیں گے‘‘۔

اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ پر ہندوستانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی جاتی رہی اور ان تنظیموں پر بچوں کی ’’برین واشنگ‘‘ کرنے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔
بھارتی چینل اے بی پی نیوز پر ایک اینکر کہتے ہوئے سنائی دئیے کہ نفرت میں مبتلا پاکستان اپنی ہی نئی نسل کو برباد کرنے پر اُتر آیا ہے، صرف یہی نہیں بھارتی اینکر نے ویڈیو میں موجود بچوں کو معسود اظہر جونئیر او حافظ سعید تک کے القابات دے ڈالے۔
جماعت اسلامی گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں جہاد کا مطالبہ کرتی آئی ہے اور اس کے قائدین کشمیر جہاد سے منسلک کئی شخصیات بشمول سید صلاح الدین اور مست گل کیساتھ متعدد بار جلسوں اور ریلیوں میں دیکھے گئے ہیں۔

تصویر : اسلامی جمعیت طلبہ

اسلامی جمعیت طلبہ کی جانب سے بنائی گئی تازہ ویڈیو کا مقصد شاید لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ کشمیر جہاد آج بھی جماعت اسلامی کی پالیسی کا حصہ ہے۔
صحیبہ چوتھی جماعت میں پڑھتی ہیں اور ان پانچ بچوں میں سے ایک ہیں جو ویڈیو میں نظر آتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنی اگلی چھٹیاں شملہ میں گزاریں۔
سماء ڈیجیٹل نے ان سے پوچھا کہ وہ شملہ کیوں جانا چاہتی ہیں؟ صحیبہ نے وہی دہرایا جو ویڈیو میں پہلے ہی بتاچکی ہیں کہ انہیں شملہ جانا ہے، شاید اس لئے کہ ویڈیو کی اسکرپٹ میں یہی لکھا تھا۔
اس بچی کا کہنا ہے پہلے وہ شملہ جائے گی اور پھر گوا کیونکہ انڈیا فتح ہونے کے بعد پاکستان کا ہی ہونا ہے۔
صحیبہ کے سولہ سالہ بھائی مصب کشمیر کے بارے میں کافی کچھ جانتے ہیں کیونکہ وہ سوشل میڈیا اور دیگر ویب سائٹس پر کشمیر کے حوالے سے ویڈیوز دیکھتے رہتے ہیں۔
سولہ سالہ مصب سمجھتے ہیں کہ جماعت اسلامی کشمیر کے مسئلے کو اچھی طرح اُجاگر کررہی ہے اور ان کا ماننا ہے کہ صرف جہاد ہی مسئلہ کشمیر کا واحد حل ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ کشمیر ہمارا ہی ہے اور اب ہند بھی پاکستان بنے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو بارڈر کھول دینا چاہیے اور پاکستان نوجوانوں کو کشمیر میں جہاد کی اجازت بھی دے دینی چاہیے۔
مصب نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ اگر وہ پاکستان کے وزیراعظم ہوتے تو اب تک اپنی فوج کشمیر بھیج چکے ہوتے، ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی نوجوان کچھ بھی کرسکتے ہیں، اس لئے انڈیا کو ہمیشہ تیار رہنا چاہیے۔
اس ویڈیو کے جواب میں بھارتی چینل زی نیوز نے بھی کچھ بچوں کو لے کر ایک ویڈیو بنائی۔ اس ویڈیو میں بھارتی بچے پاکستانی بچوں کو اپنی تعلیم پر فوکس کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے دکھائی دئیے۔
ایک اور بھارتی بچے نے کہا کہ جب دہشتگردوں نے پشاور میں بچوں کو مارا تو اس دن ان کی ماں بھی روئی تھی۔
سمینہ یاسمین، جو کہ یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا میں پروفیسر ہیں اور انگریزی کتاب جہاد اینڈ دعوۃ کی لکھاری ہیں، کہتی ہیں کہ صرف جماعت اسلامی ہی نہیں بلکہ کئی اور مسلم اور غیر مسلم گروپ بچوں کو عسکری کاروائیوں کے لئے مہرے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
سمینہ یاسمین نے سماء ڈیجیٹل کو مزید بتایا کہ جماعت اسلامی اور اس کی ذیلی تنظیمیں جہادی آئیڈیاز کو پھیلانے میں ملوث رہی ہیں، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بچوں سے اس طرح کی ویڈیوز بنوانے سے بچے تنازعات کو لے کر بچے غیر حساس ہوسکتے ہیں۔
اس ویڈیو کو بنانے کا آئیڈیا صحیب جمال کا تھا۔ یہ کراچی میں ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی چلاتے ہیں اور ان کے مطابق ان کی تربیت ماضی میں اسلامی جمعیت طلبہ نے کی ہے۔
انہوں نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ جمعیت کو اپنے ایک پروگرام کے لئے پرومو چاہیے تھا تو انہوں نے سوچا اس بار کچھ ’’آوٹ آف دا باکس‘‘ سوچا جائے۔

تصویر : سماء ڈیجیٹل

صحیب کا کہنا ہے کہ بھارت کو بچوں کے زریعے پیغام دلوانا چاہتے تھے کیونکہ بچے ہوتے تو کمزور ہیں لیکن ان کا عزم بہت بلند ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم تھا کہ اس ویڈیو کی گونج بھارت میں سنائی دے گی اور یہ ویڈیو بنانے کا مقصد بھی یہی تھا۔
صحیب کے مطابق مسلمان بچوں کی ایک تاریخ ہے۔ محمد بن قاسم کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سترہ سال کی عمر میں انہوں نے دیبل فتح کیا تھا اور راجہ داہر جیسی طاقت کو مات دی تھی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس ویڈیو میں ایک بچہ سولہ سال کا ہے، ایسا نہ ہو کہ وہ بھی محمد بن قاسم کی طرح اگلے سال ایک سپاہ سالار بن جائے۔
تاہم اسلامی جمعیت طلبہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتی کہ وہ بچوں کی برین واشنگ کررہے ہیں بلکہ ان کے مطابق وہ تو بچوں کی ذہن سازی کررہے ہیں۔
عبدلاحد طلحہ اسلامی جمعیت طلبہ کے انفارمیشن سیکریٹری اور جامعہ کراچی کے طالب علم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ویڈیو بنانے کا مقصد لوگوں میں جذبہ جہاد بیدار کرنا تھا۔
وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں اچھی تقریر کی تھی لیکن اس کے بعد کوئی عملی اقدامات نہیں کئے۔
ان کا کہنا تھا کہ انڈیا ایک ’’بزدل‘‘ ملک ہے، جبکہ پاکستانی فوج میں جذبہ جہاد بھرا ہوا ہے۔
تجزیہ کار زاہد حسین کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کے کارکنان 90 کی دہائی میں کشمیر جہاد میں شامل رہے ہیں اور حزب المجاہدین اور البدر جیسے جہادی گروہوں سے منسلک رہے ہیں۔

تصویر : اے ایف پی

لیکن اب ان کے خیال میں اب ایسا ممکن نہیں کیونکہ 90 کی دہائی میں جہادی گروہوں کو ریاست پاکستان کی حمایت حاصل تھی لیکن آج ایسا نہیں۔
زاہد حسین کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کے لئے دہشتگردی ایک بڑا مسئلہ ہے اور پاکستان کی جانب سے کشمیر میں جہاد کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

 

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں