ہوم   >  پاکستان

کراچی: ٹرک ڈرائیوروں کا قتل، ملزمان تاحال گرفتار نہ ہوسکے

4 weeks ago

کراچی میں سپر ہائی وے پر قتل ہونیوالے 3 ٹرک ڈرائیوروں کے مقدمہ میں پولیس نے تاحال کسی کو گرفتار نہیں کیا۔

گزشتہ روز کاٹھور موڑ پر احتجاج کرنے والے ڈرائیوروں پر فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے اہلکاروں نے فائرنگ کردی تھی جس میں 3 ڈرائیور جاں بحق ہوگئے تھے۔

جاں بحق ہونے والے ڈرائیوروں میں نیاز علی، سعد ایوب اور محمد رسول شامل ہیں، تینوں کا تعلق شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ سے تھا۔

کراچی گڈز کیریئر ایسوسی ایشن کے فنانس سیکریٹری کلیم رضا نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ لوڈ زیادہ ہونے کی وجہ سے ٹرکوں کو ٹول پلازہ کراس کرنے نہیں دیا جارہا تھا، جس پر ڈرائیوروں نے ایف ڈبلیو او کے گارڈز پر پتھراؤ کیا۔

انہوں نے کہا کہ موقع پر سیکڑوں ٹرک ڈرائیورز موجود تھے، اس لئے ایف ڈبلیو او اور موٹر وے اہلکاروں نے ’خود کو بچانے‘ کیلئے فائرنگ کردی۔

واقعے کے بعد ٹرانسپورٹرز نے کراچی حیدرآباد موٹر وے پر دھرنا دیکر ٹریفک بند کردیا تھا، مگر رات گئے حکام سے مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کردیا گیا۔

کراچی گڈز کیریئر ایسوسی ایشن کے صدر رانا اسلم نے بتایا کہ ایف ڈبلیو او کے ایک بریگڈیئر اور 2 کرنل سمیت کراچی پولیس کے اعلیٰ حکام عامر فاروقی اور شرجیل کھرل بھی رات گئے مذاکرات میں موجود تھے۔

رانا اسلم نے کہا کہ ہمارے 3 مطالبات تھے، جن میں سب سے پہلا ایف ڈبلیو او کے اہلکاروں کیخلاف ایف آئی آر کا اندراج تھا، جس پر عملدرآمد ہوگیا ہے، اس کے علاوہ جاں بحق ہونیوالے ڈرائیوروں کے اہلخانہ کی مالی مدد اور آئندہ اس قسم کے واقعات نہ ہونے کی یقین دہانی بھی مطالبات میں شامل تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف ڈبلیو او کے گارڈز ہوائی فائرنگ کرکے یا پاؤں پر گولی مار کر مظاہرین کو منتشر کرتے تو اتنا بڑا نقصان نہ ہوتا۔

ایک ٹرک ڈرائیور نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ جن ٹرکوں کو اوور لوڈ کی وجہ سے 3 دن تک روکا گیا تھا انہیں بھی گزشتہ رات جانے دیا گیا، اگر ایف ڈبلیو او کا مقصد قانون پر عملدرآمد کروانا تھا تو انہیں اتنے بڑے نقصان کے بعد کیوں جانے دیا گیا۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
KARACHI, FWO, DIRVERS KILLING, KGCA, POLICE, RANGERS, PROTEST, TRUCK DRIVERS