ہوم   >  پاکستان

جمرود، کمسن طالب علم کا قاتل اسکول ٹیچر گرفتار

1 month ago

ضلع خیبر کی تحصیل جمرود کے علاقہ ٹیڈی بازار میں قتل ہونے والے کمسن طالب علم کے قتل کا معمہ حل ہوگیا. کاشف خان کو مبینہ طور پر اس کے اسکول ٹیچر روئیداد خان نے قتل کیا۔ پولیس نے واردات میں استعمال ہونے والی پستول اور موٹر سائیکل بھی برآمد کرلی ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خیبر محمد حسین نے اتوار کو جمرود پریس کلب میں پبلک پراسیکیوٹر میاں عزیز خان، ڈی ایس پی جہانگیر خان، انویسٹی گیشن آفیسر عابد آفریدی اور ایس ایچ جمرود حاجی گلا جان کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران مبینہ ملزم روئیداد خان ولد خیال باز کو چہرے پر کپڑا ڈال کر میڈیا کے سامنے پیش کیا۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے بتایا کہ جمرود کے علاقہ نیو آبادی سے 7 اور 8 اکتوبر کی درمیانی شب نجی اسکول کا 15 سالہ طالب علم کاشف خان لاپتہ ہوا اور اگلے ہی روز یعنی 8 اکتوبر کو علاقہ ٹیڈی بازار سے اس کی لاش برآمد ہوئی جسے فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام کے بعد پولیس کیلئے اندھے قتل کا کا پہلا واقعہ تھا۔ پولیس نے جدید طرز پر تحقیقات کا عمل شروع کیا اور مقتول کا پوسٹمارٹم کرنے کیلئے قبرکشائی بھی کی گئی جبکہ شک کی بنیاد پر ملزم اسکول ٹیچر روئیدادخان کے ہمراہ درجن بھر افراد کو حراست میں لے کر شامل تفتیش کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں: ضلع خیبر میں کسمن طالب علم  قتل

دوران تفتیش ملزم روئیداد خان ولد خیال باز نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے مقتول طالبعلم کاشف خان کو منع کیا تھا کہ وہ دیگر افراد کیساتھ اٹھنا بیٹھنا اور ملنا جلنا بند کرے لیکن وہ باز نہیں آیا جس پر میں نے فائرنگ کرکے کاشف خان کو قتل کردیا۔

ڈی پی او کے مطابق ملزم کی نشاندہی پر واردات میں استعمال ہونے والی پستول اور مقتول کا موبائل فون بھی برآمد کرکرلیا گیا ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے کیس میں مثبت رپورٹنگ پر میڈیا کا شکریہ ادا کیا اور کیس حل کرنے پر پولیس اہلکاروں کیلئے 20 ہزار روپے نقد انعام بھی دیا۔

دوسری جانب مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم روئیدار خان کاشف کے اسکول میں ہی ٹیچر اور تحریک انصاف کے اسٹوڈنٹ ونگ انصاف اسٹوڈنٹ فیڈریشن کا رہنما ہے۔ ملزم کی تحریک انصاف کے ایم این اے اور وفاقی وزیر مذہبی امور پیرنورالحق قادری کے ساتھ درجنوں تصاویر ہیں جو الیکشن مہم اور بعد میں کھینچی گئیں۔ ملزم سے برآمد ہونے والی ہیوی بائیک بھی تحریک انصاف کے رنگوں سے مزین ہے۔

یاد رہے کہ خیبر پختونخوا کے وسطی اضلاع چارسدہ، پشاور، خیبر اور مردان میں اس نوعیت کے واقعات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں جہاں ’دوستی‘ سے انکار یا کسی اور کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے پر ’دوست‘ کو قتل کیا جاتا ہے۔

مقامی صحافی وحیداللہ آفریدی نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ملزم ٹیچر روئیدادخان کے اقبال جرم سے طالب علم کاشف خان کے ساتھ ’خصوصی تعلق‘ کے اشارے ملتے ہیں۔ قبل ازیں علاقہ جمرود میں بچوں کہساتھ جنسی تشدد کے واقعات کی اطلاعات ضرور ملی ہیں تاہم مذکورہ واقعہ اپنی نوعیت کا منفرد واقع ہے جس میں طالبعلم کاشف خان کی جان لے لی گئی۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی معاشرے میں دیگر جرائم کی طرح بچوں کے ساتھ جنسی تعلقات کیلئے بھی سخت سزائیں مقرر ہیں مگر فاٹا انضمام کے بعد انارکی کی صورتحال سے جرائم میں اضافہ ہوا ہے کیوں کہ پولیس کا ابھی تک علاقے پر مکمل کنٹرول نہیں ہے۔

 
TOPICS:

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں